23 اکتوبر 2026 - 17:50
خطے میں توانایی کے شعبے میں ایران کا اپڈیٹڈ ٹارگٹ بینک - 2

تیل کی قیمت میں دوبارہ اضافے نے عالمی توجہ سعودی عرب، امارات، قطر، کویت اور بحرین میں موجود ان بنیادی ڈھانچوں کی طرف مبذول کرائی ہے جو دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور جن میں خلل کے اثرات عالمگیر ہونگے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران پر امریکہ اور صہیونی رجیم کی مسلط کردہ جنگ کو صرف ایک مہینہ گذرا تھا کہ تیل کی قیمت 113 ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور خطے میں تیل کی 40 تنصیبات متاثر ہوئی تھیں، جب بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول (Fatih Birol) نے کہا تھا کہ "دنیا تاریخ میں توانائی کی سلامتی کے سب سے بڑے خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔"

دوسری اور آخری قسط:

ابقیق ـ پیٹرولائن

سعودی عرب کے مشرق میں ابقیق (یا بقیق) تیل تنصیبات ـ بڑے تیل بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ایک اہم اور اسٹریٹجک مرکز کی حیثیت سے ـ دنیا میں خام تیل کی پیداوار کے سب سے اہم مراکز میں سے ایک ہے اور ان تنصیبات کا تیل اسٹریٹجک مشرق-مغرب پائپ لائن (پیٹرولائن) کے ذریعے بحیرہ احمر میں ینبع ٹرمینل تک منتقل کیا جاتا ہے۔

پیٹرولائن تقریباً 1200 کلومیٹر طویل ایک اسٹریٹجک پائپ لائن ہے جس کی تیل منتقلی کی صلاحیت تقریباً 5 سے 7 ملین بیرل یومیہ ہے اور یہ آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں سعودی عرب کی تیل برآمدات کا اہم متبادل راستہ ہے۔

ینبع ٹرمینل

سعودی عرب کا ینبع تیل ٹرمینل بحیرہ احمر کے ساحل پر یورپی منڈیوں کو سعودی تیل کی برآمدات کا مرکزی دروازہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی لوڈنگ کی صلاحیت تقریباً 4.5 ملین بیرل خام تیل یومیہ بتائی گئی ہے۔

راس تنورہ ٹرمینل

خلیج فارس میں راس تنورہ ٹرمینل دنیا کا سب سے بڑا سمندری تیل لوڈنگ مرکز اور سعودی عرب کی تیل برآمدات کا مرکزی ٹرمینل ہے، جس کی آبنائے ہرمز کے ذریعے برآمدی صلاحیت تقریباً 6 ملین بیرل یومیہ ہے اور یہ اس ملک کی سب سے بڑی ریفائنریوں میں سے ایک کا میزبان ہے۔

تیل فروخت کرنے کا کویتی مرکز: مینا الاحمدی

کویت کے خام تیل کی برآمدات کا مرکزی ٹرمینل مینا الاحمدی ٹرمینل ہے جو گہری لنگرگاہوں اور اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ، خام تیل کی عالمی منڈیوں کی طرف بھیجنے کے لئے اس ملک کا اہم مرکز ہے۔

کویت اپنی تیل برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز کے سمندری راستے پر شدید انحصار کرتا ہے اور اس آبنائے کو بائی پاس کرنے کے لئے اس کے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔

بحرین کا آئل ٹرمینل

بحرین کا مرکزی آئل ٹرمینل سترہ (Sitra) ٹرمینل ہے جو بنیادی طور پر پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کا کام کرتا ہے۔ یہ ٹرمینل سترہ میں BAPCO ریفائنری سے منسلک ہے جو اس ریاست کا واحد تیل صاف کرنے کا مجموعہ ہے۔

بحرین بھی کویت کی طرح اپنی پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کے لئے مکمل طور پر آبنائے ہرمز کے سمندری راستے پر منحصر ہے اور اس آبنائے کو بائی پاس کرنے کے لئے اس کے پاس بھی کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔

قطر کا تیل اور گیس ٹرمینل (بشمول مسعید اور حلول)

قطر نے دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندگان میں سے ایک ہونے کے ناطے خام تیل، گیس کنڈینسیٹ (Gas Condensate) اور پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کے لئے متعدد خصوصی ٹرمینلز بنا رکھے ہیں۔

اس ملک کی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات کا مرکزی ٹرمینل مسعید بندرگاہ (Umm Said/Mesaieed) دوحہ سے 40 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے جو 30 لنگرگاہوں کے ساتھ، خام تیل اور مائع گیس (LPG) برآمد کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی پیٹرو کیمیکلز اور ریفائننگ صنعتوں کی میزبانی بھی کرتا ہے۔

اسی طرح حلول جزیرہ (Halul Island) قطر کے سمندری خام تیل (Qatar Marine Crude) کی برآمدی ٹرمینل کے طور پر سمندری میدانوں سے روزانہ 2.5 ملین بیرل سے زیادہ پیدا ہونے والا تیل عالمی منڈیوں تک پہنچاتا ہے۔

راس لفان ٹرمینل

راس لفان ٹرمینل (Ras Laffan) عظیم الشمال (North Field) گیس میدان سے 67 کلومیٹر کے فاصلے پر دنیا کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس (LNG) کا برآمدی مرکز ہے اور قطر کے LNG کی پروسیسنگ اور برآمدات کا تمام بنیادی ڈھانچہ راس لفان میں واقع ہے۔

یہ ٹرمینل 19 لنگرگاہوں کے ساتھ LNG، مائع مصنوعات، گندھک اور LPG دنیا کو برآمد کرتا ہے اور اس ریاست کی حیثیت کو عالمی سطح پر توانائی کے ایک اہم سپلائر کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔

قطر سالانہ اس ٹرمینل سے تقریباً 77.5 ملین ٹن LNG ایشیا اور یورپ کی منڈیوں کو بھیجتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha