بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی نیٹ ورک CNN کے تجزیئے کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لئے ابتدائی "زیادہ سے زیادہ اہداف" (مثلاً ایران کا سرتسلیم خم کرنے اور رجیم چینج وغیرہ وغیرہ) سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ اب اس جنگ کا بنیادی مقصد صرف دو چیزیں رہ گئی ہیں:
1- خلیج فارس سے تیل اور گیس کی بلا تعطل برآمد کو یقینی بنا کر امریکہ میں توانائی کی قیمتیں کم رکھنا،
2- ایران کو ایٹمی ہتھیار تک رسائی سے روکنا۔ [جو دوسرے درجے کی اہمیت رکھتا ہے]
حیران کن بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے مئی میں توانائی کی قیمتوں کو کوئی اہمیت دینے سے انکار کیا تھا، مگر اب یہی "ہدف نمبر ایک" قرار دے دیا گیا ہے۔
سی این این (CNN) کے مطابق، یہ تبدیلی دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ چھ ماہ سے جاری جنگ کے بعد امریکہ کو کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی، اور اب وہ صرف جنگ سے پہلے کی صورتِ حال (آبنائے ہرمز کی بحالی) پر رضامند ہو رہا ہے؛ جو کہ اس کی ابتدائی جارحانہ پالیسیوں کے مقابلے میں ایک معمولی اور شرمناک حصولیابی ہے۔
نتیجہ: ٹرمپ کے ابتدائی اعلان کردہ اہداف سے یہ عظیم پسپائی اس بات کی علامت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ عملی طور پر جنگ سے نکلنے کے لئے اپنی شرائط کم کر رہی ہے، اور یہ جنگ امریکہ کے لئے نہ صرف کوئی معقول فائدہ نہیں لا سکی ہے بلکہ اس کے تمام اڈے تباہ ہو چکے ہیں، خلیج فارس کی عرب ریاستیں انہیں دوبارہ اڈے دینے کے مسئلے پر تذبذب کا شکار ہیں، اور دوسری طرف سے ایران ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور امریکہ کو مغربی ایشیا سے نکلنے کے بارے میں سوچنا پڑ رہا ہے۔
نکتہ:
جنگ سے پہلے کی صورت حال یہ تھی کہ امریکہ خطے پر حکمرانی کر رہا تھا، تمام عرب ریاستوں میں امریکی اڈے تھے، آبنائے ہرمز ایران کے خرچے پر دنیا کے لئے کھلا تھا! جنگ میں اسلامی انقلاب کے رہبر شہید ہو گئے، اسکولوں کے چھوٹے بچوں سمیت ہزاروں افراد شہید ہو گئے، ایران کو نقصان پہنچا، اور دوسری طرف سے مغربی ایشیا پر امریکی حکمرانی کی جڑیں اکھڑ گئیں، عرب ریاستوں میں امریکی اڈے تباہ ہو گئے، آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں آگیا، ایران دنیا کی تیسری یا چوتھی بڑی طاقت بن گیا، تو اب سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کس ماضی کی طرف پلٹنے کے لئے تیار ہے؟ کیا یہ ماضی پلٹ سکے گا؟ کیا ایرانی قوم، امت مسلمہ اور شیعیانِ عالم قائدِ شہیدِ امت اور اپنے مرجع تقلید کا خون بھول جائے گا؟ کیا ایران پھر بھی آبنائے ہرمز کو اپنے خرچے سے مفت میں امریکہ اور اس کے غلاموں کے سپرد کرے گا؟ کیا امریکہ پھر بھی مغربی ایشیا پر حکمرانی کر پائے گا؟ کیا امریکہ اڈوں کی بحالی کی اجازت دے گا؟ ہرگز نہیں! چنانچہ
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے فرمایا:
"زمانے کی سوئی پھر کبھی واپس نہیں پلٹے گی۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ