رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے حج بیت اللہ کے سلسلے میں پیغام جاری کرکے فرمایا: اس سال مشرکین سے برائت (بیزاری) کی اہمیت دوہری ہے اور امریکہ اور صہیونی ریاست سے برائت کی گہرائی اور وسعت موسم حج (ایام حج) اور میقات حج کے دوران برائت عن المشرکین کے مراسمات سے بڑھ کر ہے اور ایران اور دنیا کے مختلف علاقوں میں، ان مبارک ایام کے دوران، اور اس کے بعد کے ایام میں "مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل" امت مسلمہ اور دنیا بھر کے مظلومین ـ بالخصوص نوجوانوں ـ کا رائج الوقت نعرہ بن جائے گا۔

26 مئی 2026 - 11:30

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے حج بیت اللہ کی مناسبت سے اپنے بیان میں فرمایا: اس سال مشرکین سے برائت (بیزاری) کی اہمیت دوہری ہے اور امریکہ اور صہیونی ریاست سے برائت کی گہرائي اور وسعت موسم حج (ایام حج) اور میقات حج کے دوران برائت عن المشرکین کے مراسمات سے بڑھ کر ہے اور ایران اور دنیا کے مختلف علاقوں میں، ان مبارک ایام کے دوران، اور اس کے بعد کے ایام میں "مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل" امت مسلمہ اور دنیا بھر کے مظلومین ـ بالخصوص نوجوانوں ـ کا رائج الوقت نعرہ بن جائے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے پیغام حج کا متن درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحیم

لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك...

اے میرے معبود، میں تیری دعوت قبول کرتا ہوں، کوئی بھی تیرا شریک نہیں ہے اور تمام تعریف، اور تمام نعمتیں اور تمام تر ملک اور طاقت تیری طرف سے اور تیرے لئے ہیں۔۔۔

 

اس سال حج کا موسم بھی آن پہنچا اور امت اسلام کے حج گزاروں نے تلبیہ کیا تاکہ مادی اور معمولی زندگی سے الٰہی سعادتمندانہ زندگی کی طرف ہجرت کریں؛ توحیدی زندگی حضرت حق کی بندگی کے محور پر۔

تاہم اس ہجرت کا موقع صرف اس سال کے بیت اللہ کے زائرین اور حجاج تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں تمام مسلمان بھائی اور بہنیں اور دنیا کے دوسرے باسیوں پر مشتمل ہے۔

اس ہجرت کی شرط، ایک مستقبل دائمی "ذکر اللہ کا احرام" باندھنا ہے؛ محور حق پر دائمی طواف ہے؛ [نہ صرف صفا اور مروہ کے درمیان بلکہ] فرائض الٰہیہ کے عظیم چوٹیوں کے درمیان مستقل سعی ہے؛ شریر شیطان، اس کے بہکانے پھسلانے والے جلوؤں اور اس کے تمام کو چیلوں کو مسلسل کنکریاں مارنا ہے، توجہ اور تضرع کے امتزاج پر استوار وقوف ہے؛ غریبوں، اپاہجوں اور مسافروں کو کھانا کھلانا ہے، نفسانی خواہشوں اور منحرف کرنے والی رغبتوں کی قربانی دینا اور اندرونی پلیدیوں کا زائل کرنا ہے؛ اور ہر حال میں، خدمت اور حق کے دفاع کا پرچم اٹھانے کے لئے تیار رہنا ہے۔

اور ایسا ہی تھا کہ ملت ایران نے انقلاب اسلامی کی میقات سے اسی ہجرت کی راہ پر قدم رکھا، خمینیِ کبیر کی ندا کو لیبک کر کہہ کر تسلط پذیری کا لباس اپنے جسم سے اتار دیا، دنیاوی اور اخروی سعادت کا احرام زیب تن کیا اور اور فخر و انبساط کے ساتھ خالص محمدی(ص) اسلام کے معارف کے محور پر طواف ـ اور عالمی عدل اور ولایتِ عظمیٰ کی قربت پانے ـ کے لئے کوشاں ہوئی۔

اَللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ اَللَّهُ أَكْبَرُ عَلى ما هَدنا

جی ہاں! اللہ اکبر۔۔۔

اور اسی اللہ اکبر کے ہتھیار سے ہی ایران کی مسلمان قوم نے 47 سال پہلے قیام کیا [اور انقلاب بپا کیا]، طاغوتی استبدادی اور [استکباری طاقتوں سے] وابستہ پہلوی حکومت کو گرا دیا اور لالچی اور مستکبر امریکہ کی ٹانگیں توڑ دیں اور صہیونیت کے اثر و رسوخ کو مکمل طور پر کاٹ کر رکھ دیا۔

اسی اللہ اکبر کے ہتھیار سے ہی ـ صدام کی بعثی حکومت کی جارحیت کے بعد ـ غیور مجاہدین اور جانباز نوجوانوں نے آٹھ سالہ مقدس دفاع کا عظیم کارنامہ رقم کیا اور بعث رجیم کے تئیں مشرق و مغرب کی تمام طاقتوں کی حمایتوں کے باوجود، اس کو اپنی جگہ بٹھا دیا، اور اس استقامت کو بعد کے بہت سے برسوں کے دوران، اقتصادی ناکہ بندیوں، بغاوتوں، ظالمانہ پابندیوں اور اسلامی جمہوریہ کے دشمنوں کے بے شمار سیاسی، تشہیراتی اور اقتصادی حملوں کے مقابلے میں ـ مضبوطی اور استواری کے ساتھ ـ جاری رکھا۔

واللہ اکبر۔۔۔

یہی اللہ اکبر کا ہتھیار تھا جس نے ایران سے لبنان اور فلسطین اور عراق و شام تک، افریقہ سے افغانستان و پاکستان اور دوسری حریت پسند اقوام تک امت اسلامی اور محاذ مزاحمت کے مجاہند نوجوانوں کے اتصال کو مستحکم کیا تاکہ یہ حَبْلُ الْمَتِین (اور محکم سلسلہ) امت اسلامی ـ غاصب و جارح صہیونیوں کے خلاف، امت اسلامی کے وجود اور حیثیت کے دفاع کے لئے اٹھے، داعش کی بساط کو لپیٹ لے، طوفان الاقصیٰ کا اہتمام کرے، اور متزلزل صہیونی ریاست کو جانکنی سے دوچار کردے۔

اللہ اکبر؛

جی ہاں! خدائے تبارک و تعالیٰ وصف میں آنے سے کہیں بڑا ہے۔۔۔

یہی اللہ اکبر کا ہتھیار تھا جس کا سہارا لے کر اسلامی جمہوریہ ایران نے دوسری مسلط کردہ جنگ (جون 2025ع‍) میں صہیونی ریاست کو اپنی بھاری ضربوں سے مفلوج کرکے رکھ دیا، جارح امریکہ کے منہ پر بھاری طمانچہ رسید کیا اور دشمن کو ـ ایران کے جھکانے کے ـ اپنے مقصد میں ناکام بنایا۔

اور اللہ اکبر کے ہتھیار نے ملت ایران کو ایسی قوت اور طاقت بخشی کہ عالمی اشقیاء کے ہاتھوں قائد عظیم الشان، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فَرْزَنْدِ خَلَف، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ الشریف کی شہادت کے بعد [اس قوم نے] الٰہی بعثت پائی اور ضرورت کے مطابق ہر میدان میں حاضر ہوکر دنیا کی آنکھوں کو اپنی فخر آفرینیوں سے خیرہ کر دیا۔

اللہ اکبر؛ یقینا خدائے تبارک و تعالیٰ اس سے کہیں بڑا ہے کہ وصف میں آ جائے۔۔۔

اسی اللہ اکبر کے ہتھیار سے ہی اسلامی ایران میں غیور مجاہدین اور جان فدا (و جان نثار) فورسز نے، محور مقاومت کے مجاہدوں ـ بالخصوص پیارے لبنان ـ کے ساتھ مل کر، تیسری مسلط کردہ جنگ میں، دو امریکی-صہیونی دہشت گرد اور کیل کانٹے سے لیس فوجیوں کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرلیں؛ اور رب متعال پر توکل کرکے اپنے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے، زمین، فضا اور سمندر میں، بڑے شیطان ـ یعنی امریکہ ـ اور اس کا پالتو جانور ـ یعنی صہیونی ریاست کو رمی کیا [اور کنکریاں ماریں]، اور مجاہدین کی نصرت کے بارے میں اللہ کے سچے وعدوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔

اور بھی اللہ اکبر؛ بے شک خدائے تبارک و تعالیٰ اس سے کہیں بڑا ہے کہ وصف میں آجائے، اور اس کے لشکر کسی بھی لشکر پر غالب ہیں۔۔۔

اور اسی اللہ اکبر کے ہتھیار سے ہی، ملت ایران اور محاذ مقاومت کی بعثت کے بعد، امت مسلمہ کی بعثت رقم ہوگی اور مشرکین سے بیزاری و برائت، حج کے دوران کی رمیِ جمرات سے ـ دنیا کے گوشے گوشے میں ـ مسلمانوں کی فردی، سماجی اور سیاسی زندگی تک فروغ پائے گی۔

امت مسلمہ اور خطے کی قومیں بہت سی اہلیتوں اور بہت سارے مشترکہ مفادات کے حامل ہیں جو خطے کی نئی ترتیب (New Order) دنیا کے جدید نقشے کو تشکیل دیں گے۔

میں صدق و خلوص کے ساتھ، تمام تر اسلامی ممالک اور حکومتوں کو خیر و نیکی کی بنیاد پر دوستی اور تعاون کی دعوت دیتا ہوں تاکہ ہم امت مسلمہ کی ترقی اور دنیائے اسلام کے مسائل حل کرنے کے راستے میں باہمی تعاون سے قدم اٹھائیں۔

جو کچھ اس سلسلے میں ناقابل انکار ہے، یہ ہے کہ گھڑی کی سوئیاں پیچھے کی طرف نہيں لوٹا کرتیں، اور خطے کی اقوام اور سرزمینیں مزید امریکی اڈوں کی ڈھال نہیں بنیں گی؛ امریکہ نہ صرف اپنی شرانگیزیوں کے لئے اس خطے میں کوئی محفوظ ٹھکانہ یا فوجی اڈہ نہیں پا سکے گا، بلکہ روز بروز اپنی ماضی والی پوزیشن سے دور ہوتا جائے گا۔

متزلزل صہیونی ریاست اور اسرائیل کا سرطانی پھوڑا بھی اپنی منحوس عمر کے آخری مراحل کے قریب پہنچ گیا ہے اور اللہ کے فضل سے ـ اور عظیم الشان رہبرِ شہید قَدَّسَ اللهُ نَفسَهُ الزَّکِیَۃَ کے عشروں قبل کے کلامِ قاطع کے مطابق، ـ اس تاریخ کے بعد کے 25 سالوں کو نہیں دیکھ پائے گا۔ ان شاء اللہ۔

اسی بنا پر، اس سال مشرکین سے برائت کی دوہری اہمیت ہے، اور امریکہ اور صہیونی ریاست سے برائت کی گہرائي اور وسعت موسم حج (ایام حج) اور میقات حج کے دوران برائت عن المشرکین کے مراسمات سے بڑھ کر ہے اور ایران اور دنیا کے مختلف علاقوں میں، ان مبارک ایام کے دوران، اور اس کے بعد کے ایام میں "مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل" امت مسلمہ اور دنیا بھر کے مظلومین ـ بالخصوص نوجوانوں ـ کا رائج الوقت نعرہ بن جائے گا۔

مستقبل امت مسلمہ اور جدید اسلامی تہذیب کا ہے اور ہم میں سے ہر ایک اپنی ہمت، صلاحیت اور ذمہ داری کے مطابق اس مستقبل کی تعمیر اور اس کے قریب تر پہنچنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

ایرانی زائرین اور حجاج کرام، اس سال کے حج میں، مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو تیسری مسلط کردہ جنگ کی روایتِ فتح (اور فتح کی روداد سنانے) ـ اور روشن مستقبل کے سلسلے میں انہیں پرامید بنانے ـ میں انتہائی مؤثر اور نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔

تمام حجاج کرام سے اپیل کرتا ہوں کہ انسانیت کے نجات دہندہ حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ تعالیٰ فَرَجَہُ، کے ظہور میں تعجیل کے دعا کریں، اور امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی، فلسین اور مسجد الاقصیٰ کی آزادی، مسلمانوں کی بڑی بڑی مشکلات کے ازالے اور عالمی استکبار کے مقابلے میں حتمی اور آخری فتح کے حصول کر لئے دعا کریں اور مجھے بھی اپنی دعائے خیر میں شامل کریں۔

اے پروردگار! محمد و آل محمد پر درود بھیج، اور حجاج کرام اور پوری امت مسلمہ کو اپنی مہربانی اور رأفت میں شامل کر، انہیں حج مقبول کی توفیق عطا کر، ان کے دلوں کو معرفت اور بصیرت کی روشنی سے منور فرما اور امت کے حالات سنوارنے دشمنان اسلام پر فتح و نصرت کے راستے میں ان کے عزم و ارادے کو پختہ اور محکم تر اور راسخ تر کر دے۔

اے پروردگار! اپنا فضل اور اپنی رحمتِ واسعہ اپنے راستے کے شہداء ـ بالخصوص محاذ مزاحمت کے شہداء اور ان میں سر فہرست عظیم الشان رہبرِ شہید ـ کی ارواحِ مطہرہ پر نازل فرما۔

اور قائد امت کی ہدایت و قیادت سے فیضیاب ہونے والے حاجیوں کے حج اور عبادت گزاروں کی عبادت اور کوشش کرنے والوں کی سعی میں سے، حظ وافر ان کے نصیب فرما اور ملت ایران اور امت مسلمہ کو ان کا مشن جاری رکھنے میں مدد فراہم کر۔

اے پروردگار! اپنی بہترین صلوات و تحیات کو ہمارے سرور و مولا حضرت مہدی مُنتَظَر صلوات اللہ و سلامہ علیہ و علیٰ آبائہ الطاہرین پر نازل فرما اور ہم سب اور امت اسلامیہ کو آنحضرت کی مستجاب اور خالص دعاؤں میں شامل فرما اور عالم کو آپ کے مبارک قدموں سے منور اور مزین فرما، جیسا کہ تو نے وعدہ فرمایا ہے۔

والسلام علیٰ جمیع إخواننا المسلمین ورحمۃ اللہ وبركاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

مورخہ 9 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ

25 مئی 2026ع‍

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha