بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی صدر نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کی ملکیت کے بارے میں جو بیانات دیئے تھے، اور وائٹ ہاؤس کے حکام نے اس کے دعوؤں کو 'مذاق' قرار دیا تھا، لیکن آج اس نے ایک بار پھر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس آبی گذرگاہ کی ایک تصویر شائع کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو "نیا امریکی علاقہ" قرار دیا!!
ٹرمپ، جس کے پاس گرین لینڈ سے لے کر ہرمز تک ناکام خواہشات کی فہرست موجود ہے، اس سے قبل بھی دعویٰ کر چکا ہے کہ "ایران کی شکست" کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو "ریاستہائے متحدہ کا علاقہ" قرار دے گا، اور ایک بار پھر ایران کے زیرِ کنٹرول اس آبی گذرگاہ پر اپنے کنٹرول کا دعویٰ دہرایا جو عالمی سطح پر تضحیک کا نشانہ بن گیا۔

ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور سینئر مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے آج ان بیانات کے جواب میں تاکید کی کہ ایران اس وقت تک آبنائے ہرمز کو نہیں کھولے گا جب تک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں درج شرائط ـ جن میں بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واپسی، تیل کی برآمدات پر کی پابندیوں کا خاتمہ، اور پورے خطے میں امریکی فوجی دھمکیوں اور کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہیں ـ کی تکمیل نہیں ہو جاتی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر کاظم غریب آبادی نے بھی ٹرمپ کے آج کے پیغام پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اُس کی شائع کردہ تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایکس پلیٹ فارم پر لکھا: "جس طرح ٹرمپ نے خلیج فارس کا نام درست لکھا، اسی طرح ہم جلد ہی آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی وہمی ٹرمپ کے وہمیات کو درست کر دیں گے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ