8 اگست 2026 - 17:16
ترکیہ: مکہ دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی اور اسٹریٹجک شراکت کے فروغ کی تاریخی پیش رفت ہے

ترکیہ کے نائب صدر اور صدارتی محکمہ اطلاعات کے سربراہ نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی سلامتی کے استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ کی جانب ’’تاریخی قدم‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ مشترکہ دفاع اور اجتماعی بازدارندگی کے اصول پر مبنی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے مکہ مکرمہ میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد کہا کہ یہ معاہدہ خطے کے سکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مشترکہ سلامتی کے تصور پر مبنی ہے اور دفاعی صنعت، بازدارندگی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گا، جبکہ اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔

یلماز نے ترکیہ کی خارجہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ امن اور مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام سے متعلق انقرہ کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیا سکیورٹی تعاون تینوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، مواصلات اور مالیاتی شعبوں میں اقتصادی تعلقات کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔

ترکیہ کے نائب صدر نے بعض بین الاقوامی اداروں اور قواعد کی مؤثریت میں کمی کو علاقائی تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی ایک وجہ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام میں امن و استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔

دوسری جانب ترکیہ کے صدارتی محکمہ اطلاعات کے سربراہ برہان الدین دوران نے بھی مکہ معاہدے کو انقرہ، ریاض اور اسلام آباد کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کی جانب ’’تاریخی قدم‘‘ قرار دیا۔

ان کے مطابق یہ معاہدہ اجتماعی دفاعی صلاحیت اور بازدارندگی میں اضافے کے ساتھ دفاعی صنعت اور مشترکہ فوجی کارروائیوں کی صلاحیت کو بھی مضبوط کرے گا اور خطے میں تعاون و شراکت داری پر مبنی ایک نئے سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جمعے کے روز مکہ مکرمہ میں رجب طیب اردوغان، محمد بن سلمان اور شہباز شریف نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا مقصد اجتماعی بازدارندگی کو مضبوط بنانا، دفاعی و عسکری تعاون کو فروغ دینا اور دستخط کنندہ ممالک کے درمیان سلامتی و استحکام کو مستحکم کرنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha