11 جون 2026 - 00:41
حصۂ سوئم حصۂ دوئم ایران، امریکہ کو عبرت آموز سبق دے گا، امریکی بحریہ کا سابق افسر

امریکی بحریہ کے سابق افسر اور جیو پولیٹیکل امور کے ماہر کا ماننا ہے کہ ٹرمپ نے حالیہ حملے کرکے خود کو ایک اسٹراٹیجک دلدل میں مزید دھکیل لیا ہے۔ انھوں نے ایران میں "خون" اور "عزت" جیسے تصورات کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دیا کہ ایران کی عسکری قوتیں، امریکیوں کو خلیج فارس میں ایک عبرت آموز سبق دیں گی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ افسر، میلکم نانس نے ایران پر حالیہ امریکی حملوں کا تجزیہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ایران کے ردعمل کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے، اُن تصورات کو سمجھنا ضروری ہے جن کی جڑیں "عاشورا اور مزاحمت کی تعلیمات" میں پیوست ہیں۔ اس تجزیئے میں قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ وہ ایران کے سیاسی کلچر کے تناظر میں "مزاحمت اور سماجی یکجہتی کی باز آفرِینی" کے بنیادی مسئلے پر بار بار زور دیتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام کا "خون اور وقار" اسلامی جمہوریہ کے لئے بہت اہم اور سرخ لکیر (Red-line) کی مانند ہے۔ اس کے بعد وہ زور دیتے ہیں کہ اگر امریکی حملوں کی وجہ سے ایران کے لوگ اور/یا افواج مارے جاتے ہیں، تو ایران کا ردعمل بھی تکلیف دہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں امریکی اہلکار بھی مارے جائیں گے۔

امریکی بحریہ کے سابق افسر اور جیو پولیٹیکل امور کے ماہر نے کہا:

حصۂ سوئم:

- یہی حدود ایران کو یہ صلاحیت دیتی ہیں کہ وہ ایف پی وی ڈرونز، گھومتے ڈھونڈتے اسلحے یا اسی طرح کے نظاموں کے ذریعے امریکی ہیلی کاپٹروں، بحری جہازوں اور آپریشنز کے لئے ایک سنگین خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔

- یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے اگر امریکہ سنجیدگی سے نہ لے تو یہ آنے والے دنوں میں واشنگٹن کے لیے ایک "عبرت اموز میدانی تجربہ" بن سکتا ہے۔

امریکہ میں سیاسی اشرافیہ، اب بھی ایران کے داخلی ماحول کی صحیح سمجھ بوجھ سے محروم

- ایران کو اندرونی خاتمے کی دہلیز پر دکھانے والی تصویر، جھوٹ اور اُن غلط اندازوں کی بنیاد ہے جو واشنگٹن میں اب بھی برقرار ہیں۔

- امریکہ میں کچھ تجزیہ کار، چند احتجاجات یا عدم اطمینان کی علامات پر انحصار کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ اندر ہی اندر سے ٹوٹ رہا ہے، لیکن یہ نقطہ نظر سادہ لوحانہ اور ایران کی سماجی، تاریخی اور مذہبی گہرائی سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔

- تشیّع کی طویل تاریخ اور ایرانی معاشرے میں مذہبی رسوم اور وفاداریوں کی گہری جڑوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ

- امریکہ کو یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ وہ چند فوجی حملوں، سیاسی دباؤ یا محدود بدامنی سے ایران کے ڈھانچے کو بکھیر سکتا ہے۔

- اس طرح کے اندازے ایک بار پھر واضح کر دیتے ہیں کہ واشنگٹن اور امریکہ تجزیہ کاروں کا ایک گروپ، سامنے والے کی سیاسی اور مذہبی ثقافت کو بہت کم سمجھتا ہے اور یہی تخمیناتی غلطی انہیں ایران کی قوت برداشت کی سطحوں اور بیرونی دباؤ کو برداشت کرنے کی معاشرتی تیاری کے ادراک میں انہیں مزید غلط فیصلوں سے دوچار کرتی ہے۔

* تہران کی طرف سے ہر اقدام کو 'عاشورا اور ایران میں اس کے سماجی اثرات' کے فریم ورک میں سمجھ لینا چاہئے

- ایران میں مذہبی عقائد اور ان کے سماجی اثرات کے کردار بہت وسیع اور گہرا ہے چنانچہ اس بحران کی ماہِ محرم (اور عاشورا) سے ہم آہنگی کو ایران کی جوابی کاروائیوں کا اندازہ لگانے میں ملحوظ رکھنا چاہئے۔

- ایران کے ردعمل کو فوجی معیاروں یا ٹھنڈے اسٹراٹیجک حساب کتاب سے سمجھنے کی کوشش کرنا، کافی نہیں ہے، کیونکہ ایرانی معاشرہ ایک تاریخی اور مذہبی پس منظر میں تشکیل پایا ہے جس میں شہادت، انتقام، اجتماعی وفاداری اور رنج برداشت کرنے جیسے تصورات کا اہم مقام ہے۔

- شیعہ رسوم و رواج، ـ بشمول عاشورا، ـ ایران کے معاشرے کے بڑے حصے کے لئے صرف ایک مذہبی موقع نہیں ہے، بلکہ

- یہ شناخت، مزاحمت اور سماجی یکجہتی کی ایک قسم کی باز آفرینی (Re-production) ہے۔ لہٰذا

- امریکہ کو یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ فوجی دباؤ یا فوجی حملے، ایران کی یقینی نفسیاتی اور سماجی پسپائی کا باعث بنیں گے۔  اس کے برعکس؛

- ایسے حالات جواب دینے، بدلہ لینے اور استقامت کی خواہش کو تقویت دیتے ہیں اور تہران کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ امریکی جارحیت اس کی افواج کے وقار اور عزت پر جارحیت ہے۔

اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha