10 فروری 2026 - 06:12
ایپسٹین کیس؛ مغربی لبرل جمہوریت کی حتمی پیداوار

ایپسٹین ایک حاشیائی اور معمول کردار نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا فرد ہے جس تک امریکہ اور یورپ کے سیاسی، مالی اور میڈیا اشرافیہ کی وسیع پہنچ تھی۔ اس کے اردگرد اعلیٰ سطحی سیاستدانوں، ارب پتیوں، علمی شخصیات اور بااثر افراد کی بار بار موجودگی نے اس حقیقت کو آشکار کر دیا کہ طاقت کا ایک نیٹ ورک برسوں سے "قانون کے محفوظ کنارے" میں اپنے یا اپنے آقاؤں کے لئے کام کر رہا تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی خبررساں ایجنسی اہل بیت (ع) کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے ادارہ برائے ثقافت و بین الاقوامی روابط کے سربراہ، حجت الاسلام والمسلمین محمد مہدی ایمانی پور، نے "ایپسٹین کیس مغربی لبرل جمہوریت کی حتمی پیداوار" کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا ہے جس کا متن درج ذیل ہے:

ان دنوں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایک امریکی بدعنوان سرمایہ دار جیفری ایپسٹین کا نام اور اس کے وسیع و عریض بدعنوانیوں کا کیس پہلی سرخی کے طور پر گردش کر رہا ہے۔ مغربی ذرائع اس معاملے کو ایک منظم اور بنیادی نظریئے کے طور دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے اسے محض ایک "تکلیف دہ واقعے" یا "استثنائی واقعے" تک محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تاہم، ایپسٹین کیس کے حوالے سے صرف متن کو دیکھنے کے بجائے ماورائے متن، اس کے سیاق و سباق کو بھی دیکھنا چاہئے۔

اس سلسلے میں کچھ نکات پر توجہ دینا ضروری ہے:

پہلا نکتہ یہ کہ جیفری ایپسٹین کیس کو محض ایک اخلاقی اسکینڈل یا انفرادی انحراف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ کیس درحقیقت مغربی لبرل جمہوریت کے ڈھانچے میں "طاقت، دولت، بدعنوانی اور سیاسی استثنیٰ کے ملاپ" کی سب سے شرمناک ترین اور آشکارترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایسا ڈھانچہ ہے جس نے سالوں تک شفافیت، قانون کی حکمرانی اور سیاسی اخلاقیات کے نعرے لگاتے ہوئے خود کو عالمی نمونے کے طور پر متعارف کرایا؛ لیکن اس قسم کے کیس کا سامنا کرکے خود کو بے بس اور لاچار پا رہا ہے۔

ایپسٹین ایک حاشیائی اور معمولی کردار، بلکہ وہ ایک ایسا فرد ہے جس تک امریکہ اور یورپ کے سیاسی، مالی اور میڈیا اشرافیہ کی وسیع پہنچ تھی۔ اس کے اردگرد اعلیٰ سطحی سیاستدانوں، ارب پتیوں، ساننسدانوں اور بااثر افراد کی بار بار موجودگی نے اس حقیقت کو آشکار کر دیا کہ طاقت کا ایک نیٹ ورک سالوں سے قانون کے محفوظ کنارے (Safe Side) پر اپنے یا اپنے آقاؤں کے لئے کام کر رہا تھا۔

بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر شواہد اور رپورٹس کے باوجود، ایسا نیٹ ورک سنجیدہ عدالتی نگرانی اور کارروائی سے کیونکر محفوظ رہ سکتا ہے؟ اس کا جواب "منظم بدعنوانی (Systematic Corruption)" کے تصور میں پوشیدہ ہے۔ اس سطح پر، مسئلہ صرف ایک فرد کا جرم نہیں، بلکہ وہ ڈھانچہ ہے جو انحراف، فساد اور بدعنوانی کی حفاظت کرتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے عیاں ہؤا کہ جمہوریت کے دعویدار نظاموں میں قانون سب کے لئے یکساں نہیں ہوتا۔ دولت اور اثر و رسوخ انصاف کو معطل کر سکتے ہیں، اور مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ بھی مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے اکثر سطحی اور کنٹرول شدہ روایات پر انحصار کرتے ہیں۔

دوسرا نکتہ یہ کہ اس کیس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کیس سیکورٹی مسئلہ بن گیا۔ متعدد شواہد، بشمول تحقیقاتی صحافیوں کے بیانات اور غیر رسمی دستاویزات، بتاتی ہیں کہ ایپسٹین صرف ایک جنسی مجرم نہیں تھا، بلکہ ایک وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ تھا۔ یہ ایسا نیٹ ورک تھا جس کا مقصد گمراہ سیاستدانوں اور بدعنوان اشرافیہ سے حساس معلومات جمع کرنا اور انہیں دباؤ اور بلیک میلنگ کے اوزار کے طور پر استعمال کرنا تھا۔

اس تناظر میں، "ایپسٹین کا جزیرہ" محض ایک تفریحی مقام نہیں، بلکہ سیاسی اثر و رسوخ کی منصوبہ بندی کے لئے ایک قسم کا "آپریشن روم" تھا۔

اسی تناظر میں، ایپسٹین کے موساد (اسرائیلی خفیہ ایجنسی) کےساتھ تعلق کا معاملہ اس کیس کا سب سے زیادہ متنازعہ اور فیصلہ کن پہلو ہے۔ ایسی صورت حال میں ایپسٹین کیس امریکہ کے داخلی اسکینڈل سے آگے بڑھ کر ٹرانس نیشنل انٹلیجنس گیمز کی سطح تک پہنچ جاتا ہے۔

ایسے منظر نامے میں، اخلاقی بدعنوانی سیاسی فیصلوں کو کنٹرول کرنے کے آلے میں بدل جاتی ہے اور سیاستدانوں کی آزادی عملاً افشا اور رسوائی کے خطرے کے سائے میں آ جاتی ہے۔ ایپسٹین کے جیل میں مر جانے، ابہام بھی بیچ میں آتا ہے جو اس تصویر کو مزید مکمل کر دیتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جو جدید ترین سیکیورٹی اور نگرانی کے نظامات کا دعویدار ہے، ایک انتہائی حساس قیدی کی اچانک موت ـ وہ بھی زیر حراست، جبکہ کیمرے اچانک کام کرنا چھوڑ چکے ہوں اور نگرانی میں خلل پڑ گیا ہو، ـ قابلِ یقین ہونے کے بجائے زیادہ سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ اس موت نے عملاً سچائی کے مکمل انکشاف کے راستے کو بند کر دیا اور کیس کو ہمیشہ کے لئے ابہام کے دائروں میں داخل کر دیا۔ عوام کو یہ پیغام ملا کہ "کچھ حقائق" کو منظر عام پر لانے کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

تیسرا نکتہ اس کیس پر امریکی سیاسی نظام اور طاقت کے ڈھانچے کا ردعمل ہے جو بجائے خود بہت قابل غور ہے۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلکن، بیشتر معاملات پر شدید اختلافات کے باوجود، ایپسٹین کے معاملے میں "مشترکہ احتیاط" پر مبنی رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ غیر تحریری ہم آہنگی عیاں کرتی ہے کہ ایپسٹین کیس محض ایک جماعتی مسئلہ نہیں، بلکہ امریکی طاقت کے پورے ڈھانچے کے لئے خطرہ ہے اور اس کا مکمل انکشاف امریکہ کی سیاسی، عدالتی اور یہاں تک کہ ابلاغی و تشہیری مشروعیت و قانونیت کو سنگین چیلنجوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

میڈیا کے نقطہ نظر سے، ایپسٹین کا کیس مغرب میں اظہار رائے کی آزادی کا ایک بڑا امتحان تھا؛ ایسا امتحان جس کے نتائج تشویشناک ہیں۔ بہت سے مین اسٹریم ذرائع نے کیس کی گہری تہوں تک پہنچنے کے بجائے محدود اور کنٹرول شدہ بیانیوں پر اکتفا کیا۔ اس رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کی آزادی بھی اس مقام پر ـ جہاں طاقتور اشرافیہ کے مفادات خطرے میں پڑتے ہیں، ـ غیر تحریری سرخ لکیروں سے دوچار ہو جاتی ہے۔

لیکن آخری نکتہ مغرب کے مبینہ لبرل جمہوری نظام اور اخلاق و سیاست کی سطح پر  اس کے نتائج سے متعلق ہے؛ وسیع تر سطح پر، ایپسٹین کا کیس لبرل جمہوریت کے اخلاقی بحران کے بارے میں ایک انتباہی نشان ہے۔

ایسا نظام جو آزادی کو اخلاقی ذمہ داری سے الگ کر دے اور سیاست کو انسانی اقدار سے خالی کر دے، لامحالہ ایسے واقعات کا سامنا کرے گا۔ ایپسٹین کوئی استثنیٰ نہیں، بلکہ اس ڈھانچے کا منطقی نتیجہ اور پیداوار ہے؛ ایسا ڈھانچہ جس میں اخلاقیات سے عاری طاقت، اور لامحدود بدعنوانی معمول بن گئی ہے۔

جیفری ایپسٹین کا کیس عالمی رائے عامہ کے لئے ایک واضح پیغام کا حامل ہے: اخلاقیات سے عاری سیاست جلدی یا بدیر قانونیت و مشروعیت کے لحاظ سے بند گلی میں پھنس جاتی ہے۔ حقیقت کو دفن کرنا، افراد کو ہٹانا اور بحران کا ابلاغیاتی بندوبست!، شاید قلیل مدت میں کارآمد ہو، لیکن طویل مدت میں عوامی اعتماد کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ایپسٹین مر گیا، لیکن اس کے کیس نے جو سوال اٹھائے، وہ پہلے سے کہیں زیادہ زندہ ہیں۔ ایسے سوالات جو طاقت کی حقیقی نوعیت، آزادی کی حدود اور ناکام لبرل نظام کے بارے میں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha