2 مارچ 2026 - 20:43
حصۂ اول | شہید رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی شخصیت کا اجمالی جائزہ

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی بن سید جواد الحسینی الخامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) 28 فروری سنہ 2026ع‍ کو علی الصبح امریکی-صہیونی فضائی حملے میں، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے گھر اور دفتر میں شہید ہو گئے۔ اسی مناسبت سے رہبر انقلاب کے حالات زندگی پر مشتمل رپورٹ پیش خدمت ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی بن سید جواد الحسینی الخامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) 28 فروری سنہ 2026ع‍ کو علی الصبح امریکی-صہیونی فضائی حملے میں، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنے گھر اور دفتر میں جام شہادت نوش کر گئے۔  

ولادت

شہید آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی حسینی خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) سنہ 1939ع‍‌ کو مشہد مقدس کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔

آپ کے والد آیت اللہ الحاج سید جواد خامنہ ایؒ مشہد کے محترم مجتہدین اور علماء میں سے تھے جو طویل عرصے سے نماز فجر مسجد گوہرشاد میں اور ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں مسجد بازار میں پڑھاتے تھے اور تبلیغ دین میں مصروف تھے۔

آپ کے دادا آیت اللہ سید حسین خامنہ ایؒ نجف میں مقیم آذربائی جانی علماء میں سے تھے۔ وہ ابتداء میں تبریز کے محلہ "خیابان" میں رہائش پذیر تھے اور بعدازاں نجف اشرف جاکر درس و بحث میں مصروف ہوئے اور اپنی زندگی قناعت اور کفایت شعاری میں گذار دی۔

شہید عالم دین الحاج شیخ محمد خیابانیؒ آپ کے پھوپھا تھے جو اگرچہ تبریز کے نواحی قصبے "خامنہ" میں پیدا ہوئے تھے لیکن چونکہ محلہ خیابان میں واقع مسجد کریم خان کے امام جماعت تھے لہٰذا "خیابانی" کے نام سے مشہور ہوئے۔

شیخ محمد خیابانیؒ آئینی انقلاب کے زمانے کے مشہور مجاہد علماء میں شامل تھے۔ ان کی ہم عصر مجاہد شخصیت الحاج محمد باقر بادامچی نے لکھا ہے کہ شہید خیابانیؒ اپنے ہم منصب ائمۂ جماعت کی نسبت زیادہ پرہیزگار، زیادہ زاہد و پارسا اور فقہ کے نسبتاً زیادہ بڑے عالم تھے۔

وہ سنہ 1909ع‍ میں مجلس شورائے ملی (پارلیمان) میں تبریز کے نمائندے کے طور پر منتخب ہوئے، بدعنوانیوں اور بےراہرویوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، روسی استعمار کا مؤثر مقابلہ کیا اور 13 ستمبر 1920ع‍ کو تبریز میں جام شہادت نوش کرگئے۔

رہبر انقلاب کی والدہ ماجدہ مشہد کے مشہور عالم دین آیت اللہ آقا سید ہاشم میردامادی نجف آبادی کی دختر، نہایت پاکدامن خاتون تھیں اور اخلاقی مسائل سے آگاہ اور اخلاق حسنۂ الٰہیہ سے متخلق تھیں۔

حصۂ اول | شہید رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی شخصیت کا اجمالی جائزہ

بچپن کا دور

آپ کے بچپن کے ایام سخت گیر مگر بہت شفیق اور ہردلعزیز والد گرامی اور ہمدرد اور مہربان والدہ کی تربیت میں نہایت تنگدستی میں گذرے۔

آپ خود اس بارے میں فرماتے ہیں:

"ہماری طفولت کے ایام بہت سختی سے گذرتے تھے، بالخصوص یہ کہ میرے بـچپن کے ایام میں جنگ بھی ہورہی تھی (دوسری جنگ عظیم)، گو کہ مشہد جنگ سے دور تھا اور یہاں ہر چیز ملک کے دوسرے شہروں کی نسبت سستی اور فراواں تھی؛ لیکن اس کے باوجود ہمارے گھرانے کی صورت حال کچھ ایسی تھی کہ ہر روز گندم کی روٹی نہیں کھا سکتے تھے اور عام طور پر جو کی روٹی کھاتے تھے یا پھر جو اور گندم کی مخلوط روٹی اور بہت کم گندم کی روٹی، کھا لیتے تھے۔ مجھے طفولت کی کچھ ایسی راتیں بھی یاد ہیں جب ہمارے گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں ملتا تھا اور ہماری والدہ اس ریزگاری سے ـ جو ہماری نانی مجھے یا بھائیوں بہنوں کو دیتی تھیں ـ کچھ کشمش اور دودھ لیتی تھیں اور ہم وہی روٹی کے ساتھ کھا لیتے تھے۔۔۔

میرا آبائی گھر ـ جس میں، میں پیدا ہؤ‎ا ہو ـ میری چار- پانچ سال کی عمر تک ساٹھ یا ستر میٹر مربع زمین پر بنا ہؤا تھا جو مشہد کے غریب نشین علاقے میں واقع ہؤا تھا اور ایک کمرے پر مشتمل تھا اور تہہ خانے میں بھی ایک گھُٹا ہؤا تاریک کمرہ تھا۔

چونکہ ہمارے والد محلے کے عالم دین تھے لہٰذا لوگوں کا ان کی طرف مسلسل رجوع رہتا تھا، مہمانوں کا تانتا مسلسل بندھا رہتا تھا؛ اور والد کے پاس مہمان آنے کی صورت میں ہم سب کو تہہ خانے والے کمرے میں جاکر مہمان کے چلے جانے تک وہیں رہنا پڑتا تھا؛ لہٰذا کچھ عرصہ بعد والد بزرگوار کے کچھ عقیدتمندوں نے اسی گھر سے ملحقہ چھوٹی سی زمین خرید لی اور اس کو ہمارے گھر سے ملا لیا جس کے بعد ہمارے گھر کے کمروں کی تعداد تین ہوگئی۔

لباس کے لحاظ سے بھی یہی کیفیت تھی۔ ہماری والدہ، والد کے پرانے کپڑوں سے ہمارے لئے کچھ تیار کر لیتی تھیں جو عجیب و غریب تھا نہ تو وہ لبادہ تھا نہ ہی قبا؛ ایک لمبا پہناوا جو گھٹنوں کے نیچے تک پہنچتا تھا۔ تاہم والد بھی اپنا لباس بہت جلد تبدیل نہیں کرتے تھے، بطور مثال ان کا ایک لبادہ تھا جسے وہ چالیس سال تک استعمال کرتے رہے تھے۔

آپ چار یا پانچ سال کی عمر میں بڑے بھائی آقا سید محمد کے ہمراہ قرآن سیکھنے کے لئے مکتب خانے میں داخل ہوئے جہاں سے کچھ عرصہ بعد دونوں بھائی کو دار "التعلیم دیانتی" نامی اسلامی پرائمری اسکول بھجوا دیا گیا۔

اس قسم کے مدارس اور اسکولوں کی بنیاد رضاخانی گھٹن کے بعد کے دور میں دیندار افراد نے رکھی تھی اور ان میں زیادہ تر توجہ طلبہ کی دینی تربیت پر مبذول کی جاتی تھی اور انہیں تعلیمی سند دینے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ ان اسکولوں میں پرائمری اسکولوں کے معمول کے نصاب کے ساتھ قرائت قرآن، حساب سیاق [1] اور نصاب الصبیان [2] کی تعلیم دی جاتی تھی۔

آپ نے اس مدرسے میں چھٹی جماعت مکمل کرنے کے بعد والد کی نظروں سے دور، شببنہ اسکول سے چھٹی جماعت کی سند حاصل کی اور خفیہ طور پر ثانوی اسکول میں داخلہ لے کر چھ سال کا کورس دو سال کے مختصر عرصے میں مکمل کرکے ثانوی تعلیم کی سند بھی حاصل کرلی۔

علوم اسلامی کے سلسلے میں آپ نے اسی مدرسے میں عربی ادب سیکھنے کا آغاز کیا۔ جبکہ کتاب "شرح امثلہ" آپ نے اپنی والدہ کے پاس اور "صرف میر" اور "تصریف" کی کتابیں اپنے والد کے پاس پڑھ لی تھیں۔ کتاب "عوامل النحو" اور کتاب "انموذج" مدرسے میں وہاں کے دو اساتذہ کے پاس پڑھ لیں اور مشہد کے مشہور "مدرسہ سلیمان خان" میں داخلہ لیا اور وہاں "صمدیہ"، سیوطی کی کتاب "بہجۃ المرضیہ فی شرح الالفیۃ" اور ابن ہشام کی کتاب "مغنی اللبیب" کا کچھ حصہ اسی مدرسے میں مکمل کیا۔

محقق حلی کی کتاب "شرائع الاسلام" پڑھنے کے لئے اپنے والد کے درس میں شامل ہوئے اور اس کتاب میں "کتاب الحج" تک پہنچے تو والد ماجد نے ہدایت دی کہ "شرح لمعہ" کی کتاب الحج کے درس میں شرکت کریں اور اپنے بھائی الحاج سید محمد کے ساتھ درسی مباحثہ کیا کریں۔ آپ مدرسۂ سلیمان خان کے بعد "مدرسۂ علوم دینيۂ نواب" میں داخل ہوئے اور سطوح علمی کو یہیں مکمل کیا۔ اور بعد ازاں آیت اللہ العظمیٰ میلانی کے درس خارج میں شریک ہوئے۔

آپ اپنی ان کامیابیوں اور توفیقات کو اپنے والد ماجد کی زحمتوں کے مرہون منت سمجھتے ہوئے فرماتے ہیں:

"علم دین کے نورانی راستے کے انتخاب میں بنیادی محرک میرے والد تھے اور میری والدہ بھی دینی علوم کا اشتیاق رکھتی تھیں اور مجھے بھی ترغیب دلاتی تھیں۔۔۔ میں نے علوم دینیہ کے حصول کا آغاز کیا تو میرے اور والد کی عمروں میں بہت فرق تھا، ٹھیک 45 سال کا فرق، علاوہ ازیں میرے والد اعلی علمی مراتب پر فائز تھے اور اذن و اجازت کے حامل مجتھد تھے نیز اعلی پائے کے علماء کی تربیت میں کردار ادا کرچکے تھے۔ چنانچہ چنداں مناسب نہیں لگتا تھا کہ وہ اس اعلی علمی مرتبے کے ہوتے ہوئے مجھے ـ جو کہ ابھی بالکل ابتدائی مرحلے میں تھا ـ پڑھانا شروع کردیتے؛ انہیں اس طرح کے کاموں کا حوصلہ بھی اتنا نہ تھا؛ تاہم ہماری تعلیم و تربیت انہیں اتنی عزیز تھی کہ میرے بڑے بھائی کو بھی، مجھے بھی اور بعد میں ہمارے چھوٹے بھائی کو بھی پڑھاتے تھے اور تعلیمی اور تربیتی لحاظ سے ان کا ہم بھائیوں اور بالخصوص مجھ پر بڑا حق ہے یہاں تک کہ اگر ہمارے والد کا وہ کردار نہ ہوتا تو میں فقہ و اصول میں بےشمار کامیابیاں حاصل نہ کر پاتا۔

البتہ میں قم المقدسہ جانے سے قبل اپنے والد سے فیضیابی کے ساتھ ساتھ حوزہ علمیۂ مشہد کے عمومی دروس میں بھی حاضر ہوتا تھا اور گرمیوں میں جب دروس کی چھٹی ہوتی تھی تو ہمارے والد ایام تعطیل کے لئے دروس کا تعین کرتے تھے اور خود ہی تدریس فرماتے تھے۔  

چنانچہ ـ جیسا کہ دوسرے طلبہ کے برعکس جو صرف عمومی حوزات میں علم حاصل کرتے ہیں اور محرم، صفر، ماہ مبارک رمضان اور کچھ دن موسم گرما میں چھٹیاں مناتے ہیں ـ میں حصول علم میں کوئی ناغہ نہیں کرتا تھا اور اسی بنا پر سولہ سال کی عمر میں سطح کے تمام دروس کو مکمل کرکے درس خارج کا آغاز کر چکا تھا"۔

تدریس

امام خامنہ ای (ضوان اللہ علیہ) فرماتے ہیں:

"میں نے پرائمری اسکول کے بعد دینی علوم کے حصول کے آغاز سے ہی تدریس کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا۔ سب سے پہلا مرحلہ شرح امثلہ اور صرف میر کی تدریس کا تھا اور میرے دو بڑی عمر کے شاگر تھے جو مشہد میں مجالس پڑھتے تھے اور سنہ 1958ع‍ تک ـ جب میں مشہد میں تھا ـ صرف، نحو، معانی، بیان، اصول اور فقہ کی تدریس میں مصروف رہا۔ قم میں بھی پڑھائی کے ساتھ پڑھاتا بھی تھا۔

سنہ 1957ع‍ میں عتبات عالیہ کی زیارت کے لئے عراق چلا گیا۔ نجف میں مصروف حوزہ علمیہ نے مجھے اس علمی مرکز میں رہ کر تعلیم جاری رکھنے کی ترغیب دلائی اور مختصر سی مدت کے لئے وہاں قیام بھی کیا لیکن والد ماجد نے نجف میں قیام پر رضامندی ظاہر نہیں کی اور میں مشہد واپس چلا آیا۔ سنہ 1958ع‍ میں والد کی رضامندی سے قم چلا گیا اور سنہ 1964ع‍ تک قم میں قیام کیا۔ چونکہ اسی سال والد ماجد آنکھوں کے عارضے میں مبتلا ہوکر اپنی بینائی کھو بیٹھے، چنانچہ مجھے مشہد واپس آنا پڑا، جبکہ قم میں میرے بزرگ اساتذہ میرے وہاں سے چلے آنے کے خلاف تھے۔

سنہ 1964ع‍ میں مشہد واپسی کے بعد تدریس میرے بنیادی اور دائمی معمولات میں شامل رہی اور سنہ 1978ع‍ تک کے ان برسوں میں سطوح عالیہ (یعنی مکاسب اور کفایۃ الاصول)، تفسیر اور عقائد پڑھاتا رہا"۔

اساتذہ

آپ اپنے اساتذہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

"مشہد مقدس میں سنہ 1964ع‍ سے، میں خود بھی حوزہ علمیہ میں حصول علم میں مصروف تھا اور تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ سنہ 1970ع‍ تک درس فقہ میں شرکت کرتا رہا۔ 

کتاب "انموذج" اور "صمدیہ" کو مدرسۂ سلیمان خان میں جناب علوی نامی استاد کے ہاں پڑھا بو جو خود علوم جدیدہ حاصل کررہے تھے اور طب کے طالبعلم تھے۔ کتاب "سیوطی" اور "مغنی اللبیب" کے ایک حصے کو اسی مدرسہ میں جناب مسعود نامی استاد سے پڑھا؛ اور اس کے بعد مدرسہ نواب چلا گیا جہاں میرے بڑے بھائی آقا سید محمد کو رہائش کے لئے کمرہ ملا تھا اور سیوطی اور مغنی کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اصول الفقہ کی کتاب "معالم الدین" پڑھنے کا بھی آغاز کیا۔  

ان ہی ایام میں والد ماجد نے مجھے کتاب "شرائع الاسلام" پڑھانے کی تجویز دی۔ یہ ایک درسی کتاب نہیں تھی لیکن والد کا خیال تھا کہ یہ کتاب میری علمی نشوونما میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے؛ اور ان کا خیال درست تھا۔ انھوں نے شرائع الاسلام کو ابتداء سے مجھے پڑھایا اور فرمایا: اب آ کر شرح لمعہ کے درس میں شرکت کرو۔ میں نے کہا کہ ممکن ہے شرح لمعہ کو خوب نہ سمجھوں، کہنے لگے: سمجھ سکتے ہو اور اتفاق سے سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی، اور یوں میں نے شرح لمعہ کا تین چوتھائی حصہ والد کے پاس پڑھا اور باقیماندہ حصہ آقا میرزا احمد مدرس یزدی کے پاس جو مدرسہ نواب میں شرح لمعہ اور قوانین الاصول کے استاد تھے۔ شرح لمعہ مکمل کرنے کے بعد "رسائل" اور "مکاسب" کے لئے آیت اللہ الحاج شیخ ہاشم قزوینی کے درس میں حاضر ہؤا جو آقا مرزا مہدی اصفہانی کے شاگرد تھے، اور اہل ریاضت و عرفان اور مشہد کے اول درجے کے استاد سممجھے جاتے تھے۔ آیت اللہ قزوینی بہت محترم شخصیت کے مالک اور بہت بڑے عالم تھے اور مشہد کے خواص ـ بالخصوص اہل علم کے درمیان ـ مرد حُرّ اور روشن ضمیر انسان کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے۔ بہت ہی جامع اور خوش بیان تھے یہاں تک کہ میں نے نجف اور قم میں ـ جہاں میں نے زیادہ تر دروس میں شرکت کی تھی ـ  اس قدر خوش بیان استاد نہیں دیکھا تھا۔

میں نے رسائل، مکاسب اور کفایۃ الاصول کا زیادہ تر حصہ آیت اللہ قزوینی سے پڑھا جبکہ ان کتابوں کے باقیماندہ دروس اپنے والد کے ہاں پڑھ لئے۔ چنانچہ کہنا پڑے گا کہ والد ماجد نے میری درسی اور علمی پیشرفت میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے؛ اور ابتداء سے لے کر ـ جب باقاعدگی سے دینی طالبعلم بنا، ـ اس وقت تک، ـ جب درس خارج میں شریک ہونے لگا ـ محض ساڑھے پانچ سال کا عرصہ لگا، یعنی کہ میں نے سطوح کا پورا کورس ساڑھے پانچ سال میں مکمل کیا اور درس خارج کو حوزہ علمیہ کے مردِ مُلّا اور محقق استاد آیت اللہ العظمیٰ میلانی (رحمۃ اللہ علیہ) ـ جو مشہد کے مراجع تقلید میں سے تھے ـ کے ہاں شروع کیا۔

آیت اللہ میلانی کے درس اصول الفقہ میں ایک سال تک اور درس فقہ میں ڈیڑھ سال تک شرکت کی؛ سنہ 1958ع‍ تک، جس کے بعد حصول علم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے قم کی طرف عزیمت کی۔ 

قابل ذکر ہے کہ میں مشہد میں کچھ عرصے تک آیت اللہ الحاج شیخ ہاشم قزوینی کے درس خارج میں شرکت کرتا رہا جنہوں نے ہمارے اصرار پر "اصول الفقہ" کے درس خارج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ آیت اللہ قزوینی ایک وسیع بحث کے ضمن میں تمام اقوال کو نقل کرکے ردّ کرکے اپنی رائے قائم کرتے تھے۔ مشہد میں کچھ عرصے تک ایک دوسرے درس میں بھی شرکت کی جو آیت اللہ میرزا جواد آقا تہرانی کا درس فلسفہ تھا۔ ان کی روش یہ تھی کہ الحاج ملا ہادی سبزواری کی کتاب "منظومہ" سے ان کے اقوال نقل کرکے ردّ کردیتے تھے؛ یعنی یہ درس در حقیقت ردِّ منظومہ کا درس تھا۔ یہاں تک کہ میرے ایک دوست ـ جنہوں نے قم سے فلسفہ پڑھا تھا ـ نے کہا: یہ درست نہیں ہے کہ آپ میرزا جواد کے درس منظومہ میں شرکت کریں کیونکہ وہ منظومہ کو ردّ کرتے ہیں اور یوں آپ حکمت کے مفاہیم کو نہیں سمجھ سکیں گے۔ لہٰذا کسی ایسے استاد کے پاس جائیں جو حکمت و فلسفہ پر یقین رکھتا ہو، اور میں نے بھی ان کی تجویز مان لی اور مشہد میں ایک استاد کے پاس جن کا نام "آقا شیخ ایسی" تھا اور قدیم زمانے کے ملّا اور فاضل اور حکیم اور حکمت و فلسفہ پر یقین رکھتے تھے۔ میں نے درس منظومہ ان کے پاس شروع کیا۔ وہ منظومہ کے مباحث مکمل طور پر حکمت کے مطابق بیان کرتے تھے۔ بعدازاں نجف چلا گیا اور آیات عظام حکیم، خوئی اور شاہرودی نیز آقا میرزا باقر زنجانی، میرزا حسن یزدی اور آقا سید یحیی یزدی کے دروس میں شرکت کی اور جہاں بھی کوئی درس تھا میں اس میں شریک ہؤا۔

لیکن ان تمام دروس میں ایک آیت اللہ حکیم کا درس تھا جو مجھے بہت پسند آیا، کیونکہ سلیس اور رواں تھا اور ان کی فقہی آراء بھی بہت اچھی تھیں۔ اور ایک آیت اللہ میرزا حسن بجنوردی کا درس تھا جو مسجد طوسی میں منعقد ہوتا تھا اور ان کا درس  بھی بہت پسند آیا۔ یوں میں نے نجف میں قیام کا فیصلہ کیا اور والد ماجد کو خط لکھا لیکن انھوں نے میری درخواست سے اتفاق نہیں کیا لہٰذا مشہد واپس آیا اور کچھ عرصہ بعد قم چلا گیا اور قم میں فیصلہ کیا کہ تمام دروس کو دیکھ لوں اور جو درس پسند آئے اسی میں شرکت کروں اور ایسا ہی کیا؛ اور امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے درس میں حاضر ہوتا تھا اور ان کے بعد آیت اللہ آقا مرتضی حاج شیخ (حائری) کے درس میں شرکت کرتا تھا اور آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کے درس میں بھی حاضر ہوتا تھا؛ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے درس فقہ اور درس اصول میں بلا ناغہ شرکت کرتا تھا۔ فلسفہ میں بھی اسفار کے کچھ حصے اور الشفاء کے کچھ حصے میں علامہ طباطبائی سے کسب فیض کیا"۔

آپ فقہ اصول کے علاوہ فلسفۂ اسلامی، رجال، درایہ، ہیئت اور دیگر علوم بھی پڑھتے اور پڑھاتے رہے ہیں۔ آپ کے ساتھ بحث و مباحثہ کرنے والے علماء کی گواہی کے مطابق، آپ ملک کے اعلی انتظامی مناصب کے دوران بھی کبھی بھی درس و تدریس سے غافل نہیں ہوئے اور اپنے امور میں خاص نظم و انضباط اور منصوبہ بندی کی برکت سے ـ بالخصوص فقہ کے شعبے میں ـ مطالعہ اور تحقیق کا سلسلہ جاری رکھتے تھے؛ اور آپ کی ان مطالعات اور تحقیقات کا اثر آپ کی تألیفات میں بخوبی جھلکتا نظر آتا ہے۔

حصۂ اول | شہید رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی حسینی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) کی شخصیت کا اجمالی جائزہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


[1]۔ دیوانی، دفتری اور شخصی اعداد و شماریات ثبت و ضبط کرنے کی روش، جو آج کے زمانے میں رائج نہیں ہے۔

[2]۔ "نصاب‌ الصبیان" ساتویں صدی ہجری کی ایک منظوم کتاب کا نام ہے جس میں بہت سے عربی الفاظ کو فارسی میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب بہرام شاہ سلجوقی کے وزیر حسن بن علی بن اسحاق طوسی کے حکم پر لکھی گئی تھی، اور اس کے مؤلف ابونصر فراہی تھے۔ جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے، یہ کتاب در اصل اطفال کی تعلیم کے لئے لکھی گئی ہے اور عام عربی سیکھنے والوں کے لئے بھی مفید ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha