16 اپریل 2026 - 21:16
اسلامی جمہوریہ ایران اور حزب اللہ پر مسلط کردہ امریکی - صہیونی جنگ کی کچھ مختصر مگر اہم خبریں

لبنانی حکومت کی غداری اور حزب اللہ کی مردانہ وار لڑائی / حزب اللہ کی حیرت انگیز استقامت / آیت اللہ سیستانی کی طرف سے بے گھر لبنانیوں کی مدد / آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر کا بعد از وقت اعتراف: ایران جوہری ہتھیار کے درپے نہیں ہے / ٹرمپ کی جنگجوئی کی وجہ سے سے عرب کو پہنچنے والے نقصانات / ایرانی بحری جہاز ٹرمپ کے مضحکہ خیز محاصرے کو توڑ کر چلے گئے / ایران میں نشانہ بننے والی پٹڑیوں اور پلوں کی تعمیر نو / ترکیہ کے مسلمانوں کی اسلام کی حمایت کے لئے ایران آمد / ایران کے بحری محاصرے کے بارے میں ٹرمپ کی شیخیاں، برطانیہ اور جاپانکی طرف سے تردید۔ / ایران میں پرچم اٹھ گیا لیکن جشن فتح کے لئے، نہ کہ تسلیم ہونے کے لئے!، امریکی اخبار / ہمارے میزائل تیار ہیں، یمن۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛  

لبنانی حکومت کی غداری اور حزب اللہ کی مردانہ وار لڑائی

شہر بنت جبیل پر صہیونی قبضے، نیز لبنانی حکومت کی غداری کی خبریں شائع ہونے کے باوجود، حزب اللہ کے بہادر مجاہدین اس شہر اور اس کے اطراف میں دشمن پر کاری ضربیں لگا رہے ہیں۔

 

حزب اللہ کی حیرت انگیز استقامت

لبنانی مقاومت نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں صہیونیوں کے خلاف 60 کاروائیاں انجام دیں۔

اس وقت "بنت جبیل" میں حزب اللہ کے مجاہدین اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے اور صہیونی مراکز، نفری، فوجی گآڑیوں اور ٹینکوں پر بڑی تعداد میں حملے ہوئے ہیں۔

 

آیت اللہ سیستانی کی طرف سے بے گھر لبنانیوں کی مدد

آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کے دفتر نے شیعیان اہل بیت(ع) کے اس عالی قدر مرجع تقلید کی طرف سے 70 ہزار بے گھر لبنانی عوام کے لئے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ امداد کی فراہمی جمعہ سے شروع ہوگی۔

 

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر کا بعد از وقت اعتراف: ایران جوہری ہتھیار کے درپے نہیں ہے

"گروسی* نے کہا: "ہم نے اعلان کیا ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی منظم پروگرام نہیں ہے۔ / [نیتن یاہو اور ٹرمپ کے جھوٹے دعوؤں کے برعکس] ایران چند ہفتوں یا حتیٰ چند مہینوں میں جوہری بم نہیں بنا رہا ہے / ایران کے جوہری پروگرام کو فوجی راستے سے نہیں روکا جا سکتا۔"

 

عربوں کو ٹرمپ کی جنگجوئی کی وجہ سے ناقابل برداشت نقصان اٹھانا پڑا

برطانوی اخبار "ٹیلی گراف": ٹرمپ کی جنگجوئیوں نے خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو عظیم ترین مالی نقصانات سے دوچار کیا اور دبئی جیسے مراکز کو شدت سے متزلزل کیا جو مغربی سرمایہ کاروں کی محفوظ پناہ کہلواتے تھے۔

 

ایرانی بحری جہاز ٹرمپ کے مضحکہ خیز محاصرہ توڑ کر چلے گئے

گوکہ دہشت گرد امریکی صدر نے ایران کی برآمدات مفلوج کرنے کے لئے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کا محاصرہ کر لیا ہے، لیکن آج ایران کے چار جہاز امریکی بحری محاصرے سے نکل گئے ہیں۔

 

ایران ریلوے کی نشانہ بننے والی پٹڑیوں اور پلوں کی تعمیر نو مکمل

‌امریکی-صہیونی حملوں میں ملکی ریلوے کے چھ مقامات کو نقصان پہنچا۔ ایرانی انجنیئروں اور مزدوروں نے اپنی صلاحیت و مہارت سے تمام پلوں اور پٹڑیوں کو 40 گھنٹوں میں مرمت کر لیا اور گاڑیوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہوئی۔

 

ترکیہ کے مسلمان ـ اسلام کی حمایت کے لئے ـ ایران میں داخل

سینکڑوں ترک مسلمان امریکہ اور صہیونی ریاست کے ساتھ جنگ میں ایران کے ساتھ اظہار حمایت کے لئے ایران میں داخل ہوئے۔ 500 گاڑیوں کے ایک قافلے نے ان افراد کو بازرگان کی سرحد تک آکر ان سے وداع کیا، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ایران اسلام کی ‏عزت کے لئے لڑ رہا ہے۔

 

ایران کے بحری محاصرے کے بارے میں ٹرمپ کی شیخیاں:

ٹرمپ نے کہا: بہت سارے ممالک ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے ہم سے آ ملنے کے لئے، آرہے ہیں!

ٹرمپ کی شیخیوں پر برطانیہ اورجاپان کا رد عمل

برطانیہ اور جاپان نے ٹرمپ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف کسی کاروائی میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا۔

ایران میں 1000 اسکولوں اور طبی مراکز پر حملے

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی: "امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی سرزمین پر 40 روزہ حملوں میں کم از کم 763 اسکولوں اور 316 طبی مراکز پر بمباری کی ہے۔"

 

ایران میں پرچم اٹھ گیا لیکن جشن فتح کے لئے، نہ کہ تسلیم ہونے کے لئے!، امریکی اخبار

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا: "ٹرمپ کی طرف سے اس دھمکی کے بعد ـ کہ وہ "پوری 6000 سالہ ایرانی تہذیب کو تباہ کرے گا ـ ایرانی عوام تہران کی سڑکوں پر آئے، ان کے ہاتھوں میں پرچم تھے، لیکن ہتھیار ڈالنے کے لئے سفید پرچم نہیں۔ ایرانیوں نے فتح کے پرچم لہرائے۔"

سی این این نے اعلان کیا: "ٹرمپ ایران کے خلاف دباؤ کے تمام ذرائع کھو چکا ہے۔ اس کے پاس کے نظریات کا خاتمہ ہوگا ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ، اس صورت حال سے نکلنے کے درپے ہے۔"

 

ہمارے میزائل تیار ہیں، یمن

انصار اللہ یمن کے اسپیکر نے اعلان کیا: "اگر امریکہ ایران کے ساتھ سمجھوتہ قبول نہ کرے، اجلاس کے خاتمے کے ساتھ ہی، انصار اللہ یمن اور سپاہ پاسداران تل ابیب پر اپنا حملہ شروع کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha