صہیونی اخبار نے لکھا: ٹرمپ ایران کے مقابلے میں توقّف اور تعطّل سے دوچار ہے، اور چین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔ / ایک جاپانی سفارتکار کا کہنا ہے کہ ایران ـ امریکہ جنگ، ارادوں اور صبر و تحمل کی جنگ ہے، ایران زیادہ عرصے تک برداشت کی صلاحیت رکھتا ہے مگر امریکی فوج فرسودگی سے دوچار ہو گئی ہے۔
جمعرات 7 مئی کو راتے گئے اور جمعہ 8 مئی کو علی الصبح، ابنائے ہرمز کھولنے کی دہشت گرد امریکی فوج کی کوششیں شکست اور رسواکن پسپائی پر منتج ہوئیں / ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے فوری جوابی کاروائی کرکے امریکہ کے جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا اور شدید نقصان پہنچایا، مرکزی ہیڈکوارٹر / امریکہ آبنائے ہرمز کھولنے سے عاجز ہے، صہیونی چینل / یران نہ ڈرتا ہے اور نہ ہی جھکتا ہے، ہاآرتص
لبنان میں جنگ بندی کے بغیر کسی معاہدے کا حصول ممکن نہیں ہے، ایرانی دفتر خارجہ / ایران کا مذاکرات سے انکار "اسرائیلی ہاتھ مروڑے جانے" کا سبب بنا، ہاآرتص / ہم "بلی کے میاؤں میاؤں" کے ساتھ جنگ سے پسپا ہوگئے، معاریو / تہران نے لبنان میں اپنی بات منوا دی، بی بی سی / ایران اپنے مطالبہ کو پوری استقامت کے ساتھ امریکہ پر مسلط کر چکا ہے، سامح عسکری / لبنانی صدر کو طعنہ؛ ہم بھوکوں کو اپنے دسترخوان سے نہیں بھگایا کرتے، شیخ حسین زین الدین
صہیونی ریاست کے وزیر جنگ اسرائیل کاٹز نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت اس ریاست کا کوئی بھی سینئر افسر باقاعدہ اجازت نامے کے بغیر ذرائع ابلاغ سے بات چیت نہیں کر سکتا۔
غزہ میں ریاستِ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے [بظاہر] خاتمے کے بعد، ریاستِ اسرائیل کے اہم ذرائع ابلاغ ـ ہاآرتص (یا ہارٹز = Haaretz) اور ٹائمز آف اسرائیل نے ایک ہی بیانیہ رائج کرنے کی کوشش کی ہے: "اسرائیل اس جنگ میں شکست کھا گیا ہے"۔ حالانکہ میدانی اعتبار سے اسرائیلی فوج غزہ پٹی کا 90٪ سے زیادہ حصہ تباہ کرنے اور حماس کے زمینی اور فوجی ڈھانچوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔