بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ یہ سوچ کر ایران کے ساتھ فوجی تصادم میں داخل ہوئی کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فضائی و عسکری برتری ایران کو تیزی سے پسپا ہونے پر مجبور کر دے گی، لیکن میدانِ عمل کی حقیقتیں — خصوصاً آبنائے ہرمز میں — اس مفروضے کو بچگانہ ثابت کر چکی ہیں۔
▪️ مزید بتایا گیا کہ امریکی حکام نے ابتدائی جائزوں میں ایران کے ممکنہ ردِعمل کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔
روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل کے حوالے سے کہا گیا:
"ٹرمپ نے جنگ سے پہلے وائٹ ہاؤس ٹیم سے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں ایران آبنائے ہرمز بند کرنے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دے گا۔
یہ آبی گذرگاہ، جس سے دنیا کی تیل و گیس کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گذرتا ہے، برسوں سے عالمی توانائی سلامتی کے لیے نہایت حساس اور اسٹریٹجک نقطے کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔
اس کے باوجود، واشنگٹن کے بعض حلقے یہ گمان رکھتے تھے کہ اس راستے کی بندش امریکہ کے مقابلے میں ایران کی معیشت کے لیے زیادہ تباہ کن ہوگی ـ لیکن حالیہ واقعات نے دکھا دیا کہ یہ مفروضہ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ غلط اسٹریٹجک اندازہ اب ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر پریشان کن بیانات اور تذبذب آمیز رویۓ میں صاف ظاہر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران کی تیل برآمدات کم نہیں ہوئیں بلکہ بڑھ گئی ہیں، اور عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، ٹرمپ عملی حل ڈھونڈنے میں ناکام ہیں اور تیزی سے فیصلے کیے بغیر تیاری کے اقدامات مثلاً بحری اسکواڈ کی تعیناتی یا زمینی افواج کی شمولیت جیسے غیر سوچے سمجھے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
آخر میں جریدہ لکھتا ہے کہ خلیج فارس کی موجودہ صورتِ حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران نے اس تصادم میں [کے اگلے مراحل کے لئے] پہل کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے، اور واشنگٹن کو ایسے مسائل میں الجھا دیا ہے جن کے لیے ٹرمپ کے پاس کوئی واضح جواب نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ