بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
الف: اسلامی انقلاب کی فتح نے استبدادی پہلوی سلطنت کی بیخ کنی کرتے ہوئے ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر پر امریکی تسلط کا خاتمہ کر دیا اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کر دیا نیز صہیونی ریاست کے نیل سے فرات تک پھیلانے کہ دیرینہ منصوبہ بھی خاک میں مل گیا۔
ب: امریکی حکومت نے گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران پابندیوں، جنگ اور دہشت گردی جیسے اقدامات کے ذریعے اسلامی جمہوریہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور اس کے دو مقاصد تھے:
1۔ ایران پر دوبارہ مسلط ہونا، ایران کو توڑ دینا اور ایران کے توانائی کے ذخائر اور اقتصادی ذرائع پر قبضہ جمانا۔
2۔ عرب ممالک کے کٹھ پتلی رجعت پسند حکام کی شراکت سے جدیداستعماری فکر کے دائرے میں، اس اسٹراٹیجک خطے پر امریکہ کے مکمل تسلط کی غرض سے، صہیونی ریاست کو نیل سے فرات تک پھیلانا۔
ج: اسی تناظر میں، امریکہ اور صہیونی ریاست نے دوسری بار، اور دونوں مرتبہ سیاسی مذاکرات کے عین موقع پر، انتہائی بزدلانہ انداز سے ایران پر حملہ کیا؛ رہبر انقلاب اسلامی، بے گناہ بچیوں، بے گناہ عوام اور مسلح افواج کے کچھ دلیر مجاہدوں کو شہید کر دیا اور دنیا والوں کو واضح انداز سے کہہ دیا کہ "امریکہ اور اس کے صہیونی چیلے بالکل قابل اعتماد نہیں ہیں اور ان میں شرافت اور انسانیت کا نام و نشان تک نہیں ہے۔"
د: ایران کو پابندیوں کے مقابلے میں اور امریکی - صہیونی یلغار کا سبق آموز جواب دینا پڑے گا تو ایرانی عوام کے خلاف مسلسل خطرے کی جڑوں کو اکھاڑ دے اور ملک کے استحکام اور خودمختاری کا تحفظ کر سکے۔ اسی سلسلے میں:
1۔ ملت ایران نے دانشمندی اور عدیم المثال موقع شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ملک کے دفاع کے میدان میں حاضر ہے اور دشمن کو بالکل مایوس کر چکی ہے، اور اس کی للچائی ہوئی نگاہوں کو پھوڑ دیا ہے جبکہ وہ ایرانیوں کی طرف سے اپنی حمایت کی توقع رکھتا تھا۔
2۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے فیصلہ کن انداز اور انتہائی ہوشیاری اور بے مثال شجاعت و بہادری کے ساتھ دشمن کی یلغار کا زبردست جواب دیا اور اب تک امریکی اڈوں اور صہیونی ریاست پر تباہ کن ضربیں رسید کی ہیں۔ گذشتہ 80 سالہ عرصے میں، امریکہ کو ـ اور 1948 سے اب تک صہیونی ریاست کو ـ پہنچنے والے نقصانات کوئی مثال نہيں ملتی۔
ہ: شہید رہبر انقلاب امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) نے جرائم پیشہ ٹرمپ کے ہاتھوں جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد فرمایا: "اس شہادت کا اصل جواب یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ سے امریکہ کا انخلا ہے۔" رہبر معظم کی مظلومانہ اور شجاعانہ شہادت نے انقلاب اسلامی کی رگوں میں تازہ خون جاری کر دیا ہے اور ملت ایران کی بیداری اور متحدہ حضور اور ملک کے دفاع میں مسلح افواج کے زبردست اقدام دشمن کے مد مقابل ڈٹ جانے کا سبب بنی ہے۔
جنگ کا ایک ہفتہ گذرنے کے باوجود، ایران کی مسلح افواج نے امریکہ کے اڈوں پر منظم اور طاقتور وار کئے ہیں اور انہیں تباہ و برباد کر دیا ہے۔ اللہ کے فضل سے یہ عمل ایک ایسا ماحول اور موقع فراہم کر رہا ہے کہ امریکی اڈوں کی بساط اس خطے سے لپیٹ لی جائے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی تسلط ایک بار ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: صادق خلیلیان
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ