رینڈ (RAND) اور مرکز برائے اسٹراٹیجک و بین الاقوامی تعلقات (CSIS) جیسے معروف تھنک ٹینکس کے تجزیے بتاتے ہیں کہ تہران امریکہ کے مقابلے میں، اپنی ذہانت سے کھیل کے قواعد بدل کر بھاری فوجی دباؤ کو، اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرنے کے لئے موقع (Opportunity) میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ دستاویزات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ایران کے "نظریۂ استقامت (Sustainability Doctrine)" کے سامنے واشنگٹن کی ناکامی محض ایک عارضی پسپائی نہیں، بلکہ مغرب کی روایتی تسدید (Classical deterrence) کی افادیت کے خاتمے کا مظہر ہے؛ ایک حقیقت جسے اب امریکی تھنک ٹینکس بھی امریکی فوجی طاقت کے زوال کے دور کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔
رینڈ (RAND) اور مرکز برائے اسٹراٹیجک و بین الاقوامی تعلقات (CSIS) جیسے معروف تھنک ٹینکس کے تجزیے بتاتے ہیں کہ تہران امریکہ کے مقابلے میں، اپنی ذہانت سے کھیل کے قواعد بدل کر بھاری فوجی دباؤ کو، اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرنے کے لئے موقع (Opportunity) میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ دستاویزات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ایران کے "نظریۂ استقامت (Sustainability Doctrine)" کے سامنے واشنگٹن کی ناکامی محض ایک عارضی پسپائی نہیں، بلکہ مغرب کی روایتی تسدید (Classical deterrence) کی افادیت کے خاتمے کا مظہر ہے؛ ایک حقیقت جسے اب امریکی تھنک ٹینکس بھی امریکی فوجی طاقت کے زوال کے دور کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔
رینڈ (RAND) اور مرکز برائے اسٹراٹیجک و بین الاقوامی تعلقات (CSIS) جیسے معروف تھنک ٹینکس کے تجزیے بتاتے ہیں کہ تہران امریکہ کے مقابلے میں، اپنی ذہانت سے کھیل کے قواعد بدل کر بھاری فوجی دباؤ کو، اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرنے کے لئے موقع (Opportunity) میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ دستاویزات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ایران کے "نظریۂ استقامت (Sustainability Doctrine)" کے سامنے واشنگٹن کی ناکامی محض ایک عارضی پسپائی نہیں، بلکہ مغرب کی روایتی تسدید (Classical deterrence) کی افادیت کے خاتمے کا مظہر ہے؛ ایک حقیقت جسے اب امریکی تھنک ٹینکس بھی امریکی فوجی طاقت کے زوال کے دور کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔