بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی نے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈی پر آبنائے ہرمز کی صورتحال کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہمیں آبنائے ہرمز کے کھلے یا بند رہنے کے اثرات کو عملی میدان میں، اور عالمی معیشت و توانائی پر اس کے اثرات کی رو سے دیکھنا چاہئے۔ اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی منتقلی کے امریکی دعوے درست ہوتے، تو تیل کی قیمت کم ہونی چاہئے تھی؛ جبکہ ایسا نہیں ہؤا اور قیمت میں اضافہ ہؤا۔
انھوں نے مزید کہا: میں پورے وثوق اور تاکید کے ساتھ کہتا ہوں کہ سپاہ بحریہ اور ایرو اسپیس فورس کے مجاہدین پوری قوت سے، اور آبنائے ہرمز پر مکمل آپریشنل و انٹیلیجنس تسلط کے ساتھ، جنگ کے اس میدان پر حاوی ہیں اور اسے کنٹرول کر رہے ہیں۔
سپاہ کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف نے اس صورتحال کو بدلنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا: یہ کوششیں عام طور پر ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں اور سپاہ بحریہ کی طاقت انہیں کامیاب نہیں ہونے دیتی۔
میجر جنرل ایزدی نے زور دے کر کہا: یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اسلامی جمہوریہ ایران چاہے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ