23 اکتوبر 2026 - 14:47
شرم الشیخ معاہدے کے ضامن کہاں دبک گئے ہیں؟ / غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے بعد 351 بچوں کی شہادت!

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) نے اعلان کیا کہ اکتوبر 2025 میں غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے کم از کم 351 فلسطینی بچے غاصب صہیونی رجیم کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔/ شرم الشیخ میں ٹرمپ کی مداحی کرنے والے مسلم-عرب ممالک کے حکمرانوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے جنہوں نے ٹرمپ کی چاپلوسی کرتے ہوئے غزہ کے مظلوم عوام کے حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے جنگ بندی کے ایسے سمجھوتے پر ـ ضامنوں کے طور پر ـ دستخط کئے جس کو کبھی بھی نافذ نہیں کیا گیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یونیسف کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے علاقائی ڈائریکٹر "ایڈورڈ بیگ بیڈر" (Édouard Beigbeder) نے غاصب صہیونی رجیم کو غزہ کے بچوں کے تحفظ کے لئے فیصلہ کن اقدامات کا ذمہ دار قرار دیا۔

انھوں نے بچوں کی شہادت اور زخمی ہونے، ـ خاص طور پر مستقل معذوری کا شکار ہونے والے بچوں کے حوالے سے ـ غاصب رجیم کی واضح اور سنجیدہ جوابدہی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ایڈورڈ بیگ بیڈر نے فلسطینی بچوں کے خلاف تشدد کے تسلسل کا حوالہ دیتے ہوئے اس صورتحال کو ناقابل قبول قرار دیا اور اس تشدد کو روکنے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تحت بچوں کے خصوصی تحفظ کی ضمانتوں کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔

نظام صحت کی بربادی، غزہ کے بچوں کی بحالی میں رکاوٹ

یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر نے خبردار کیا کہ حملوں سے بچ جانے والے بچے بھی جسمانی اور نفسیاتی بحالی کے لئے سنگین رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں؛ کیونکہ غزہ میں نظام صحت کی مکمل تباہی ان کے علاج اور بحالی کے عمل کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔

یونیسف نے گذشتہ ہفتے بھی اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً آٹھ لاکھ بچے اب بھی بے گھر ہیں اور اندازہ ہے کہ 60 ہزار بچے، جنگ کے دوران یا نام نہاد جنگ بندی کے اعلان کے بعد، اپنے باپ، یا ماں یا دونوں سے محروم ہو گئے ہیں۔

اس ادارے نے زور دیا کہ غزہ کے تقریباً تمام بچوں کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے؛ جبکہ مسلسل بے خانمانی اور بنیادی خدمات کے فقدان نے ان کی حالات زندگی کو مزید دشوار کر دیا ہے۔

نکتہ:

شرم الشیخ میں ٹرمپ کی مداحی کرنے والے مسلم-عرب ممالک کے حکمرانوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے جنہوں نے ٹرمپ کی چاپلوسی کرتے ہوئے غزہ کے مظلوم عوام کے حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے جنگ بندی کے ایسے سمجھوتے پر ـ ضامنوں کے طور پر ـ دستخط کئے جس کو کبھی بھی نافذ نہیں کیا گیا؛ غزاویوں کا قتل عام جاری ہے، قبضہ جاری ہے اور صہیونی رجیم کی جارحیتیں اور غزہ کے بچوں کی شہادتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور معاہدے کے 10 ضامن مسلمان اور عرب ممالک نے ـ حتی کہ ایک بار بھی، حتی زبانی کلامی طور پر ـ اس صورت حال کے بارے میں اظہار خیال کرنے کی جرات نہیں کی ہے کیونکہ یہ بیچآرے تو صرف ٹرمپ کی شاباش وصول کرنے کی غرض سے اس سمجھوتے کے ضامن بن گئے تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha