4 مارچ 2026 - 22:06
عرب ممالک میں امریکی ٹھکانوں پر حملہ ایران کا جائز حق ہے، عبدالباری عطوان

ایک عرب تجزیہ کار نے کہا: ایران کو حق حاصل ہے کہ عرب ممالک میں واقع امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کرے۔ 

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹرانس ریجنل اخبار رَأیُ الیوم کے چیف ایڈیٹر اور بین الاقوامی امور کے مشہور فلسطینی تجزیہ کار عبد الباری عطوان نے عرب ممالک میں امریکی اڈوں پر ایران کے انتقامی حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اپنے اداریئے میں لکھا ہے:

بہت سے عرب ممالک نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین میں کئی امریکی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں کی مذمت کی ہے، اور ان حملوں کو ان عرب ممالک کی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا، حالانکہ انہوں نے ایران پر خونریز اور وحشیانہ امریکی-صہیونی جارحیت کی مذمت سے گریز کیا۔

اس حوالے سے چند نکات کو واضح ہونا چاہئے:

ـ عرب ممالک میں امریکی اڈوں پر امریکی جھنڈا لہرایا گیا ہے اور واشنگٹن میں امریکی حکام ان اڈوں پر مکمل تسلط رکھتے ہیں، اور میزبان ممالک ان اڈوں کے اندر ہونے والی سرگرمیوں اور وہاں سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرون طیاروں جیسے اقدامات سے سے بے خبر ہیں۔

مثال کے طور پر قطر کے سابق وزیر ا‏عظم و وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم آل ثانی نے کہا: قطر یہ نہیں جانتا کہ اس کی سرزمین پر قائم کردہ العدید کے امریکی اڈے میں کیا ہو رہا ہے، اور اس کو یہ سب جاننے کا حق بھی حاصل نہیں ہے!۔ قطر ہوتا کون ہے کہ وہ ان اڈوں میں امریکی معماملات میں مداخلت کرے اور اپنی ہی فوجی قیادت کو کوئی حکم دے!! انھوں نے درست کہا تھا۔

- ان اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کیا گیا اور ایران کے اندر فوجی اور فوجی مراکز پر میزائل اور ڈرون ان ہی ممالک سے داغے گئے۔

- ایران پر حملوں کے تمام تر منصوبے ان ہی اڈوں میں تیار کئے جاتے ہیں جن میں قطر میں واقع العدید ہوائی اڈہ سر فہرست ہے۔ چنانچہ ان پر جوابی حملہ در حقیقت جارحیت کا جواب سمجھا جاتا ہے۔

- ایران نے ایک سے زیادہ مرتبہ اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے نہ کہ ان اڈوں کے میزبان عرب ممالک کو؛ اور یہ بات بالکل درست ہے، کیونکہ کوئی بھی عرب شہری یا ان ممالک میں مقیم کوئی بھی غیر ملکی مزدور یا کارکن، ان حملوں میں ہلاک نہیں ہؤا ہے اور ان حملوں میں صرف امریکیوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔

۔ ایران ایک برادر اسلامی ملک ہے جس نے ہرگز کوئی بھی جنگ شروع نہیں کی ہے اور امریکہ اور اسرائیل تھے جنہوں نے اس ملک پر جارحیت کا ارتکاب کیا اور اپنا دفاع ایک جائز حق ہے جس کی الٰہی قوانین اور دینی احکام ضمانت دی گئی ہے اور تمام عرب اور اسلامی ممالک پر فرض ہے کہ ایران کے ساتھ کھڑے ہوجائیں، بالخصوص اس لئے کہ امریکی اور صہیونی جارحیت عرب اور اسلامی سرزمینوں کو بھی ہڑپ کر رہے ہیں اور وغزہ پٹی میں نسل کشی کی جنگ کے مرتکب ہوئے ہیں،ایسی جنگ جو آج بھی جاری ہے۔

- امریکی اڈوں پر ایرانی حملے عرب ممالک ـ اور بطور خاص خلیج فارس کی عرب ریاستوں ـ تک محدود نہیں رہے ہیں بلکہ قبرص سمیت کئی غیر عرب ممالک میں بھی یہ اڈے ایرانی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

ایران امریکہ اور صہیونی ریاست کے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنا ہے، اس لئے کہ وہ دھمکیوں کے سامنے جھکا نہیں ہے اور ہمیشہ ہمیشہ مقاومت کے کیمپ میں کھڑا رہا ہے اور ہمہ جہت انداز سے مقاومت کی حمایت کرتا آیا ہے اور اس راستے پر عظیم شہدا کی قربانی دیتا آیا ہے اور اس کے باوجود بھی، اپنے شرافتمندانہ اسلامی اور انسانی موقف سے پیچھے نہیں ہٹا ہے۔

عبدالباری عطوان نے آخر میں لکھا ہے: اپنے دفاع کا حق ایک جائز حق ہے اور سالمیت، وقار و عزت و خودمختاری سب کے جائز حقوق ہیں، سوا ان کے جو جارحیت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ ہمارا حق ہے کہ اپنے دل کی بات کریں، اور اپنے عقائد و آراء کا اظہار کریں، خواہ بعض لوگ ـ بطور خاص عرب حکومتوں کی موجودہ شرمناک صورت حال میں ـ ہمارے خلاف کیوں نہ ہوں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha