غیر متناسب تسدید
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
حصۂ سوئم | ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ؛ تسدید (Deterrence) کی نئی تعریف
لبنانی لکھاری اور اسرائیلی امور کے تجزیہ کار 'علی حیدر' کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، ہر ایک فریق کی حقیقی طاقت کی حدود کا تعین کرنے کے لئے تزویراتی امتحان تھی، اپنے مقابلے میں، حریف کے مقابلے میں اور علاقائی و بین الاقوامی ماحول کے مقابلے میں۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
حصۂ دوئم | ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ؛ تسدید (Deterrence) کی نئی تعریف
لبنانی لکھاری اور اسرائیلی امور کے تجزیہ کار 'علی حیدر' کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، ہر ایک فریق کی حقیقی طاقت کی حدود کا تعین کرنے کے لئے تزویراتی امتحان تھی، اپنے مقابلے میں، حریف کے مقابلے میں اور علاقائی و بین الاقوامی ماحول کے مقابلے میں۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
حصۂ اول | ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ؛ تسدید (Deterrence) کی نئی تعریف
لبنانی لکھاری اور اسرائیلی امور کے تجزیہ کار 'علی حیدر' کہتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ، ہر ایک فریق کی حقیقی طاقت کی حدود کا تعین کرنے کے لئے تزویراتی امتحان تھی، اپنے مقابلے میں، حریف کے مقابلے میں اور علاقائی و بین الاقوامی ماحول کے مقابلے میں۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
حصۂ دوئم | ایران کی قوت برداشت اور دشمن کی صلاحیتوں کی بوسیدگی، مغربی تھنک ٹینکس کا تجزیہ + اہم تصاویر
رینڈ (RAND) اور مرکز برائے اسٹراٹیجک و بین الاقوامی تعلقات (CSIS) جیسے معروف تھنک ٹینکس کے تجزیے بتاتے ہیں کہ تہران امریکہ کے مقابلے میں، اپنی ذہانت سے کھیل کے قواعد بدل کر بھاری فوجی دباؤ کو، اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرنے کے لئے موقع (Opportunity) میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ دستاویزات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ایران کے "نظریۂ استقامت (Sustainability Doctrine)" کے سامنے واشنگٹن کی ناکامی محض ایک عارضی پسپائی نہیں، بلکہ مغرب کی روایتی تسدید (Classical deterrence) کی افادیت کے خاتمے کا مظہر ہے؛ ایک حقیقت جسے اب امریکی تھنک ٹینکس بھی امریکی فوجی طاقت کے زوال کے دور کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔
-
امریکی سلطنت کا ڈوبتا ہؤا سورج؛
حصۂ اول | ایران کی قوت برداشت اور دشمن کی صلاحیتوں کی بوسیدگی مغربی تھنک ٹینکس کا تجزیہ + اہم تصاویر
رینڈ (RAND) اور مرکز برائے اسٹراٹیجک و بین الاقوامی تعلقات (CSIS) جیسے معروف تھنک ٹینکس کے تجزیے بتاتے ہیں کہ تہران امریکہ کے مقابلے میں، اپنی ذہانت سے کھیل کے قواعد بدل کر بھاری فوجی دباؤ کو، اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرنے کے لئے موقع (Opportunity) میں تبدیل کر رہا ہے۔ یہ دستاویزات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ایران کے "نظریۂ استقامت (Sustainability Doctrine)" کے سامنے واشنگٹن کی ناکامی محض ایک عارضی پسپائی نہیں، بلکہ مغرب کی روایتی تسدید (Classical deterrence) کی افادیت کے خاتمے کا مظہر ہے؛ ایک حقیقت جسے اب امریکی تھنک ٹینکس بھی امریکی فوجی طاقت کے زوال کے دور کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔