8 اگست 2026 - 19:40
آبنائے ہرمز کی بندش سے عراق کی تیل برآمدات میں 75 فیصد کمی، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تاخیر کا شکار

آبنائے ہرمز کی بندش اور جنگ کے اثرات کے باعث عراق کی تیل برآمدات میں 75 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس سے بغداد کی تیل آمدنی شدید متاثر ہوئی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کے وزیر تیل حیان عبدالغنی نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکہ و صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کے باعث عراق کی تیل برآمدات میں 75 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، عراقی وزیر تیل نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عراق اب جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں صرف تقریباً ایک چوتھائی تیل برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغداد، ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تاکہ عراق کے لیے تیل برآمد کرنے کا متبادل راستہ فراہم کیا جا سکے، تاہم یہ کوشش ابھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراق میں سرگرم تیل کمپنیوں پر کسی بھی حملے کی ذمہ داری حکومت قبول نہیں کرے گی۔ بغداد نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر عراق کے اندر سے ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کمپنیوں کو نقصان پہنچا تو حکومت اس کا ازالہ کرے گی، تاہم بیرونی حملوں یا عراق کے اختیار سے باہر فوجی واقعات کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تلافی حکومت کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔

تیل برآمدات میں کمی سے مالی بحران

الجزیرہ کے رپورٹر عبدالفتاح فاید نے بغداد کی الدوره آئل ریفائنری سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ تیل برآمدات میں کمی کے اثرات صرف عراق کے تیل کے شعبے تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے مالیاتی نظام پر بھی پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تیل کی برآمدی مقدار اور مجموعی آمدنی میں کمی کے باعث عراقی حکومت کو نقد رقم کی قلت کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی تاخیر کا شکار ہوئی ہے۔

عراق کو اس وقت اپنا تیل بجٹ میں مقررہ متوقع قیمت سے کم قیمت پر فروخت کرنا پڑ رہا ہے، جس سے سرکاری خزانے پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق بحران سے قبل عراق کی تیل پیداوار تقریباً 35 لاکھ بیرل یومیہ تھی، جبکہ موجودہ صورتحال میں اس کی برآمدات معمول کی سطح کے تقریباً 25 فیصد تک رہ گئی ہیں۔ عراقی وزیر تیل نے بھی اس تخمینے کی تصدیق کی ہے۔

عراق متبادل راستوں کی تلاش میں

آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہنے کے باعث بغداد خلیج فارس سے باہر تیل برآمد کرنے کے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق عراق جنوبی علاقوں سے ترکی کی بندرگاہ جیہان اور شام کی بحیرۂ روم میں واقع بندرگاہ بانیاس تک تیل کی پائپ لائنیں بچھانے کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔ اردن کی بندرگاہ عقبہ تک ایک متبادل راستہ بھی مستقبل کے آپشن کے طور پر زیرِ غور ہے۔

عراق آنے والے برسوں میں توانائی کے منصوبوں، بنیادی ڈھانچے اور تیل کی متبادل برآمدی گزرگاہوں کے لیے تقریباً 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

تاہم یہ رقم فوری طور پر دستیاب مالی وسائل نہیں بلکہ طویل المدتی سرمایہ کاری کے منصوبوں سے متعلق ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں عراق شدید مالی دباؤ اور نقد رقم کی قلت سے دوچار ہے۔

متبادل راستے فوری حل نہیں

عراق اپنے سرکاری اخراجات اور عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک تیل کی آمدنی پر انحصار کرتا ہے۔ اس لیے تیل کی برآمدات میں مسلسل کمی حکومت کی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق زیرِ غور متبادل راستے مختصر مدت میں خلیج فارس کے ذریعے برآمد ہونے والے تیل کے مکمل حجم کا متبادل فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے بھاری سرمایہ کاری، وقت، عملی معاہدوں اور سکیورٹی انتظامات کی ضرورت ہوگی۔

عراقی وزیر تیل کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت ابھی تک تیل کی برآمد کے حوالے سے کسی عملی معاہدے تک نہیں پہنچی۔

عراق کی مالی صورتحال کا آئندہ انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا بحران کتنے عرصے تک جاری رہتا ہے اور بغداد کس حد تک محفوظ متبادل راستے فعال کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha