بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بحرین میں شیعوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں شدت؛ آل خلیفہ اس بار علمائے دین کے پیچھے پڑ گئے!
بحرین میں شیعوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی لہر کے امتداد میں، اس بار شیعہ علماء کی گرفتاری کی باری آئی ہے۔ آل خلیفہ کی وزارت داخلہ نے منامہ کی جانب سے ایران کے خلاف بے بنیاد ماحول سازی کا امریکی-صہیونی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، مبینہ طور پر "پاسداران انقلاب سے منسلک ایک تشکیل" کا سراغ لگانے اور اسے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
بحرین میں شیعیان اہل بیت(ع) کا کریک ڈاؤن - خاص طور پر علمائے دین اور مذہبی رہنماؤں کے خلاف - کئی دہائیوں سے اس ملک کے سیاسی اور سماجی بحران کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک بن چکا ہے۔ 1971 میں بحرین کی ایران سے علیحدگی کے بعد آل خلیفہ خاندان کی حکمرانی مستحکم ہوئی اور اس کے بعد سے، اس ملک کی شیعہ اکثریت ہمیشہ سیاسی، سیکیورٹی اور مذہبی میدانوں میں منظم امتیازی سلوک کا شکار رہی ہے۔ یہ امتیاز طاقت کے ڈھانچے میں محرومی اور مذہبی آزادیوں میں پابندیوں سے شروع ہؤا اور گرفتاری، جلاوطنی اور ناقد علما اور مذہبی رہنماؤں کی آواز کو خاموش کرنے تک جا پہنچا۔
یہ دباؤ 2011 میں عوامی تحریک کے بعد، "بیداری اسلامی" کے زیر عنوان اٹھنے والی لہر کے ساتھ، ایک بے مثال مرحلے میں داخل ہؤا، جس میں آل خلیفہ نے آل سعود نام نہاد "درع الجزیرہ (جزیرہ کی ڈھال)" کے گماشتوں کی فوجی مدد سے عوامی احتجاج کو تشدد کے ساتھ کچل دیا، درجنوں مساجد اور حسینیات کو مسمار یا بند کر دیا، اور شیعہ دینی و سیاسی شخصیات پابند سلاسل کر دیا۔ اس دوران، بحرین کے شیعوں کے ممتاز ترین مذہبی عالم آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کے ساتھ برتاؤ اس جابرانہ پالیسی کی واضح علامت تھا، یہ وہ عالم دین تھے جن کی شہریت 2016 میں منسوخ کر دی گئی اور ان کا گھر مہینوں سیکیورٹی فورسز کے گھیرے میں رہا۔ نیز بحرین کی شیعہ اکثریت کی سب سے اہم سیاسی تحریک "الوفاق جماعت" کو کالعدم کر دیا گیا اور اس کے رہنماؤں، ـ بشمول شیخ علی سلمان، ـ کو طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اپنی رپورٹوں میں بارہا بحرین میں آل خلیفہ کے ہاتھوں شیعوں پر تشدد، من مانی گرفتاریوں، شہریت سے محرومی اور مذہبی آزادیوں پر وسیع پابندیوں پر تنقید کی ہے اور ان اقدامات کو اس ملک کی شیعہ اکثریت کا سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ روکنے کے لئے آل خلیفہ کی ساختی پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہ سلسلہ آل خلیفہ کے صہیونی دشمن کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بعد، مزید شدت کے ساتھ جاری ہے۔
درجنوں علمائے دین کی گرفتاری
بحرین کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں، جو اس صوبے (بحرین)! کی سرکاری خبر ایجنسی "بنا" نے شائع کیا، دعویٰ کیا کہ سیکورٹی فورسز نے مبینہ طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے پاسداران انقلاب اور "ولایت فقہ" کے نظریئے سے منسلک ایک تنظیم کا سراغ لگا لیا ہے!۔
اس بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اس ٹیم کے 41 مرکزی ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔
آل خلیفہ کے حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ "غیر ملکی فریقوں سے تعلقات" اور "ایران کی جارحیت سے ہمدردی" جیسے الزامات کے سلسلے میں دائر کیا گیا ہے۔
آل خلیفہ کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ اس مقدمے سے منسلک دیگر افراد کی شناخت کے لئے سیکورٹی آپریشن اور تحقیقات جاری رہیں گی اور اگر دیگر افراد کا تعلق ثابت ہو گیا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی!
اسی دوران، بحرینی ذرائع اور کارکنوں نے اطلاع دی ہے کہ آل خلیفہ کی سیکورٹی فورس نے درجنوں شیعہ علماء ـ بشمول "جمیل العالی"، "محمود العالی"، "رضی القفاص" اور "جاسم المؤمن" ـ کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق، گرفتار شدگان کے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کو اب تک ان کی حراست کے مقام اور صحت و سلامتی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ کچھ بحرینی کارکنوں نے ان گرفتاریوں کو سیاسی اور فرقہ وارانہ جہتوں کا حامل قرار دیا ہے۔
اسنا (ISNA) کی رپورٹ کے مطابق، آل خلیفہ نے گذشتہ برسوں کے دوران بارہا بحرینی حزب اختلاف کے گروپوں پر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بے بنیاد الزامات لگائے ہیں، ایسے دعوے جنہیں ایران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے اور آل خلیفہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی تردید کی ہے۔

نکتہ:
واضح رہے کہ صہیونیوں کے حلقہ بگوش بحرینی، اماراتی، اردنی قطری اور سعودیہ امریکی-اسرائیلی اڈوں کی میزبان ریاستیں ہیں۔ ان اڈوں کو ایران پر حالیہ امریکی-صہیونی جارحیت کے دوران وسیع پیمانے پر ایران کے خلاف استعمال کیا گیا تو ایران نے ان اڈوں کو نیست و نابود کر دیا۔
کچھ ریاستوں نے حالات کو سمجھ لیا اور کچھ پیچھے ہٹ گئیں لیکن بحرین اور امارات نے بےشرمی کی انتہا کرتے ہوئے نہ صرف امریکی-اسرائیلی اڈوں پر ایرانی حملوں کو اپنے اوپر ایرانی جارحیت قرار دیا بلکہ پرائی جنگ میں "فتح کا باقاعدہ اعلان" بھی کردیا! حالانکہ ان کے آقا ـ صہیونی اور امریکی ـ اس جنگ میں رسوا کن شکست سے دوچار ہوئے ہیں اور ابھی تک فتح و کامرانی کے اعلان کی ہمت نہیں کر سکے ہیں۔
امارات اور بحرین اپنی تمام تر زدپذیریوں اور ایران کی طرف سے بالکل جائز انتقامی کاروائیوں کے امکان کے باوجود، جنگ بندی کے بعد بھی ایران کے خلاف اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں؛ گویا انہیں اندازہ نہیں ہے کہ جس طرح کہ امریکیوں اور صہیونیوں نے جنگ کے دوران ان کی سرزمینوں کو اپنے عزائم کے لئے استعمال کیا اور ان کی حفاظت کا وعدہ بھول گئے، جنگ کے خاتمے کے بعد بھی ان کی مدد کو نہیں آئیں گے، حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے بعد وہ پھر بھی ایران کے پڑوسی رہیں گے، کیونکہ دوست اور دشمن کو بدلا جا سکتا ہے لیکن پڑوسی کو ہرگز نہیں۔
چنانچہ انہیں احتیاط کی ضرورت ہے گوکہ کسی نے درست کہا تھا کہ اچانک امیر بننے والے شتربان خاندانوں کی ذہنی اور فکری نشوونما بہت ہی زیادہ سست ہوتی ہے اور وہ حقیقت کو مار کھا کر سمجھ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: خدیجہ مہدوی
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ