بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ خبر رساں ادارہ اہل بیت(ع) ابنا کی رپورٹ کے مطابق، آج حزب اللہ کے دو عظیم الشان شہداء، سید حسن نصراللہ اور سید ہاشم صفی الدین کے تاریخی تشییع جنازہ کی برسی ہے۔ اس شاندار دن کے بے شمار مناظر، اور بیروت کے وہ نظارے ـ جس نے شاید اپنی تاریخ میں اتنا بڑا مجمع کبھی نہ دیکھا ہو ـ یادوں میں نقش ہو گئے ہیں۔ 23 فروری، وہ دن جب عوام نے سید مقاومت سے وداع کیا۔
جن دنوں لبنان غاصب صہیونی ریاست کے خطرات کے سائے میں تھا، لوگوں نے بغیر کسی خوف کے تشییع جنازہ کے راستے میں مارچ کیا۔ انھوں نے اپنے چہرے مبارک تابوتوں کی طرف موڑ لئے اور جیسے ہی شہداء کے پاکیزہ پیکر نمودار ہوئے، گلے جذبات سے بھر گئے اور پورے راستے میں تجدید بیعت کے طور پر ہاتھ بلند ہوتے رہے، گویا ان کے دل ان کے سینوں سے نکل کر شہیدوں کی پیروی کرنے لگے تھے۔ یہ منظر ایک تجدید شدہ عہد تھا، نہ کہ حتمی وداع۔ امتِ سید نے "ہم اپنے عہد پر قائم رہیں گے" کے عہد کی تجدید کی، اور یہ تشییع جنازہ، جیسا کہ حزب اللہ کے دبیرکل جناب شیخ نعیم قاسم نے زور دے کر کہا، "مقاومت جاری رکھنے کا عہد اور پیمان تھا۔"
اس شاندار اور تاریخی تشییع کی پہلی برسی پر، شیخ نعیم قاسم نے لبنان کی العہد نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے سید حسن نصراللہ کو آسمان سے سر ملاتا ہوا پہاڑ قرار دیا، اور ان کے رازدار رفیق، سید ہاشم صفی الدین کو مقاومت کا سہارا قرار دیا۔
شیخ قاسم، مقاومت کے شہید راہنماؤں کی عظمت کو یاد تازہ کرتے ہوئے، مقاومت کے سفر کے آغاز کی طرف لوٹتے ہیں اور ان رہنماؤں کی زندگی کو یاد کرتے ہیں، گویا کہ یہ سب کل کی بات ہو۔ کئی دہائیاں گذر گئیں، لیکن شیخ آج بھی انہیں شوق سے یاد کرتے ہیں۔ وہ ان کے بارے میں اس لئے بات کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے ساتھ قریب سے رہ چکے ہیں، ان کی مثالی خصوصیات نے ان کی یادداشت پر ایسی تصاویر نقش کر دی ہیں کہ وقت انہیں مٹا نہیں سکتا؛ بلکہ یہ تصاویر زیادہ پختہ اور زندہ م پائندہ ہو جاتی ہیں۔
شیخ الشہدا، شیخ راغب حرب، سرزمین جنوب [لبنان] کے فرزند ہیں، جیسا کہ سیکرٹری جنرل انہیں ابن الجنوب کہہ کر پکارنا پسند کرتے ہیں، شیخ الشہداء سے لے کر مقاومت اسلامی کے سید الشہدا، سید عباس موسوی تک، جو سب کے محبوب اور ہردلعزیز تھے، اور جنہوں نے اپنی خالص تبلیغی آگاہی سے منطقۃ البقاع کو زندہ کیا، اور نہ صرف مقاومت کے ستون "شہید عماد مغنیہ" کے ساتھ، بلکہ وہ تمام لوگ جو ان کے ساتھ کام کرتے تھے، ان سے محبت کرتے تھے، اور وہ مسلسل کام کے طریقوں کو فروغ دینے اور صلاحیتوں کو تیار کرنے میں مصروف رہتے تھے۔
شیخ قاسم، العہد نیوز ویب سائٹ کے ذریعے، شہداء کی یاد سے لے کر مقاومتی عوام تک، محبت اور وفاداری کے پیغامات منتقل کرتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو چھپاتے نہیں ہیں کہ جب سے انھوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، عوام سے ان کی محبت اور بڑھ گئی ہے، کیونکہ وہ ان کے اہل خانہ ہیں اور تحریک مقاومت اور شہداء کے فرزند ہیں۔
مکالمے کا متن:
سوال: دو شہید رہنماؤں کے عظیم الشان جنازے کی پہلی برسی پر، وہ مناظر 'دردِ فراق' اور 'عہدِ وفا کی تجدید' کے درمیان ایک 'لمحۂ اتحاد' کی مانند نظر آئے۔ اس دن کی کون سی یادیں آپ کے ذہن میں محفوظ ہیں؟ اور آپ کے خیال میں کروڑوں کے اس اجتماع کے کیا سیاسی نتائج برآمد ہوئے، اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر؟
جاری ہے ۔۔۔
آپ کا تبصرہ