21 ستمبر 2026 - 00:00
آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز کا بَصَرِی شکار، ایرانی انداز سے - 3

“قاسم بصیر” الیکٹرو آپٹیکل میزائل کے امریکی بحری جہاز پر لگنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اپنے میزائلوں کی رینج اور تخریبی طاقت (Destructive power) کی طاقت میں اضافے کے علاوہ الیکٹرانک جنگی ماحول میں درست نشانہ بندی کی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے؛ ایسی قابلیت جو خلیج فارس سے بحیرہ عمان تک امریکی بیڑے کی آزادیِ عمل کو محدود کرتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||

تیسری قسط:

آبنائے ہرمز؛ جغرافیہ اور فائرنگ کی برتری

آبنائے ہرمز ایک تنگ گڈرگاہ ہے جس کے بحری راستے متعین ہیں۔ یہ خصوصیت بڑے بحری جہازوں کی حرکت پذیری کی حدود کو محدود اور ان کی ممکنہ حرکت کے راستے کو زیادہ قابل پیش گوئی (Predictable) بناتی ہے۔

شمالی ساحل اور آبنائے میں واقع جزیروں پر ایران کی موجودگی اس گذرگاہ کی کثیر پرتوں پر مشتمل نگرانی اور کنٹرول کا امکان فراہم کرتی ہے۔ ایسے ماحول میں دشمن کا بحری جہاز آزادانہ طور پر اپنا راستہ نہیں بدل سکتا اور میزائل کے تلاش کے علاقے سے باہر نہیں نکل سکتا۔

اس علاقے کا جغرافیہ ہدف کی موجودگی کے دائرے کو چھوٹا کر دیتا ہے، ایران کا تشخیصی نیٹ ورک اس کی پوزیشن حاصل کرتا ہے اور آپٹیکل میزائل آخری مرحلے میں اصل ہدف پہچان لیتا ہے۔ اس امتزاج کا نتیجہ یہ ہے کہ ایران کی جغرافیائی پوزیشن علمیاتی (آپریشنل) طاقت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

چنانچہ آبنائے ہرمز امریکی بیڑے کے لئے محض ایک گذرگاہ نہیں، بلکہ ایسا علاقہ ہے جہاں ہر قسم کی حرکت سینسرز کے زیر نگرانی ہوتی ہے اور یہ حرکت ایرانی میزائلوں کی کئی اقسام کی زد کی حدود میں انجام پاتی ہے۔

بحیرہ عمان؛ امریکی بحریہ مزید فاصلہ بڑھا کر بھی محفوظ نہیں رہتی

ماضی قریب میں خلیج فارس سے امریکی بحری جہازوں کی بحیرہ عمان کی طرف پسپائی کی صورت میں، وہ ایران کے ساحلوں سے کافی دور ہو کر بچاؤ کا انتظام کر سکتے تھے، تاہم طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایرانی میزائلوں اور تشخیصی نیٹ ورک کی ترقی اور توسیع نے اس پسپائی کی قدر و قیمت کم کر دی ہے۔

قاسم بصیر میزائل کم از کم 1200 کلومیٹر تک مار کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ ایران کے میزائلوں کا خطرہ اب آبنائے کے دہانے تک محدود نہیں رہا ہے۔ یہ صلاحیت امریکی بحری کارروائیوں سے وابستہ جنگی، معاونتی جہازوں اور تنصیبات کو بحیرہ عمان کی زیادہ گہرائی میں بھی ایرانی میزائلوں کی رینج کے دائرے میں رکھتی ہے۔

نتیجتاً ایران ایک محدود ساحلی 'دفاعی' پٹی سے آگے بڑھ کر خلیج فارس سے لے کر بحیرہ عمان تک دشمن پر 'حملہ کرنے' کا میدان بنا چکا ہے۔ اس میدان میں دشمن کا فاصلہ بڑھانا [اور دور ہونا] امریکی کارروائی کی لاگت بڑھا دیتا ہے، جبکہ ایرانی میزائلوں کی رینج سے نکلنے کی ضمانت نہیں دیتا۔

بحری جہاز کے حساس حصوں پر وار

بحری جنگ میں ہدف ہمیشہ بحری جہاز کو مکمل طور پر ڈبونا نہیں ہوتا۔ ایک بڑا بحری جہاز حساس نظاموں کے مجموعے پر مشتمل ہوتا ہے اور ان میں سے کسی ایک نظام کی تباہی بھی جہاز کا مشن روک دیتی ہے۔

تصویری سرچر، ـ میزائل کو کمانڈ ٹاور، مرکزی ریڈار، ہتھیاروں کے نظام، پرواز کے عرشے یا پروپلشن سسٹم جیسے اہم حصوں کی طرف ـ گائیڈ کرنے کا امکان بڑھا دیتا ہے۔ اس حالت میں ایک درست نشانہ بازی (Targeting) جہاز کو کاروائیوں کے چکر سے نکال باہر کرتی ہے؛  اسے پسپائی پر مجبور کرتی ہے اور متعلقہ بیڑے کی ترتیب کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ 

یہ صلاحیت ایران کی ضرب کے معیار کو بلند کرتی ہے؛ یعنی یہ کہ جہاز کو مکمل تباہ کرنے کے لئے زیادہ گولہ بارود خرچ کرنے کے بجائے ایسا نقطہ نشانہ بنایا جاتا ہے جو سب سے زیادہ فوجی اثر مرتب کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی طلوع وند

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha