بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
- ترجمان ایرانی دفتر خارجہ: ڈاکٹر بقائی
"ہم تمام تر محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے اور ایرانی قوم کے مفادات کے حصول کے لئے مذاکرات میں شامل ہوئے؛ اور لبنان اور حزب اللہ مذاکرات کا حصہ ہیں۔ لبنان میں جنگ بندی کے بغیر کسی معاہدے کا حصول ممکن نہیں ہے۔"
- اسرائیلی اخبار "ہاآرتص":
"قالیباف کی طرف سے ـ لبنان میں جنگ بندی تک ـ مذاکرات سے اجتناب، "اسرائیلی ہاتھ مروڑے جانے" کا سبب بنا۔"
- صہیونی اخبار "معاریو":
"ہم نے جنگ "شیر کی گرج" کے نام سے شروع کر دی اور "بلی کے میاؤں میاؤں" کے ساتھ پسپا ہوگئے اور اسرائیل کو سخت ترین علاقائی صورت حال میں پہنچا دیا۔"
- "بی بی سی":
"لبنان میں جنگ بندی ایران اور خطے کے ممالک کے دباؤ کے تحت حاصل ہوئی، لیکن ٹرمپ اسے اپنے نام کرنا چاہتا ہے۔ یہ تہران کے لئے ایک کامیابی ہے جس نے ترکیہ، قطر اور پاکستان کے ساتھ مل کر اپنی بات منوا دی۔"
- مشہور مصری مصنف "سامح عسکری":
"اولاً: امریکہ ایک کمزور اور شکست خوردہ فریق کے ساتھ بات چیت نہیں کر رہا ہے اور ہارنے والے ملک کی طرح جنگ بندی قبول نہیں کرے گا۔ چنانچہ جنگ بندی کا مطلب یہ ہے کہ ایران اپنے مطالبہ کو پوری استقامت کے ساتھ امریکہ پر مسلط کر چکا ہے۔
ثانیاً: اسرائیل کو بھی مذاکرات میں ایک کمزور اور شکست خوردہ فریق کا سامنا نہیں ہے اور وہ بھی ہارے ہوئے فریق کے ساتھ جنگ بندی نہیں کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لبنانی مقاومت کی شجاعت و استقامت اس فیصلے تک پہنچے کا سبب بنی ہے۔"
حزب اللہ کے ایک قریبی مبلغ و ثقافتی شخصیت شیخ حسین زین الدین کا جوزف عون کو طعنہ
- حزب اللہ کے ایک قریبی مبلغ و ثقافتی شخصیت شیخ "حسین زین الدین" نے لبنان کے سازبازکرنے والے صدر اور حکومت کو طعنہ دیتے ہوئے کہا: "کوئی حرج نہیں ہے کہ لبنانی صدر جوزف عون مجاہدین کی معجزنما استقامت اور اسلامی جمہوریہ ایران کی افسانوی وفاداری میں سے کچھ حصہ اپنے نام کر لیں۔ ہماری عادت نہیں ہے کہ بھوکوں کو، خون کے تخلیق کردہ اور وفاداری کے محفوظ کردہ دسترخوان سے دور کر دیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ