بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی انٹیلیجنس تنظیم نے وحدت اور مہربانی کے نبی حضرت احمد مختار (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ولادت با سعادت کے موقع پر مبارکباد پیش کی اور جرائم پیشہ امریکی دشمن کے خلاف ایرانی قوم کی مجاہدانہ جنگوں کے تمام شہداء، خاص طور پر عالم اسلام کے سید الشہداء حضرت امام خامنہ ای (قُدِّسَ سِرُّہُ) کو خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے، شریف ایرانی قوم کے نام اپنے بیان میں شرپسند دہشت گرد دشمن کے خلاف تقدیر ساز میدانِ جنگ کی تصویر کشی کی ہے۔
دوسری قسط:
دشمن کا ایجنڈا
حاصل کردہ معلومات کا جائزہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذکورہ حکمت عملی کو اپ ڈیٹ کرنا دشمن کے ایجنڈے پر ہے؛ اور وہ محدود وقتی حملوں کو جاری رکھتے ہوئے، بحران پیدا کرنے والے نقاط کو متحرک کرنا، نفسیاتی جنگ، مالیاتی اور ایکسچینج مارکیٹوں میں افراتفری پھیلانے اور امن و امان کی صورت حال بگاڑنے کی کاروائیوں کو ایران کے کیس کے انتظام کا واحد آپشن سمجھتا ہے۔ اس منصوبے میں دشمن "مزاحمت کے تصور کو تابعداری کے تصور میں تبدیل کرنا"، "داخلی دفاعی طاقت کو بیرون ملک سے وابستہ دفاعی طاقت میں تبدیل کرنا" اور "انقلابی نقطۂ نظر کو غیر فعال نقطۂ نظر میں تبدیل کرنا" چاہتا ہے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اندرونی استحکام اور علاقائی اور ماورائے علاقائی طاقت کی بحالی کا عمل روکا جا سکے۔ اس سلسلے میں حال ہی میں موساد کا منصوبہ، جس کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اندر سے دباؤ ڈالنے کے لئے ایک خفیہ اور خصوصی ڈھانچہ بنانا تھا، زیرِ نگرانی آ گیا ہے اور اس کو گھیر لیا گیا ہے۔ اس ڈھانچے کے نیٹ ورکنگ کے اوزاروں میں نام نہاد ناراض دھاروں سے رابطہ، تخریبی کارروائیاں اور مقامی سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر کا استعمال، شامل ہے۔
دشمن کی سازشوں پر کڑی نگرانی
پچھلے 60 دنوں کے دوران سیاسی، اقتصادی، سماجی اور یقیناً فوجی تحریکوں کے خطرات کا زیادہ باریک بینی کے ساتھ کڑی نگرانی سے ظاہر ہؤا ہے کہ دشمن نے اپنی حدود اور انقلاب اسلامی کے فوائد کو سمجھتے ہوئے، مذکورہ منصوبے کو آپریشنل اور انٹیلی جنس جنگ کے اوزاروں پر زیادہ انحصار کرتے ہوئے درج ذیل محوروں پر جاری رکھنے کی کوشش کی ہے:
1) اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی سلامتی کی فراہمی میں آبنائے ہرمز کے کردار کو بے اثر کرنا
2) اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے علاقائی جنگ دوبارہ شروع ہونے کے امکان کو روکنا
3) خطے میں محور مقاومت (محاذ مزاحمت کی صلاحیت محدود دکھانا
4) بحری ناکہ بندی مسلط کرنا
5) مقدس اتحاد کو فرسودہ کرنا، عدم اطمینان اور دھڑے بازی کو فروغ دینا اور معمول کے سیاسی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا
6) کچھ کمزوریوں، قلتوں اور ملکی انتظام کی کچھ اندرونی کمزوریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ان سے غلط فائدہ اٹھانا
7) عوام کو اشتعال دلانا تاکہ عدم اطمینان سڑکوں تک پھیل جائے
چنانچہ اس مرحلے میں، اس منصوبے کا مرکزی نقطہ ادراکی جنگ (Cognitive Warfare) شروع کرکے، اور خوف اور غیر یقینی ماحول بنا کر "ایرانیوں کے قومی استحکام کو درہم برہم کرنا اور قومی برداشت کو کمزور کرنا" ہے۔ یہ وہ امر ہے جس کے بارے میں اس تنظیم کی طرف سے جنوری 2026 کی بغاوت کے موقع پر جاری کردہ تین بیانات میں خبردار کیا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ