24 جولائی 2026 - 23:30
ایران دنیا کے گاڈفادرز کا کھیل بگاڑ رہا ہے؛ لیکن کیوں اور کیسے؟ 6

ایران پر مسلسل جارحیتوں کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغرب کی "اوزاری عقل"  "ایمانی عقل" کے مقابلے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مغرب کی آلاتی عقل کہتی ہے کہ جس کے پاس زیادہ ہتھیار اور زیادہ پیسہ ہے، وہی کامیاب ہے، لیکن حالیہ دہائیوں میں میدانِ جنگ کی حقیقت (دفاعِ مقدس سے لے کر محور مقاومت [محاذ مزاحمت] محاذ کی فتوحات تک) ایک مختلف بیانیہ تخلیق اور مستحکم کر چکی ہے۔ [---]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ [---] ایران نے مکتبِ تشیّع کے ذریعے طاقت کو مادے سے معنیٰ (اور مادیت سے روحانیت) میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ معنوی نگاہ اپنے ساتھ ایک قسم کی اسٹراٹیجک تخلیقیت لاتی ہے۔

چھٹا اور آخری حصہ:

ان انہیں ایسے انسانوں کا سامنا ہے جن کے ہاں کا 'لاگت-منافع' کا حساب ڈالر اور سینٹ میں نہیں، بلکہ "رضائے الٰہی" سے پرکھا جاتا ہے۔ شہادت کا یہ نظریہ، علم و سائنس کی ترقی اور فروغ کے ساتھ، ایک "نرم طاقت" کو جنم دے چکا ہے جو بیلسٹک میزائلوں سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ فکری ماڈل مظلوم قوموں میں پھیل رہا ہے اور مغرب کی فکری بالادستی کی بنیادوں کو پر لرزہ طاری کر رہا ہے۔

ج) مادی انسان پرستی (ہیومینزم) سے تصادم:

جہاں مغربی ہیومینزم نے انسان کو خدا کا نائب بنا دیا، وہیں ایران کا مکتب انسان کو خدا کے سائے میں تعریف کرتا ہے۔ یہ نگاہ انسان کو "عزت" اور  "شَکِست ناپذیری (Invincibility)" عطا کرتی ہے۔ مغرب اس حقیقت سے خوفزدہ اور ہراساں ہے کہ انسان سازی کا یہ ماڈل، ـ جس میں علم و سائنس اور ایمان و عقیدہ باہم جڑے ہوئے ہیں، ـ ان کے طرزِ زندگی [اور نام نہاد لبرل تہذیب] کا سنجیدہ ترین حریف بن جائے گا۔ وہ ایسی دنیا نہیں دیکھنا چاہتے جہاں کوئی جوہری سائنسدان ہو، اور ساتھ ہی نماز و تہجد اور ایثار اور قربانی پر بھی اعتقادی اور عملی طور پر، یقین رکھتا ہو۔

مکتبِ شہادت اور طاقت کی نئی تعریف، اوزاری عقل سے ماوراء

ایران پر مسلسل حملوں کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغرب کی "اوزاری عقل (Instrumental Intellect)" "ایمانی عقل" کے مقابلے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مغرب کی اوزاری عقل کہتی ہے: "جس کے پاس زیادہ ہتھیار اور زیادہ پیسہ ہے، وہی کامیاب ہے"، لیکن حالیہ دہائیوں میں میدانِ جنگ کی حقائق (دفاعِ مقدس سے لے کر محاذ مزاحمت (یا محور مقاومت کی فتوحات تک) ایک مختلف بیانیہ تخلیق اور مستحکم کر چکے ہیں۔ ایران نے مکتبِ تشیّع کے ذریعے طاقت کو 'مادے (Matter)' سے 'معنی (Meaning)' میں منتقل کر دیا ہے۔ اس معنوی نگاہ نے ایک قسم کی تزویراتی تخلیقیت (Strategic creativity) پیدا کی ہے۔ مثال کے طور پر، بسیجی اور جہادی جذبے والا ایرانی نوجوان، ایثار کے جذبے سے تکنیکی رکاوٹوں کو توڑ دیتا ہے۔ یہ ہماری ثقافت کو حاصل وہی درخشاں نکات ہیں: 'ایمان کی روشنی میں 'خطرے' کو 'موقع' میں تبدیل کرنا'۔ مغرب اس سے خوفزدہ ہے کہ معنوی [و روحانی] مزاحمت کا یہ فارمولا، مظلوم قوموں کے درمیان ایک جامع طریقہ کار نہ بن جائے۔ جیسا کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ شہادت و استقامت کا ایرانی مکتب، یمن، لبنان اور حتیٰ کہ غیر مسلم حریت پسندوں کے درمیان بھی ایک رول ماڈل بن چکا ہے۔

ترکبیی سازشیں (Hybrid conspiracies)، بیانیے اور ارادے کے خلاف جنگ

دشمن نے، ـ جو سخت جنگ کے (فوجی) میدان میں بے بس و ناکام رہا ہے، ـ اپنی پوری طاقت 'ادراکی جنگ' (Cognitive Warfare) پر مرکوز کر چکا ہے۔ اندرونی اور بیرونی سازشوں کا بنیادی ہدف، محض نظام کی تبدیلی نہیں، بلکہ قوم کے 'ایمان پر مبنی ارادے' کو توڑنا ہے۔ دشمن غیر انسانی پابندیوں کے ذریعے معاشی عدم اطمینانی (اور غیر یقینی صورت حال) پیدا کر کے، عوام اور حکومت کے درمیان رشتہ کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسری طرف، میڈیا کے ذریعے، نوجوان نسل میں شناخت اور ادراک کا بحران پیدا کرنا چاہتا ہے، تاکہ مادیت پر مبنی نگاہ کو، آئیڈیلز پر مبنی (اور معنوی) نگاہ، کی جگہ دلا سکے۔ تاریخی دستاویزات، اثر و رسوخ اور فکری و عملی دراندازی کے منصوبوں اور مخملی بغاوتوں (Velvet insurgences) جیسی فائلوں کے ضمن میں بتاتی ہیں کہ حتمی ہدف، امور کی اصلاح نہیں، بلکہ ایران کو ساختی طور پر کمزور کرنا ہے تاکہ یہ ملک اپنی تہذیبی حیثیت پر واپس نہ آ سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha