2 جون 2026 - 22:49
حصۂ دوئم | ضآحیہ پر حملے کی دھمکی اور ایران کی جوابی دھمکی؛ امریکہ اور اسرائیل تزویراتی شکست کھاکر الٹے پاؤں چلنے پر مجبور

محاذ مقاومت نے ضاحیہ اور بیروت پر حملے کی دھمکی کے مقابلے میں، پوری قوت سے ایک نیا قاعدہ قائم کر دیا اور امریکہ اور اسرائیل مقاومتِ اسلامی کی طاقت سے مغلوب ہو گئے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسرائیل کی طرف سے ضاحیۂ بیروت پر حملے کی دھمکی تخمینوں اور اندازوں ميں دہرائی جانی والی بے غلطی ہے جس کے نتیجے میں حزب اللہ اور دیگر محاذہائے مقاومت کا تیز اور طاقتور ردِ عمل سامنے آئے گا۔

تسلط پسند استکباری نظام کی طرف سے اسرائیل کی حمایت نے اس دہشت گرد ریاست کے ہاتھ مکمل طور پر کھول دیئے ہیں۔ اسرائیل نے لبنان کے شہریوں، ہسپتالوں اور طبی عملے کو اپنے بےرحمانہ فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جو کہ ریاست کے لئے ایک واضح آپریشنل شکست ہے۔ مقبوضہ فلسطینی اراضی میں سائرنوں اور انخلاؤں اور دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے اور اسرائیلی آباد کار ہر روز غیر محفوظ اور پہلے سے زیادہ زدپذیر ہوتے جا رہے ہیں۔

لبنان میں اسرائیل کی حکمت عملی ناکام اور غیر موثر ہے۔ استنزافی جنگ (تھکا دینے والی جنگ = War of Attrition) صہیونیوں کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ عبرانی میڈیا نے صہیونی ریاست کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ اس ریاست کے فوجی لبنان میں بھاری جانی نقصانات اٹھا رہے ہیں۔ معاریو اخبار نے اعلان کیا کہ صہیونی ریاست لبنان میں ایک استنزافی جنگ کی طرف دھکیلی گئی ہے۔

حصۂ دوئم | ضآحیہ پر حملے کی دھمکی اور ایران کی جوابی دھمکی؛ امریکہ اور اسرائیل تزویراتی شکست کھاکر الٹے پاؤں چلنے پر مجبور

شکست خوردہ صہیونی ریاست کے ہاتھوں سید حسن نصراللہ کی شہادت کے باوجود، حزب اللہ اپنی قوت پہلے سے زیادہ ثابت کر دکھا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں زور دے کر کہتے ہیں کہ مقاومت قوت اور برتری کی پوزیشن میں ہے اور اسرائیل صورتحال پر اپنا کنٹرول، اور اپنی طاقت کھوئے جا رہا ہے۔ نئی دھمکی صرف مقاومت کی طاقت اور منطق کو مزید بڑھاتی اور اور مضبوط کر دیتی ہے۔

دشمن عوام الناس اور مقاومت کی ارادے کو نہیں چھین سکتا اور حزب اللہ ایک بار پھر حماسہ آفرینی کرکے تاریخ ساز بن رہی ہے۔ حزب اللہ کے ایک سینئر ذمہ دار نے زور دے کر کہا کہ مقاومت اپنے اہداف کے حصول ـ یعنی اسرائیلی قابضین کو لبنانی سرزمین سے مکمل طور پر نکال باہر کرنے، لوگوں کی اپنی بستیوں میں واپسی، اور قیدیوں کی رہائیِ کے لئے ـ امام حسین (علیہ السلام) کی مانند لڑ رہی ہے۔

حصۂ دوئم | ضآحیہ پر حملے کی دھمکی اور ایران کی جوابی دھمکی؛ امریکہ اور اسرائیل تزویراتی شکست کھاکر الٹے پاؤں چلنے پر مجبور

حزب اللہ اب محض دفاع نہیں کر رہا بلکہ حفظ ما تقدم کے لئے بھی کاروائیاں کر رہا ہے۔ نقطہ نظر کی اس تبدیلی نے دشمن کے دل میں خوف و ہراس ڈال دیا ہے اور معادلات و قواعد کو الٹ پلٹ کر دیا ہے۔ اب اسرائیل کے لئے سرحدیں محفوظ نہیں رہیں اور ہر نقطہ خطرے سے دوچار ہے۔ حزب اللہ نے اس طریقے سے یہ واضح کیا ہے کہ وہ ہر لمحے اور ہر جگہ ضرب اسرائیلی دشمن پر لگا سکتی ہے۔ اب اسرائیلی آبادکاروں کے زیر قبضہ فلسطینی سرزمین میں کوئی بھی نقطہ درست اور تیز حملوں کے خطرے سے محفوظ نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی براہ راست حمایت کے ساتھ، مقاومت کی تزویراتی گہرائی کو کئی گنا بڑھا چکا ہے۔

یہ حمایت اس بات کا باعث بنی ہے کہ دشمن اپنی فوجی طاقت کے سہارے آگے نہیں بڑھنے سے عاجز آ چکا ہے۔ اسرائیل اب پہلے سے کہیں زیادہ بہتر جانتا ہے کہ مقاومت کے خلاف کوئی بھی اقدام ایران کی جانب سے ایک پُرزور ردعمل کا سبب بنے گا۔ اسرائیل مکمل طور پر محصور ہو چکا ہے اور اس صورتحال سے اس کے پاس بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد حسین حمزہ ای

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha