بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || عرب دنیا کے مشہور تجزیہ کار، عبدالباری عطوان نے کہا:
دوسری اور آخری قسط:
امریکہ اپنے جانی نقصانات کے اعداد و شمار شائع نہیں کرتا، لیکن کیوں؟
تاہم ایرانیوں نے اعلان کیا کہ ان کے 20 یا 17 افراد شہید ہوئے ہیں، انہوں نے اس بات کو خفیہ نہیں رکھا، لیکن امریکہ ایسا نہیں کرتا۔
امریکی ـ پانچ عرب ریاستوں میں واقع پانچ امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں ہلاک شدہ امریکی فوجیوں کی تعداد سے انگشت بدندان رہ جائیں گے۔
اگلا مسئلہ تیل کا ہے
اس وقت فی بیرل تیل کی قیمت 100 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے اور ان قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ صورت حال بدل رہی ہے، مستقبل ہمارا ہے۔
امریکہ اپنا رعب و دبدبہ کھو چکا ہے، اپنے وجود کی ساکھ کھو گیا ہے، اپنا کنٹرول کھو گیا ہے، اور اپنا تخت و تاج کھو گیا ہے۔
عالمی سطح پر بنیادی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور ہم فاتح ہونگے؛ ہم مقاومت و مزاحمت کرنے والے ہیں؛ ہم وہ لوگ ہیں جو مقاومت کے مورچے میں کھڑے ہیں؛ مقاومت اس امریکی غرور و تکبر کے سامنے، اور ان اسرائیلی جارحیتوں کے سامنے۔
آج ایران اس جنگ سے ـ کسی بھی زمانے سے زیادہ طاقت کے ساتھ ـ عہد برآ ہو چکا ہے، اور بدستور، مشرق وسطیٰ (مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ) کی سب سے بڑی اور حقیقی طاقت ہے۔
شکست امریکہ ـ اس کے میزائلوں، سمندروں کو بھرنے والے طیارہ بردار جہازوں اور دوسرے بحری جہازوں ـ کا انتظار کر رہی ہے۔ امریکہ میں ہمت نہیں ہے کہ حتیٰ اپنا ایک جنگی بحری جہاز کو میدان میں اتارنے کی جرأت نہیں کر سکتا؛ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر وہ ان جہازوں کو میدان میں اتار دے؛ تو انہیں بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور بحر ہند میں نشانہ بنایا جائے گا؛ اسی بنا پر امریکہ عرب ممالک کی سرزمینوں کو استعمال کر رہا ہے، تاکہ انتقامی کاروائیوں کا رخ عرب ممالک کی طرف رہے، نہ کہ امریکی جہازوں کی طرف،
کچھ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ "ایران امریکی جہآزوں کو نشانہ کیوں نہیں بناتا؟" کیا اب سمجھے ہو کہ ایسا کیوں ہے؟، اس لئے کہ وہ ایران کی جوابی کاروائیوں سے ڈرتے ہیں۔
اس وقت ایران کو نشانہ بنانے کے لئے امریکی میزائل عرب ممالک سے داغے جاتے ہیں، اور ایران بھی انہیں نشانہ بنا رہا ہے۔ امریکی اڈوں کے میزبان تمام عرب ممالک کو ایک متحدہ موقف اختیار کرنا چاہئے اور امریکیوں سے کہنا چاہئے: "نہیں"، اپنے جہازوں اور طیارہ بردار جہازوں کو استعمال کرو؛ ہم نشانہ نہیں بننا چاہتے، اگر تم واقعی مردِ میدان ہوں تو اپنے جہازوں اور کشتیوں کو بروئے کار لاؤ اور ہم سے دور ہو جاؤ، ہماری سلامتی سے دور ہوجاؤ، اور علاقائی استحکام سے دور ہو جاؤ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ