لبنان میں جنگ بندی کے بغیر کسی معاہدے کا حصول ممکن نہیں ہے، ایرانی دفتر خارجہ / ایران کا مذاکرات سے انکار "اسرائیلی ہاتھ مروڑے جانے" کا سبب بنا، ہاآرتص / ہم "بلی کے میاؤں میاؤں" کے ساتھ جنگ سے پسپا ہوگئے، معاریو / تہران نے لبنان میں اپنی بات منوا دی، بی بی سی / ایران اپنے مطالبہ کو پوری استقامت کے ساتھ امریکہ پر مسلط کر چکا ہے، سامح عسکری / لبنانی صدر کو طعنہ؛ ہم بھوکوں کو اپنے دسترخوان سے نہیں بھگایا کرتے، شیخ حسین زین الدین
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری طور پر شکایت دائر کرے گا۔ یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری تجاوزات اور پرتشدد حملوں کے ردعمل میں کیا گیا۔
لبنان کی مارونی کلیسا کے رہبر کاردینال بشارہ پطرس الراعی نے کہا ہے کہ ملک میں جنگ کا خطرہ کم ہے، مذاکرات جاری ہیں اور امن کی نئی فضا نے جنم لے لیا ہے۔ انہوں نے فوج کے کردار اور سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔
لبنانی صدر جوزف عون نے سلامتی کونسل کے نمائندگان سے ملاقات میں کہا ہے کہ عالمی برادری اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ جنگ بندی پر مکمل عمل کرے اور فوری طور پر لبنانی سرزمین سے نکل جائے۔ انہوں نے بین الاقوامی قراردادوں کی پابندی اور لبنانی فوج کی تقویت کو ناگزیر قرار دیا۔
لبنانی صدر جوزف عون نے واضح کیا ہے کہ حکومت حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی بلکہ صرف اس کے اسلحے کو محدود کرنے اور اس کے اثر کو کم کرنے کی پالیسی اپنائے گی۔ یہ موقف واشنگٹن اور تل ابیب کے اس مطالبے کے خلاف ہے جس میں حزب اللہ کے مکمل خلعِ سلاح پر زور دیا گیا تھا۔
بین الاقوامی قانون کے مطابق، اگر کوئی حکومت اپنے لوگوں کو پڑوسی ریاست کے حملے سے محفوظ نہیں رکھ سکتی، تو مزاحمت فطری اور قانونی طور پر جائز ہو جاتی ہے۔ تاہم، جب ایک طاقتور حکومت ہتھیاروں کو جمع کرنے اور اسے اپنے کنٹرول میں رکھنے کے قابل ہو جاتی ہے، تو صورت حال مختلف ہو جاتی ہے۔