بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بین الاقوامی تعلقات کے ممتاز نظریہ ساز اور شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جان میئر شیمر کا ماننا ہے کہ ایران میں سیاسی ارادے اور ثابت شدہ فوجی طاقت کے باہمی ربط نے ٹرمپ کو ایک دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے: "جنگ جاری رکھنا اور اس کے نتیجے میں بڑی تباہی، یا شکست قبول کرنا اور ایران کو بڑی رعایتیں دینا۔" وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ امریکی خارجہ پالیسی کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے جس کا سب سے چھوٹا نتیجہ علاقے میں واشنگٹن کے اڈوں، مقام اور وقار کا زوال ہے۔
میئر شیمر کا خیال ہے کہ امریکہ کے لئے جنگ سے باوقار انخلا کا موقع تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ٹرمپ اب ایسی صورت حال سے دوچار ہے کہ عملاً محدود فتح کا اعلان بھی اس کے لئے ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کے پاس کوئی عملی اقدام کا امکان نہیں ہے اور یہ جنگ بہرحال امریکہ کے لئے ایک فیصلہ کن اور تباہ کن شکست پر منتج ہوگی، جسے مستقبل میں امریکی تاریخ کی خارجہ پالیسی کے سب سے بڑے المیوں میں سے ایک کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
میئرشیمر ٹرمپ کے رویئے کو متضاد اور اس کے بیانات کو غیردانشمندانہ قرار دیتے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ یہ سب اس تعطل اور بےبسی کی نشاندہی کرتا ہے جس میں ٹرمپ پھنس چکا ہے۔
ایران اس مقام پر ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرائط امریکہ پر مسلط کر سکتا ہے
میئر شیمر وضاحت دیتے ہیں کہ جنگ میں طاقت کا توازن اب ایران کے حق میں ہو چکا ہے اور تہران کے پاس تنازع کی سمت متعین کرنے میں پہل کا امکان زیادہ ہے، خاص طور پر مفاہمتی یادداشت کی 60 روزہ مہلت ختم ہونے کے بعد، ایران خود جنگ کے خاتمے کی شرائط طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
میئر شیمر کے مطابق، آبنائے ہرمز اس صورت حال میں ایران کی طرف سے دباؤ کا سب سے اہم ہتھیار ہے، جس نے اسے کھولنے کو امریکہ کی جانب سے اپنے کلیدی مطالبات کی قبولیت سے مشروط کر دیا ہے۔
میئر شیمر زور دیتے ہیں کہ اگر امریکہ آبنائے کو کھولنے کے لئے پہلے ان مطالبات کو قبول کرنے پر مجبور ہو، تو عملاً وہ اپنے زیادہ تر سودے بازی کے اثاثے کھو دے گا اور جوہری مسئلہ ایک معمولی معاملہ بن کر رہ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ