16 اگست 2026 - 23:41
امریکہ کی تذلیل چاہئے؛ نہ کہ اس کے ساتھ مفاہمت / یہاں تک کہ دنیا سید مجتبیٰ کے ایران کو سلام کرے گی!

ٹرمپ اسلامی جمہوریہ کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے ساتھ ساتھ اطاعت کا داغ بھی اپنے نام نہیں کرنا چاہتا؛ چاہے اس کی قیمت عالمی معیشت کی تباہی ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئے اس پلید وجود کی باقی ماندہ صدارت میں مفاہمت کے امکانات بہت کم ہیں۔ / ایران کے عوام اور حکومت کو صرف امریکہ کی تذلیل چاہئے؛ نہ کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت؛ اس دن کی امید لے کر کہ، دنیا سید مجتبیٰ کے ایران کو سلام کرے!

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ ایران کے مقابلے میں پابندیوں اور ناکہ بندی کے ذریعے صف آرا رہے گا، کیونکہ وہ اسلامی جمہوریہ کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے ساتھ ساتھ ہتھیار ڈالنے کا داغ بھی، اپنے نام نہیں کرنا چاہتا؛ چاہے اس کی قیمت عالمی معیشت کی تباہی ہی کیوں نہ ہو! چنانچہ اس پلید وجود کی باقی ماندہ صدارت میں مفاہمت کے امکانات بہت کم ہیں۔

دوسری جانب، اسلامی جمہوریہ کے رہنما اور ذمہ داران بھی ٹرمپ کے ساتھ مفاہمت سے زیادہ اس کی تحقیر و تذلیل کے خواہاں ہیں! ایران چاہتا ہے کہ ٹرمپ دنیا کے لئے عبرت بن جائے اور امریکی تاریخ میں ایک شرمناک باب رقم ہو، تاکہ اس کے بعد کوئی امریکی یا غیر امریکی سربراہ ایران پر حملے کا سوچ بھی نہ سکے۔

تو، اس بات کا امکان بہت ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی ٹرمپ کی صدارت کے اختتام تک جاری رہے اور اس کے متوازی آبنائے ہرمز بھی نہ کھلے۔ البتہ ٹرمپ کے بعد امریکی فیصلوں میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں آنے کا امکان ہو گا۔

بہرحال، ایران نے خود کو کم از کم جنوری 2029 (امریکی انتقال اقتدار) تک شدید معاشی ناکہ بندی کے لئے تیار کر لیا ہے اور آمدنی کے متبادل راستے فعال کر دیئے ہیں؛ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس صورتِ حال میں ایران مجبوراً ہمسایہ ممالک کے ساتھ زمینی اور ریل راہداریاں مکمل کرے گا اور ان سے کم از کم اتنی ہی آمدنی حاصل کرے گا جتنی وہ بحری تجارت سے حاصل کرتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ابھی تک بحری تجارت کی آمدنی کا تقریباً 50 فیصد سڑکوں اور ریل راہداریوں کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح، ایران کی حکومت اور عوام اس حقیقت کا پورا ادراک رکھتے ہیں کہ انہیں باہمی تعاون سے وسائل کا ضیاع روکنا ہوگا۔ لہٰذا اگرچہ ایرانی قوم اور حکومت کو ایک مشکل معاشی دور کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن یہ بھی امید ہے کہ جو کچھ ہوگا وہ بالآخر عوام اور حکومت کے حق میں ہوگا۔ اس سے اہم بات یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایسے مقام پر پہنچ جائے گا کہ بہت سے یورپی ممالک بھی اس سے حسد کریں گے۔ دنیا کو عنقریب دنیا کی چوتھی مؤثر طاقت یعنی سید مجتبیٰ کے ایران کے سامنے سر تعظیم خم کرنا پڑے گا!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: عبدالرحیم انصاری

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha