اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے رکن علی فیاض نے حکومتِ لبنان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق مؤقف اختیار کرے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی فیاض نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مفاہمت یا جنگ کے خاتمے سے متعلق پیش رفت لبنان کے لیے بھی اہم ہو سکتی ہے، لہٰذا حکومت کو صہیونی ریاست کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے حوالے سے اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومتی پالیسی نے لبنان کو مشکلات سے نکالنے کے بجائے مزید پیچیدگیوں میں مبتلا کر دیا ہے اور ملک کی مذاکراتی و سیاسی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔
علی فیاض نے کہا کہ حکومت کو اپنی سابقہ پالیسیوں اور فیصلوں کا جائزہ لینا چاہیے اور ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جو قومی مفادات، مکمل جنگ بندی اور لبنانی علاقوں سے غیر ملکی افواج کے انخلا کو یقینی بنا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کا حق ریاست کے پاس ہے، تاہم حکومت کو بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے کرنے کے بجائے لبنان کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق مزاحمتی قوتوں کو نظرانداز کرنا ملک کے اندرونی توازن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب لبنانی ذرائع کے مطابق لبنان اور صہیونی ریاست کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آئندہ ہفتوں میں واشنگٹن میں متوقع ہے، جہاں سرحدی اور سکیورٹی معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔
حزب اللہ نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی مستقل جنگ بندی کے لیے لبنانی سرزمین سے مکمل انخلا، سکیورٹی ضمانتیں اور لبنانی قیدیوں کی رہائی بنیادی شرائط ہونی چاہئیں۔
آپ کا تبصرہ