بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عالمی کپ ہمیشہ کھلاڑیوں اور قوموں کے لئے مشعلِ راہ اور حوصلہ مندی کا باعث رہا ہے لیکن اس بار امریکی میزبانی میں ورلڈ کپ نے یہ احساس ختم کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی ٹیم کے کپتان مہدی طارمی نے آج (بروز ہفتہ) اطالوی جریدے "گزیٹا دیلو اسپورٹ" کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا: "اس ورلڈ کپ میں وہ گرمجوشی اور اتحاد والا احساس نہیں رہا ہے جو پچھلی دفعات میں رہا تھا۔"

امریکہ نے گذشتہ 12 مہینوں میں مختلف ممالک کے خلاف 6 فوجی کارروائیاں کرکے، عالمی فٹبال کپ کی تاریخ کا سب سے زیادہ جنگ پرست بن کر، اس کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل کیا۔
10 ممالک کے شائقین کو ویزا دینے میں امریکہ کی رکاوٹیں، افریقی براعظم کے بہترین ریفری کو ملک بدر کرنا، عراقی قومی ٹیم کے اسٹار ایمن حسین کو 7 گھنٹے حراست میں رکھنا، ازبکستان اور سینیگال کے وفود کے ساتھ امریکی پولیس کا توہین آمیز سلوک، اور ایران کے فٹبال وفد کے 14 ارکان کو ویزا نہ دینے کی وجہ سے ورلڈ کپ کی امریکی میزبانی متنازعہ بن گئی۔
طارمی نے اطالوی جریدے کو بتایا کہ "واضح ہے کہ بہت زیادہ کشیدگی پائی جاتی ہے، لیکن میرا ماننا ہے کہ کھیل اور سیاست کو ہمیشہ الگ ہونا چاہئے۔ کھیل احترام، امن اور اتحاد کے بارے میں ہے۔ ورلڈ کپ کو اربوں لوگ دیکھتے ہیں اور یہ ان جذبات کو فروغ دے سکتا ہے؛ یہ ایک تنازعات سے خالی دنیا کی ترغیب دل سکتا ہے، نہ صرف ایران کے لئے بلکہ سب کے لئے۔"
ایرانی کپتان نے اپنے تیسرے ورلڈ کپ میں امریکیوں کو اس عظیم ٹورنمنٹ کی میزبانی کا سبق سکھاتے ہوئے کہا: "جو بھی ملک ورلڈ کپ کی میزبانی قبول کرتا ہے، اسے فیفا کے قوانین پر عمل کرنا ہوگا اور بطور میزبان اپنی ذمہ داریاں نبھانا پڑیں گے۔ سیاست کو الگ رکھنے اور کھیل کے اصولوں کو برقرار رکھنے میری مراد یہی ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ