بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مورخہ 13 جون 2025ع کو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف پہلی براہ راست فوجی جارحیت (بارہ روزہ جنگ) سے لے کر حالیہ جنگ (جنگ رمضان) تک، ـ جو فی الحال جنگ بندی اور مذاکرات کے مرحلے میں ہے، ـ مغربی ایشیا کا خطہ تصادم کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دور میں روایتی وار پیٹرن اور تسدید کے نظریات میں بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ ایران اور ـ خاص طور پر لبنان میں ـ محور مقاومت کے خلاف، امریکہ اور صہیونی ریاست کی مشترکہ جارحیت ـ اب محدود لڑائیوں یا پراکسی جنگوں کی شکل میں نہیں دیکھی جا سکتی، بلکہ ـ ایک براہ راست، کثیر الجہتی اور مکمل تصادم کی سطح تک بڑھ گئی ہے۔
حصۂ دوئم:
پراکسی جنگ سے براہ راست تصادم کی طرف منتقلی
بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ برائے تزویراتی مطالعات (International Institute for Strategic Studies [IISS]) کے تجزیوں میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خطہ پراکسی جنگوں کے مرحلے سے گذر کر مزید براہ راست تصادمات کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ اس تھنک ٹینک کے مطابق، یہ معاملہ اسلامی جمہوریہ ایران کو محدود کرنے کی امریکی پالیسیوں کی ناکامی اور فوجی دباؤ کے ذریعے طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔
ان تجزیوں کے مطابق، جنگ کی نوعیت میں یہی تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اپنے اسٹراٹیجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، نہ صرف ایران کی ڈیٹرنس کی صلاحیت ختم نہیں ہوئی، بلکہ تصادم کی سطح اس انداز سے بدل گئی ہے کہ اس کے اخراجات تمام کھلاڑیوں کے لئے ناقابل بردتشت ہو گئے ہیں؛ چاہے وہ امریکہ اور اسرائیل ہوں چاہے ان کے علاقائی اتحادی ہوں۔
امریکی تسدید کی زوال پذیری اور اسٹراٹیجک تعطل
مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی مطالعات (Center for Strategic and International Studies [CSIS]) کے تجزیوں میں اس تصادم کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: علاقائی بحرانوں کے امتداد کے نتیجے میں امریکی فوجی اور آپریشنل صلاحیت کی بتدریج فرسودگی اور اور اس کی فوجی طاقت کی افادیت کا خاتمہ۔ دفاعی نظامات (Defense systems) پر بڑھتا ہؤا دباؤ، ہتھیاروں کے ذخائر کا وسیع استعمال، اور متعدد محاذوں پر بیک وقت مصروفیت نے واشنگٹن کے 'بحران کے انتظام' (Crisis management) کی صلاحیت کو شدید چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی نہ صرف ایران کو مکمل کمزوری کی پوزیشن میں نہیں لا سکی، بلکہ اس کے نتیجے میں مخالف فریق کے لیے بھی ایک قسم کا مہنگا توازن پیدا ہو گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: قبس زعفرانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ