اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ کے شعبۂ عرب و بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ سید عمار الموسوی نے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن کے خلاف اپنی ماضی کی ناکام پالیسیوں کو دوبارہ نہ دہرائے۔ انہوں نے کہا کہ یمن پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کے الزامات مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش ہیں۔
یمن کے ٹی وی چینل المسیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے عمار الموسوی نے کہا کہ سعودی عرب کے الزامات سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق، یمن کے خلاف جنگ کا مقصد اس ملک کو اپنے وسائل سے فائدہ اٹھانے اور خودمختاری حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
عمار الموسوی نے کہا کہ یمنی عوام 2015 سے تباہ کن جنگ کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ جارحیت بند کرے، محاصرہ ختم کرے اور یمن کے ساتھ حسنِ ہمسائیگی کا رویہ اپنائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مسائل کا حل جنگ نہیں، بلکہ مذاکرات ہیں۔
حزب اللہ کے رہنما کے مطابق، سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کی قیادت میں صنعا کی حکومت سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے تین بنیادی اقدامات ضروری ہیں:
عمار الموسوی نے سعودی عرب کو خبردار کیا کہ وہ یمن میں اپنے سابقہ ناکام تجربات کو نہ دہرائے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ریاض یمن کی جنگ کو خانہ جنگی قرار دے کر اپنی مداخلت کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حزب اللہ کے رہنما نے خطے کے ممالک کو امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ سازشوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکی بحری بیڑوں کی تعیناتی اور فوجی اڈوں کے لیے مالی معاونت بھی خلیجی ممالک کو محفوظ نہیں بنا سکی۔
ان کے بقول، امریکی فوجی موجودگی نے خلیجی ممالک کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں حملوں اور کشیدگی کے خطرات سے دوچار کیا ہے۔
عمار الموسوی نے کہا کہ خطے کے ممالک کو ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے اور امریکی حمایت و اتحادوں پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ