اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ریاست وسکونسن کی سب سے بڑی مسجد کے سربراہ صلاح سرسور کو 80 روزہ حراست کے بعد ایک وفاقی جج کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔ ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ انہیں صرف فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق فلسطینی نژاد اور امریکہ کے مستقل قانونی رہائشی صلاح سرسور کو 30 مارچ کو امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔ امریکی حکومت نے انہیں خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ماضی کے بعض الزامات کی بنیاد پر کارروائی کی تھی۔
تاہم وفاقی جج جیمز پیٹرک ہینلن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرسور نے یہ مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا ہے کہ انہیں آزادیٔ اظہارِ رائے اور فلسطینی حقوق کی حمایت کے باعث نشانہ بنایا گیا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ حکومت ان کی طویل حراست کے لیے خاطر خواہ شواہد پیش نہیں کر سکی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق امریکی حکام گزشتہ کئی دہائیوں سے سرسور کے پس منظر سے آگاہ تھے اور شہریت کی درخواستوں کے دوران بھی ان کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جا چکا تھا، تاہم 2026 تک ان کی گرفتاری کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔
سرسور کے وکلا کا کہنا ہے کہ دورانِ حراست ان کی صحت بھی متاثر ہوئی۔ ذیابیطس کے مریض ہونے کے باوجود مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کے باعث ان کا وزن 13 کلوگرام سے زائد کم ہو گیا۔
اگرچہ انہیں رہا کر دیا گیا ہے، تاہم وہ اب بھی ملک بدری کی قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ عدالت نے انہیں وسکونسن میں قیام، عدالتی سماعتوں میں شرکت اور قانونی عمل میں تعاون کی شرط پر رہائی دی ہے۔
صلاح سرسور تقریباً 32 برس سے امریکہ میں مقیم ہیں اور ان کے خلاف امریکہ میں کسی مجرمانہ ریکارڈ کی اطلاع نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ