8 اگست 2026 - 17:58
ہیلری کلنٹن: ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس صدام حسین کے محلات جیسا دکھائی دیتا ہے

سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں کی جانے والی ظاہری تبدیلیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انہیں صدام حسین کے محلات کی یاد دلاتی ہیں۔ انہوں نے ان تبدیلیوں کو افسوس ناک، بھڑکیلا اور حد سے زیادہ نمود و نمائش پر مبنی قرار دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پوڈکاسٹ «پیوت» سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں وائٹ ہاؤس میں کی جانے والی تبدیلیوں پر تنقید کی۔

کلنٹن نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی ایک تصویر دیکھ کر انہیں صدام حسین کے محلات یاد آگئے۔ انہوں نے بتایا کہ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب وہ بغداد میں موجود تھیں تو انہوں نے صدام کے بعض محلات میں اجلاسوں میں شرکت کی تھی اور وہاں کا ماحول موجودہ وائٹ ہاؤس سے مماثلت رکھتا تھا۔

انہوں نے وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش کو افسوس ناک، بھڑکیلا اور حد سے زیادہ پرتعیش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صدر ٹرمپ کی خود پسند شخصیت اور خود کو اہم ثابت کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس کی دیواروں پر سنہری آرائش کا حوالہ بھی دیا۔

کلنٹن نے ٹرمپ کے تعمیراتی منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقیقت سے دور، پریشان اور غیر ضروری معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید یہ بات اطمینان بخش ہو کہ ٹرمپ سوئمنگ پول کی تعمیر میں مصروف ہیں اور کسی دوسرے مقام پر نئی جنگ شروع نہیں کر رہے۔

یوکرین جنگ کے حوالے سے کلنٹن نے ٹرمپ کی پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ امریکہ یوکرین کی مدد کرکے اس جنگ کو ختم کرنے میں کردار ادا کرسکتا تھا۔ ان کے مطابق اگر ٹرمپ یوکرین کے ساتھ ایک باعزت امن معاہدہ کرانے میں کامیاب ہوتے تو وہ انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرتیں۔

کلنٹن نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی توجہ امن انعام کے بجائے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ اپنے تعلقات پر زیادہ مرکوز ہے اور بقول ان کے، ٹرمپ پوتن کی خوشنودی کو نوبیل امن انعام سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha