بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اگرچہ آل خلیفہ حکومت ہر سال محرم کے مہینے اور عاشورائے حسینیؑ کی مجالس کے آغاز کے ساتھ، ان تقریبات کے انعقاد کو روکنے یا محدود کرنے کے لئے جابرانہ اقدامات کرتی ہے، لیکن اس سال کی مجالس و مراسمات علاقائی حالات اور ایران پر مسلط کردہ امریکی-صہیونی جنگ کی وجہ سے پچھلے سالوں سے بہت مختلف ہیں اور شعائرِ حسینیؑ اور شیعیان اہل بیتؑ کی اکثریتی آبادی کے مذہبی تشخص کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے اقدامات کا نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ پچھلے سالوں کے برعکس، جہاں خلیفی حکومت کی توجہ بنیادی طور پر مذہبی مظاہر کی کچھ صورتوں کو محدود کرنے، خطیبوں کو طلب کرنے یا مخصوص پابندیاں عائد کرنے پر مرکوز ہؤا کرتی تھی، اس سال کے میدانی شواہد، عاشورائی فضا کو کنٹرول کرنے، روکنے اور نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی کی تشکیل، کی نشاندہی کرتے ہیں۔
حصۂ سوئم:
گذشتہ سال بحرین میں "رفع الرایة" یا عزائے حسینیؑ کا پرچم بلند کرنے کی تقریب
تزویراتی اہداف اور سیاسی ـ سماجی اثرات
موجودہ رجحانات کا جائزہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرین میں، عاشورا 2026 کے ایام میں، آل خلیفہ کی قبائلی حکومت کے اقدامات مذہبی شعائر کو امن و امان کا مسئلہ بنانے، عوامی میدان میں عاشورائی علائم و شعائر کی موجودگی کم کرنے، عزاداری کے مراکز اور انجمنوں کے منتظمین پر قانونی اور فوجداری ذمہ داریاں عائد کرنے، مذہبی گفتگو اور مراسمات و مجالس سے متعلق مواد پر کنٹرول، شیعہ مذہبی اداروں کی آزادی محدود کرنے اور عاشورا کی سماجی اور ثقافتی صلاحیت کم کرنے کی ایک کثیرالسطوح حکمت عملی (Strategy) کا حصہ ہیں۔ اسی سلسلے میں مذہبی سرگرمیوں کو سیکورٹی کیسز سے جوڑنے اور مجالس کے منتظمین کے لئے ان مجالس کے مالی اور سماجی قیمت بڑھانے کی کوشش کو سماج پر کنٹرول اور شیعیان اہل بیت(ع) کے لئے گھٹن پیدا کرنے کی ـ آل خلیفہ کی ـ پالیسی کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
تاہم، اس سرکاری رویے کا تسلسل وسیع سیاسی اور سماجی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ مذہبی امتیاز کے احساس میں اضافہ، حکومت اور معاشرے کے درمیان تفریق کو و انتشار کو گہرا کرنا، مدنظر علاقوں اور گروہوں میں سماجی یکجہتی کو مضبوط کرنا، مذہبی آزادیوں کے حوالے سے رائے عامہ کی حساسیت میں اضافہ اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ـ بحرین میں ـ انسانی حقوق کے حوالے سے تنقید کا سلسلہ وسیع تر اور شدید تر ہوجانا، ان پالیسیوں کے ممکنہ نتائج ہیں۔ نیز مذہبی شعائر کو امن و امان کا مسئلہ بنانے کی سرکاری کوششوں کا امتداد اور مذہبی اداروں میں مداخلت شیعہ معاشرے اور سرکاری اداروں کے درمیان عدم اعتماد کو بڑھا رہی ہے، سماجی کشیدگیوں میں اضافہ ہونے کا خطرہ ہے اور بحرین میں حکومت اور معاشرے کے دو طرفہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
حتمی خلاصہ
عاشورائے حسینیؑ 2026 کو حالیہ برسوں میں، شعائرِ حسینیؑ کے ساتھ آل خلیفہ حکومت کے تقابل کے اہم ترین مراحل میں سے ہے۔ انجام شدہ اقدامات کا مجموعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آل خلیفہ وقتی پابندی کی پالیسی سے آگے بڑھ کر مذہبی شعائر کی نگرانی، کنٹرول اور انتظام کے ایک جامع نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
لیکن بحرین کے تاریخی تجربے نے ثابت کرکے دکھایا ہے کہ شعائرِ حسینیؑ محض ایک مذہبی رسم نہیں، بلکہ ملک کی اکثریتی شیعہ آبادی کی تاریخی، ثقافتی اور سماجی شناخت کا جدائی ناپذیر جزو حصہ ہیں۔
چنانچہ، ان شعائر کو ساختی طور پر محدود کرنے کی حکومتی کوششوں کو نہ صرف انسانی حقوق اور قانونی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا، بلکہ بحرین میں حکومت اور معاشرے کے دوطرفہ کے تعلقات کے لئے گہرے سماجی اور سیاسی اثرات کا باعث بنے گی۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: قبس زعفرانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ