بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ہنری کسنجر اسد حافظ اسد سے پوچھتا ہے کہ مذاکرات کے لئے ان کی تجویز کیا ہے، تو اسد اس کو حقارت آمیز جواب دیتے ہیں اور کہتے ہیں: "تم ویتنام سے جا رہے ہو؛ تائیوان سے بھی جاؤ گے، اور جب اسرائیل سے بھی تنگ آ جاؤ گے، تو وہاں سے بھی چلے جاؤ گے۔"
- ویتنام جنگ کے بعد، دنیا میں بہت سے لوگ اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ واشنگٹن اب وہ طاقت نہیں رہا جو اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لئے کوئی قیمت ادا کرے۔
- حافظ اسد دراصل "امریکی ارادے" کے بارے میں بات کر رہے تھے؛ کہ عالمی طاقت صرف معیشت اور فوج پر قائم نہیں ہے، بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ دوسرے یقین کر لیں کہ "بنیادی طور پر ایک سپر پاور موجود ہے" اور یہ کہ "ایک بڑی طاقت قیمت ادا کرنے کے لمحے میں پیچھے نہیں ہٹا کرتی۔"
- آج اس واقعے کے کئی عشرے بعد، پھر بھی وہی مسئلہ درپیش ہے۔ شی جن پنگ اور ٹرمپ کی حالیہ بات چیت کے دوران، چینی رہنما نے بہت سنجیدگی سے خبردار کیا کہ "تائیوان کا مسئلہ چین اور امریکہ کے درمیان، حساس ترین مسئلہ ہے، اور اگر اس مسئلے کا درست انتظام نہ کیا جائے تو یہ جنگ پر منتج ہو سکتا ہے۔"
- یہ مسئلہ صرف تائیوان کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ درحقیقت امریکہ کے اعتبار اور عزم و ارادے کے بارے میں ہے۔ حالیہ برسوں میں افغانستان سے پریشان حالی کی کیفیت میں انخلاء، مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں فرسودگی، اندرونی دراڑوں اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسابقت نے بہت سارے ممالک کے ذہنوں میں یہ سوال ابھارا ہے کہ کیا امریکہ وہی پہلی والی طاقت رکھتا ہے اور کیا امریکہ بدستور ایک بڑی طاقت ہے یا نہیں؟
- اسی وجہ سے آج، امریکہ کے حریف اور یہاں تک کہ اس کے اتحادی، بھی، واشنگٹن کے رویئے کو باریک بینی سے جانچ پرکھ رہے ہیں؛ کیونکہ مسئلہ صرف ایک خاص بحران نہیں ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنی مطلوبہ عالمی ترتیب کو برقرار رکھنے کے لئے بھاری قیمت ادا کرنے کو تیار ہے؟
- شاید اسی وجہ سے حافظ اسد کا یہ جملہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ گذرنے کے باوجود، بالکل زندہ اور قابل فہم نظر آتا ہے؛ کیونکہ وہ صرف ویتنام یا تائیوان کے بارے میں بات نہیں کر رہے تھے، بلکہ اس لمحے کے بارے میں خبردار کر رہے تھے جب دنیا یہ محسوس کرے کہ ایک سپر پاور میں اب ماضی کی طرح قائم رہنے کا عزم باقی نہیں رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


آپ کا تبصرہ