1 نومبر 2026 - 17:55
صیہونی حکومت لبنان میں جنگ پھیلانے کی تیاری کر رہی ہے؛ جنوبی بیروت اور بندرگاہیں ممکنہ اہداف میں شامل

اسرائیلی اخبار معاریو کے مطابق، صیہونی حکومت کی بحریہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جنگ میں بڑے پیمانے پر حصہ لینے اور اس جنگ کا دائرہ لبنان تک پھیلنے کی صورت میں اہم کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس منصوبے میں جنوبی بیروت کے بڑے حصے کو نشانہ بنانے کے علاوہ بیروت اور طرابلس کی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ بھی شامل ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبرانی اخبار معاریو نے اتوار کو رپورٹ دی ہے کہ صیہونی حکومت کی بحریہ کسی بھی ممکنہ محاذ آرائی میں مرکزی کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ محاذ آرائی ایران کے ساتھ شروع ہو سکتی ہے اور لبنان سمیت دوسرے محاذوں تک پھیل سکتی ہے۔

ان تیاریوں کے تحت صیہونی حکومت کی بحریہ بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ کے بیشتر حصے پر گولہ باری کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ وسطی لبنان میں بیروت اور شمالی لبنان میں طرابلس کی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ بھی اس کے منصوبے میں شامل ہے۔

لبنان کے ساحلی شہر صیہونی حکومت کے ممکنہ اہداف میں شامل

صیہونی حکومت کی ممکنہ کارروائیاں صرف سمندری محاذ تک محدود نہیں رہیں گی۔ عبرانی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے ساحلی شہر بھی اس کے اہم ممکنہ اہداف میں شامل ہوں گے۔ خاص طور پر صور اور صیدا شہر، جن پر صیہونی فوج قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ نبطيہ شہر بھی ان علاقوں میں شامل ہے جنہیں حزب اللہ کی جانب سے صیہونی حکومت کو چیلنج کرنے کی صورت میں فوجی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہ تیاریاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب صیہونی فوج کے اندر یہ اندازہ پایا جاتا ہے کہ ایران کے خلاف فضائی حملوں میں مصروفیت کے باعث اس کی فضائیہ پر کام کا بوجھ زیادہ ہوگا۔ اسی وجہ سے صیہونی فوج لبنان کی سرزمین کے اندر دور تک ابتدائی اور معاون کارروائیاں انجام دینے کے لیے بحریہ پر زیادہ انحصار کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

یہ حکمت عملی گزشتہ سال جون اور رواں سال فروری میں ایران کے خلاف ہونے والی دو جنگوں سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر اختیار کی گئی ہے۔

ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی صیہونی حکومت کی تیاری

عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت نے بھی ہفتے کے روز رپورٹ دی کہ صیہونی حکومت نے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اخبار نے واضح کیا کہ جنگ میں واپسی کا فیصلہ اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار میں ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

اخبار نے نام ظاہر نہ کرنے والے سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صیہونی حکومت ایران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی کے ایک نئے دور کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم اس حکومت کی سیاسی اور فوجی قیادت کے پاس جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

جنگ شروع کرنے کا فیصلہ امریکہ کے مؤقف اور ٹرمپ کے انتخاب پر منحصر ہے کہ آیا وہ تہران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچتے ہیں یا صیہونی حکومت کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے فوجی حملے دوبارہ شروع کرتے ہیں۔

خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ اور دفاعی سازوسامان کی ترسیل

امریکہ، خلیج فارس کے عرب ممالک اور صیہونی حکومت کی جانب سے اب تک جاری ہونے والی مختلف رپورٹوں کے مطابق، امریکی فوج خطے میں اپنی نفری اور فوجی موجودگی کو مسلسل بڑھا رہی ہے۔

اس وقت خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ کے دو طیارہ بردار بحری جہاز موجود ہیں، جبکہ فوجی سامان اور اہلکاروں کی نقل و حمل کرنے والے طیارے مسلسل خلیج فارس کے عرب ممالک اور صیہونی حکومت کے ہوائی اڈوں پر اتر رہے ہیں۔

یہ معلومات طیاروں کی پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس پر شائع ہونے والی رپورٹوں کے علاوہ ان اعداد و شمار پر بھی مبنی ہیں جن کا حوالہ معاریو نے دیا ہے۔ ان میں تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کی جانب سے چند روز قبل جاری کردہ معلومات اور اس سے پہلے ویب سائٹ آکسیوس کی رپورٹ بھی شامل ہے۔

معاریو کے حوالے سے پیش کیے گئے اندازوں کے مطابق، بھیجے جانے والے سامان میں ہتھیار اور دفاعی آلات شامل ہیں، جن میں پیٹریاٹ میزائل شکن نظام، ریڈار سسٹم اور خطے میں تعینات امریکی لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرنز کے لیے درکار اضافی پرزے بھی شامل ہیں۔

معاریو کے مطابق، صیہونی حکومت اس وقت امریکہ کے ساتھ رابطہ کاری کر رہی ہے، لیکن اس نے اپنی کارروائیوں کو صرف واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگی تک محدود نہیں رکھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صیہونی حکومت کے اندازوں کے مطابق، ایران پر حملے کی صورت میں تہران مختلف محاذوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور انہیں بیک وقت فعال کرنے کی کوشش کرے گا۔

یمن کا محاذ فعال ہونے اور حزب اللہ کے جنگ میں شامل ہونے کا امکان

معاریو کی شائع کردہ صیہونی حکومت کے اندازوں کے مطابق، اس صورت حال کا آغاز یمن کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں تیزی سے ہو سکتا ہے۔ اس منظرنامے میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یمنی مسلح افواج سعودی عرب کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کریں گی اور انہیں صیہونی حکومت کی جانب میزائل داغنے کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے۔

لبنان کی حزب اللہ کے حوالے سے بھی ہفتے کے روز ایسی رپورٹیں سامنے آئیں جن میں کہا گیا کہ اگر صیہونی حکومت ایران پر حملہ کرتی ہے اور اس ملک کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو حزب اللہ صیہونی حکومت کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔

صیہونی حکومت کی ساتویں بکتر بند بریگیڈ کی لبنان میں ممکنہ کارروائیوں کے لیے دوبارہ تیاری

رواں ہفتے، لبنان کے خلاف صیہونی حکومت کی تقریباً ایک سال سے جاری مسلسل جارحیت کے بعد، اس کی فوج کی ساتویں بکتر بند بریگیڈ کو فوجی کارروائیوں سے عارضی طور پر الگ کر دیا گیا، تاکہ اسے آرام اور ازسرنو تیاری کا موقع دیا جا سکے۔

اس وقت یہ بریگیڈ بحالی اور دوبارہ تیاری کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اس عمل میں فوجی اہلکاروں کو آرام دینا اور ٹینکوں و بکتر بند گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال شامل ہے۔

معاریو کی رپورٹ کے مطابق، آئندہ چند روز میں اس بریگیڈ کو اپنی جنگی تیاریوں کی سطح بڑھانے کے لیے مقبوضہ شامی علاقے جولان میں فوجی مشقوں میں حصہ لینا ہے۔

اس کے باوجود اس بریگیڈ کی بنیادی توجہ اب بھی لبنان پر مرکوز ہے اور ممکنہ صورت حال پیدا ہونے پر یہ اپنی پوری جنگی قوت اور صلاحیت کے ساتھ دوبارہ کارروائیوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔

جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کے صیہونی منصوبے میں غزہ بھی شامل

صیہونی فوج نے غزہ کی پٹی کو بھی اپنے فوجی منصوبوں سے خارج نہیں کیا ہے۔ معاریو کے دعوے کے مطابق، ممکن ہے کہ ایران غزہ کے محاذ کو بھی دوبارہ بھڑکانے کی کوشش کرے۔

اس وقت صیہونی فوج کی دو ڈویژنیں غزہ کی پٹی میں تعینات ہیں، جن میں 162ویں ڈویژن اور غزہ ڈویژن شامل ہیں۔ ان دونوں ڈویژنوں کے ماتحت پانچ فوجی بریگیڈز کام کر رہی ہیں۔

اس حوالے سے معاریو نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے اندر صیہونی حکومت کی فوجی کارروائیاں انتہائی شدت کے ساتھ جاری ہیں۔ اس کے علاوہ صیہونی حکومت کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شاباک، فوجی انٹیلی جنس ادارے امان کے تعاون سے حماس اور اسلامی جہاد کی داخلی صورت حال اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات مرتب کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔

دوسری جانب، صیہونی فوج اس وقت غزہ کی پٹی میں اپنی نام نہاد ’’گھاس کاٹنے‘‘ کی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد مسلح گروہوں کی صلاحیتوں میں اضافے اور ان کی فوجی قوت کی ازسرنو تعمیر کو روکنا بتایا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha