28 فروری 2026 - 01:12
حصۂ سوئم | جنوری کے فسادات میں 10 غیر ملکی ایجنسیاں ملوث تھیں، سربراہ سپاہ پاسداران انٹیلی جنس فورس

خامنہ ای ڈاٹ آئی آر میڈیا نے جنوری 2026 کے امریکی-صہیونی فتنے کے پس منظر، پہلو‎ؤں، ناکامی کے طریقہ کار اور مستقبل کے لئے دشمن کے ممکنہ منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی انٹیلی جنس فورس کے سربراہ، بریگیڈیئر جنرل پاسدار مجید خادمی سے بات چیت کی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اس انٹرویو میں جنوری 2026 کے تلخ واقعات کا ہمہ جہت اور مختلف زاویوں سے جائزہ لیا گیا ہے۔ سیکورٹی پہلو اس معاملے کے سب سے اہم پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ ایرانی عوام کے دشمنوں نے ایک کثیر الجہتی اور پیچیدہ منصوبے اور بعض اقتصادی اور سماجی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں اپنا 47 سالہ خواب پورا کرنے کی کوشش کی اور یقیناً اس بار بھی ماضی کی طرح، وہ غلط اندازے کا شکار ہوگئے اور ایرانی عوام کو ایک کلیدی عنصر کے طور پر، نہیں پہچانا چنانچہ ان کا منصوبہ ماضی کی طرح ادھورا اور ناکام ہو گیا۔

سوال: حالیہ فتنے میں دشمن کی سیکورٹی ایجنسیوں کے کردار کے بارے میں آپ کا تجزیہ کیا ہے؟ کتنی ایجنسیاں ملوث تھیں اور ان کا منصوبہ اور طریقہ کار کیا تھا؟ کیا گرفتار شدگان میں دوہری شہریت رکھنے والے یا غیرملکی ایجنسیوں کے ساتھ منظم تعلق رکھنے والے افراد کی نشاندہی ہوئی ہے؟

جواب: ان فسادات میں، انٹیلیجنس ایجنسیوں کا سب سے نمایاں اور یقیناً سب سے مؤثر کردار تھا۔ ڈیزائننگ، کرداروں کی تقسیم، نیٹ ورکنگ، تربیت، معلوماتی پشت پناہی اور یہاں تک کہ فسادیوں کی فیلڈ کمانڈ زیادہ تر ـ ورچوئل اسپیس کے ذریعے ـ ان ہی کے ذمے  تھی۔ جیسا کہ سپاہ پاسداران کی انٹیلی جنس تنظیم کے تیسرے بیان میں اشارہ کیا گیا، کم از کم 10 انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ان فسادات میں براہ راست کردار ادا کیا، جن میں سے ورچوئل اسپیس کے پلیٹ فارمز پر [صہیونی] ریاست کے فوجی انٹیلیجنس ادارے "8200 یونٹ" کا کردار پر محدود تعداد میں حقیقی صارفین ـ اور لاکھوں روبوٹس کے استعمال ـ کے ذریعے قابل ذکر ہے۔

اس سلسلے میں، صہیونی ریاست کے ایک سیکورٹی اہلکار نے فسادیوں کو ٹارگیٹڈ قتلوں کرنے کے لئے مسلح کرنے میں معلوماتی اور میدانی پشت پناہی کے عملیاتی پروگراموں کے کچھ حصوں کی واضح طور پر نشاندہی کی ہے۔ وہ کہتا ہے: "ہمیں ایران کے عوام کی مدد کرنی چاہئے۔ انہیں معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔ بتانا چاہئے کہ بسیج کہاں ہے، کمانڈر کہاں سوتے ہیں۔ ان کے خاندان کہاں ہیں۔ ہمیں عوام کو اسلحہ بھی دینا چاہئے۔"

ایجنسیوں کی طرف سے نیٹ ورکنگ کے ماڈل میں تبدیلیوں اور سماجی نیٹ ورکس کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے میں روایتی طریقوں کو چھوڑ کر نئی روشوں کے بروئے کار لانے کے علاوہ، ـ جو انٹیلی جنس ایجنسی کو فزیکل سیکورٹی کی ایک تہہ میں محدود کرتی ہیں، قدرتی طور پر ایجنسیوں سے منسلک افراد خصوصی تربیت حاصل کرکے، سیکورٹی فورسز کے جال میں کم ہی پھنستے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی، جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ کیا، بحران شروع ہونے سے پہلے، دشمن کی سیکورٹی ایجنسیوں سے منسلک افراد کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور یہ سلسلہ فسادات کے شروع ہونے تک جاری رہا،

جن میں سے کچھ کی طرف اشارہ کرتا ہوں: دشمن کی جاسوسی ایجنسیوں سے وابستہ تقریباً 46 افراد کا سراغ لگایا گیا، انہیں گرفتار کیا گیا یا سائبر جنگ میں بروئے کار لایا گیا، 9 صوبوں میں گذشتہ فسادات کے مقتولین کے خاندانوں سے منسلک بغاوت کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، تکنیکی اور مواصلاتی آلات اور ٹھندے اور گرم ہتھیار (چاقو، خنجر، چھری، تلوار وغیرہ نیز رائفل اور پستل کی مختلف اقسام) کی نمایاں مقدار کا سراغ لگانا جس کی تفصیلات جلد ہی منظر عام پر آئیں گی، متعدد فسادیوں کی گرفتاری جنہیں سماجی نیٹ ورکس کے ذریعے انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے بھرتی اور استعمال کئے گئے تھے، وغیرہ۔

سوال: ان گروہوں کے پرتشدد طریقوں اور داعش کے طریقوں میں مماثلت اور فرق کیا ہے؟ کیا داخلی ٹولوں نے وہی لاجسٹک یا نظریاتی ڈھانچے استعمال کئے ہیں جو داعش استعمال کرتی تھی؟

جواب: ان دنوں مغربی ایجنسیوں کی رہنمائی میں دہشت گرد فسادیوں نے جو کچھ انجام دیا، وہ داعش جیسے رویوں کی نئی افزائش نسل کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی شام میں پرتشدد اور خوفناک طریقوں کی کامیابی کے وہم میں، ـ جس کا اثر خوف و ہراس اور افراتفری پیدا کرنے اور ایک ملک کو تباہی کے دہانے تک لے جانے میں عیاں ہؤا ـ دوبارہ اسی طریقے کو اختیار کرنا چاہتے تھے، جس کے نتیجے میں بدقسمتی سے ان دنوں عوام اور سیکورٹی فورسز کے متعدد شہید اس ہمہ جہت تشدد کا شکار ہوئے۔ دوسری طرف، وہ ملک میں وسیع پُرتشدد ماحول بنا کر یہ تاثر پیدا کرنے کے منتظر تھے کہ امن و امان کی بحالی قابو سے باہر ہو گئی ہے۔ نیز تصادم کے مقامات کو بڑھا کر اور فوجی مراکز اور غیر محفوظ مقامات جیسے مساجد، امام بارگاہوں، یہاں تک کہ ثقافتی مراکز، کتب خانوں، ڈسپنسریوں اور اسکولوں پر حملہ کرکے قانون نافذ کرنے والے اور سیکورٹی اداروں کی طاقت کو مصروف رکھنا چاہتے تھے تاکہ بیرونی مشترکہ (Hybrid) حملے کے لئے ماحول فراہم ہو سکے۔

ان فسادات میں، مغربی ایجنسیوں نے ـ داعش کے کچھ نوجوانوں کی برین واشنگ اور انہیں پرتشدد کارروائیاں کرنے پر مجبور کرنے کے طریقہ کار کی مانند، یہاں تک کہ منشیات اور نشہ آور ادویات کے استعمال کے ذریعے ـ دہشت گردوں کو انسانوں کو جلانے، ان کے سر قلم کرنے اور مثلہ کرنے  جیسے کام انجام دینے پر آمادہ کیا۔

قابل توجہ نکتہ یہ کہ اگر شام اور عراق میں، داعش مذہب کے دفاع کا بینر لگا کر لوگوں کو قتل کرتی تھی، تو حالیہ فسادات میں، ـ ہمارے رہبر انقلاب کے ارشادات کے مطابق، ـ ہمیں ایک نئی قسم کی داعش کا سامنا کرنا پڑا جو اتفاق سے مذہبی ہونے کے جرم میں لوگوں کے سر قلم کر رہی تھی۔ سینکڑوں اسکولوں، ڈسپنسریوں، کتب خانوں کے ساتھ ساتھ تقریباً 350 مساجد، 20 امام بارگاہیں اور عبادت گاہیں، 90 دینی مدارس، 60 امام جمعہ کے دفاتر اور مراجع تقلید کے دفاتر پر حملے ہوئے، یہ ان ان نئے داعشیوں کے دین دشمن مخالف رویوں کا ایک پہلو ہے۔ ان معاملات کے ساتھ ساتھ، دکانوں، بینکوں، چین اسٹورز، ڈسپنسریوں اور ہیلتھ سینٹرز اور شفاخانوں کو آگ لگانے اور تباہ کرنے جیسے اقدامات سے عیاں ہوتا ہے کہ دشمن نئے داعشی فسادیوں کو استعمال کرکے، اسلامی ایران کے عزیز عوام سے انتقام لینے کے درپے تھا۔

سوال: ایسا لگتا ہے کہ 'ہلاکتیں بنانا' (ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھانے کا منصوبہ) اس معاملے کے اہم مقاصد میں سے ایک تھا اور بدقسمتی سے کافی تعداد میں لوگوں نے اپنی جانیں بھی گنوا دیں۔ اس ہدف کو منصوبہ سازوں اور میدانی عناصر نے کیوں اور کیسے انجام دیا، اس کی وضاحت کریں۔ ہلاکتوں کی تعداد بڑھانے کے لئے کون سے طریقے استعمال کئے گئے اور اس کے لئے کون سے خاص احکامات اور منصوبہ بندی تھی؟

جواب: ہلاکتیں بنانے کا موضوع پچھلے تمام فتنوں میں بھی دشمن کی توجہ کا مرکز رہا تھا، لیکن حالیہ فسادات میں، دشمن نے ہلاکتوں کی تعداد بڑھانے کے لئے خصوصی کھاتہ کھول دیا تھا۔ یہاں تک کہ امریکی صدر کی طرف سے "فتح تہران" اور "مظاہرین مارے گئے تو ایران پر حملہ ہوگا" جیسے الفاظ کا ایک قسم کے "code-name" کے طور پر اعلان کیا گیا۔ اس سلسلے میں، ایک ٹولے کے سرغنے نے اپنے ایک میدانی عنصر کو حکم دیا تھا کہ جتنا زیادہ ہو سکے سیکورٹی فورسز کو فائرنگ پر اکسانے کی کوشش کرو تاکہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہو اور کہتا ہے: "یہاں تک کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا، تو خود اپنے آس پاس کے لوگوں کو مار ڈالو۔"

ایک سرسری نظر سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ فسادی، ہلاکتیں بنانے کے منصوبے میں درج ذیل اہداف کے در پے تھے:

• داخلی اور خارجی جذبات کو مجروح کرنا

• خارجی مداخلت کے لئے مبینہ طور پر جائز محرک پیدا کرنا

• نظام کے حامی قوتوں یعنی عوام اور قانون نافذ کرنے والے سیکورٹی اداروں میں خوف اور باہمی اختلاف پیدا کرنا

• عوام اور نظام کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑا کرنا

اسی منصوتے کے تحت، شروع ہی سے،  "عوام کا مبینہ قتل عام" کا موضوع دشمن سے منسوب سرکاری عہدیداروں اور میڈیا کی تقریروں کا مرکزی نکتہ بنا اور اسے آگے بڑھایا گیا۔ میدان میں بھی "سستے لیکن پرتشدد فسادی عناصر" نے پولیس اور فوجی مراکز پر حملہ کئے اور اس اقدام کے نتائج سے آگاہ ہوکر، بعض مظاہرین کو بیرونی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے حکم پر قربان کر دیا۔ پیچھے سے، قریب سے فائرنگ، اور سائلنسر استعمال کرنا، غیر روایتی ہتھیاروں ـ جیسے شکار کی بندوق اور سرد ہتھیاروں جیسے خنجر اور تلوار کا استعمال کرکے ـ قتل عام اس کی مثال ہے۔ یہاں تک کہ متعدد معاملات میں، یہ قتل عام خود فسادیوں نے پتھروں، چھریوں اور یہاں تک کہ جنگی ہتھیاروں سے اور بعض اوقات فسادات والے مقامات سے دور کے علاقوں میں بھی کیا، جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اور سیکورٹی اداروں کی گرم ہتھیاروں کے استعمال میں تحمل (یہاں تک کہ اپنے جوانوں کی شہادت اور زخمی ہونے کی قیمت پر) اور صرف فوجی اور پولیس مراکز کے تحفظ اور حفاظت کے ہدف سے فائرنگ کرنے کی اجازت کے باوجود، ہمارے کچھ عزیز شہری، دشمن اور سڑکوں پر موجود دشمن کے گماشتوں اور پیادوں کے عزائم کا شکار ہو گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha