18 مئی 2026 - 21:34
حصۂ دوئم | ممکنہ اگلی جنگ کے قواعد 'مستقل تسدید' کی بنیاد پر تبدیل ہونگے

مستقبل کی ممکنہ جنگ ایران کی طرف سے جنگ کے قواعد میں تبدیلی کے ساتھ ہوگی؛ اب نہ تو امریکی اڈے، بلکہ ایرانی کاروائیوں کے مختصات مستقل اور دیرپا تسدید (Lasting Deterrence) کی تعریف کے مطابق ہونگے اور دوبارہ غلطی پر اصرار کرنے والے، مغرب کے شریک جرم ممالک، کے لئے بهی درس عبرت بن جائیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران 40 روزہ مسلط کردہ جنگ (تیسرے دفاع مقدس) میں اس طرف سے آگے بڑھا کہ اس نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ یہ اڈے جو خطے اور پڑوسی ممالک میں موجود تھے اور بدقسمتی سے بعض عرب ممالک نے ہمسایگی کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا اور اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف دشمن کا مورچہ بنا دیا، ایران کا جائز ہدف بن گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حصۂ دوئم:

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل 'سید مجید موسوی'  نے عوام کے نام ایک پیغام میں لکھا: 'ہمارے جنوبی پڑوسی جان لیں کہ اگر ان کا جغرافیہ اور سہولیات کو دشمنوں کی طرف سے ایرانی قوم پر حملوں کے لئے استعمال کیا گیا، تو انہیں مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار سے الوداع کہنا پڑے گا۔'

بین الاقوامی امور کے ماہر 'مہدی محمدی' نے مستقبل کی ممکنہ جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حتمی تسدید کے نقطہ نظر کے بارے میں لکھا:

اگر ہم پر جنگ مسلط کر دی جاتی ہے، تو اس بار ہدف مختلف ہے:

- ماضی سے مکمل طور پر مختلف حربوں اور آلات کے ذریعے دشمن کو حیران کر دینا۔

- ان مضبوط ٹھکانوں پر کاری ضرب لگانا جو دشمن کے خیال میں زد ناپذیر (Invulnerable) ہیں۔

- دشمن کی ٹائمنگ (وقت بندی) کی حد سے گذرنا، یہاں تک کہ اس کے وقتی حسابات اور منصوبے ختم ہوکر رہ جائیں۔

- اس لمحے کو حقیقی تسدید تخلیق کرنے کا موقع بنانا۔

- دشمن کے اتحادیوں کو لامحدود طور پر، مکمل سزا دینا۔

جنگ رمضان کے نمونے کے اعادے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل کی جنگ نہ صرف نئے مختصات کی حامل ہے بلکہ اس کے ساتھ ایسی حیرت انگیزیاں ہوں گی جو خطے کے ممالک کو مغرب کا اتحادی بننے کے اخراجات کا ازسرِنو جائزہ لینے پر مجبور کر دیں گی۔

اس زاویئے سے، ایران کی 'مستقل تسدید' کی حکمت عملی امریکی اڈوں کے خطرے سے نمٹنے پر مبنی نہیں، بلکہ 'جنگ پرستی کے لا کلام حامیوں کو نشانہ بنانے' کی بنیاد پر ترتیب دی جاتی ہے۔

وہ ممالک جن کو وہم تھا کہ اپنی سرزمین امریکہ کے حوالے کرنے سے ان پر جنگ کے بادل نہيں منڈلائیں گے، آج اپنی حدود امریکہ کے سپرد کرنے سے، ان کی سرزمینیں نہ صرف خطرے سے دوچار ہیں، بلکہ تزویراتی اہداف بن رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، ایران تنازع کے قواعد بدلے گا، اور ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ساتھ ہم آہنگی کی قیمت بڑھا دے گا، اور ان کی اس ہم آہنگی کو اپنے لئے 'ممکنہ خطرے' سے 'تسدیدی ہدف' میں تبدیل کر دے گا۔

میدان میں حیرت انگیزی اس بات کی بھی تائید کرتی ہے کہ مستقبل کی جنگ میں، وہ چیز جو دشمنوں کو حیران کر دے گی وہ نہ صرف ٹیکنالوجی ہوگی، بلکہ خطے کے جیو پولیٹیکل مساواتوں کی ایران کے حق میں مکمل ازسرِنو ترتیب ہوگی۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: امیر حمزہ نژاد

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha