بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ [---] ایران نے مکتبِ تشیّع کے ذریعے طاقت کو مادے سے معنیٰ (اور مادیت سے روحانیت) میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ معنوی نگاہ اپنے ساتھ ایک قسم کی اسٹراٹیجک تخلیقیت لاتی ہے۔
ایران کی معاصر تاریخ محض تقویمی واقعات کا ایک تواتر و تسلسل نہیں، بلکہ "تہذیبی آزادی کے لئے ایک قوم کے عزم" اور "اور اس کی اسٹراٹیجک روک تھام کے لئے بڑی طاقتوں کے عزائم" کے درمیان ایک بنیادی جنگ کا میدان ہے۔ جو سوال ہمیشہ عام اور خاص طبقوں کے افراد کے ذہنوں میں مسلسل دہرائے جاتے ہیں، یہ ہیں:
* "ایران کبھی بھی، خاموش، کیوں نہیں ہوتا؟
* عالمی تبدیلیوں کے باوجود، اس جغرافئے کے خلاف سیاسی، سیکورٹی اور اقتصادی دباؤ پھر بھی شدت سے، کیوں جاری ہے؟"
ان سوالات کا جواب واقعاتِ اتفاقیہ میں نہیں ملے گا، بلکہ اسے ایک "کلیدی تزویراتی منصوبے" میں تلاش کرنا چاہئے جس کی جڑیں دوسری عالمی جنگ کے بعد، بڑی طاقتوں کے درمیان مالِ غنیمت کی تقسیم میں پیوست ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا ایران تسلط پسند عالمی ترتیب کے لئے چار خطرناک عناصر کے سنگم کا تجربہ کر رہا ہے: وافر وسائل، مقامی ٹیکنالوجی، عمدہ جغرافیائی-سیاسی (جیو پولیٹیکل) پوزیشن، اور ایک نیا تہذیبی مکتب و مبحث جو "الٰہی انسان" کی بنیاد پر قائم ہے۔
یہ مضمون ایک دستاویزی نگاہ سے اس تصادم کی زیریں تہوں اور مغرب کے حسابات میں ایران کے "بے چینی کا نقطہ" بننے کی وجوہات کا تجزیہ کرتا ہے۔
جدید نوآبادیت (Neo-colonialism) کا نظریہ اور "سرد جنگ" کا غیر تحریری معاہدہ
1945 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد، دنیا نے ایک ایسی ترتیب (یا World order) کی پیدائش دیکھی جس کی بنیاد "یالٹا کانفرنس (Yalta Conference)" اور "پوٹسڈیم کانفرنس (Potsdam Conference)" میں رکھی گئی۔ اس نظم نے نہ صرف سرحدی تقسیمات، بلکہ ایک "علمی نظام" اور "عالمی تقسیمِ کار" کا نظام بھی مسلط کیا۔ اس ترتیب میں مبینہ "تیسری دنیا" (جنوبی دنیا) کے ممالک، مغربی تزویرات سازوں کو صرف دو کردار ادا کرنے کا حق تھا: "سستے خام مال فراہم کرنا" اور "حتمی اشیا اور [مغرب پر] انحصار کرنے والی ٹیکنالوجی کا صارف بن کے رہنا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ