بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || عرب دنیا کے نامور تجزیہ کار کا خیال ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور محور مقاومت نے امریکہ کے لئے عَرْصَۂ حَیات تَنگ کر دیا ہے اور مغربی ایشیا سے امریکی فوجیوں کا فرار اس وقت شروع ہو چکا ہے۔
امریکی وزارت جنگ کے انسپیکٹر جنرل نے منگل کے روز ایک رپورٹ شائع کرتے ہوئے پہلی بار باضابطہ طور پر یہ تسلیم کیا کہ گذشتہ چھ مہینوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنے جنگی اخراجات 33 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
بدالباری عطوان کا ماننا ہے کہ اس رپورٹ کی اشاعت کا مقصد ایران کے خلاف جنگ روکنا، امریکی فوجیوں اور طیارہ بردار بحری جہازوں کی مکمل پسپائی اور علاقے میں 50 سے زائد فوجی اڈوں کو بند کرنے کے لئے ماحول ہموار ہموار کرنا ہے۔
انھوں نے اس رپورٹ کو امریکیوں کی طرف سے شکست کا ابتدائی اعتراف اور ایک تیز رفتار عملی طریقہ کار قرار دیا جو اس ملک کے فوجی ادارے نے نقصانات کم کرنے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غفلت و لا پروائی اور اس جنگ کے دلدل میں دھنسنے کے سامنے بند باندھنے کے لئے اختیار کیا ہے۔

عطوان کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ کا تسلسل پینٹاگون کے نئے نظریئے (New Doctrine) سے متصادم ہے، اور امریکی وزارت جنگ طویل فرسودہ کرنے والی جنگ (War of attrition) کے جال میں پھنس پھنس جانے اور جانی و مالی نقصانات سے بچنے کی خواہاں ہے۔ [گوکہ ممکن ہے کہ نادان وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ ـ جس نے امریکی جرنیلوں کی برطرفی کو اپنا مشغلہ بنا رکھا ہے ـ جاری رکھنے کا خواہاں ہو!]
اس رپورٹ میں پہلی بار یہ انکشاف ہؤا کہ ایران کی مسلح افواج نے امریکہ کے 42 سے زائد لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں، جن میں ایک ریڈار سے بچنے والا [اسٹیلتھ] لڑاکا طیارہ ایف-35، چار ایف-15، 12 فضا میں ایندھن بھرنے والے طیارے، ایک جاسوسی طیارہ آواکس، اور 30 ایم کیو-9 ڈرون شامل ہیں۔ [واضح رہے کہ اب تک 52 ایم کیو-9 ڈرون گرا دیئے گئے ہیں، اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مناسب وقت پر امریکی مالی اور جانی نقصانات کی تفصیل جاری کی جائے گی۔]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ