اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سعودی عرب کی معیشت رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں ایک بار پھر سکڑ گئی، تاہم گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں اس کمی کی رفتار قدرے کم رہی۔ اقتصادی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کی مسلح افواج کے ساتھ کشیدگی میں اضافے سے پہلے ہی سعودی معیشت مختلف دباؤ کا شکار تھی۔
روزنامہ العربی الجدید کی رپورٹ کے مطابق، اعداد و شمار سعودی عرب کے تیل کے شعبے میں سرگرمیوں کی نمایاں کمی اور غیر تیل شعبے کی مسلسل ترقی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس دوران رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں سکڑنے والی سعودی مجموعی قومی پیداوار میں سہ ماہی بنیاد پر اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
سعودی معیشت مسلسل دوسری سہ ماہی میں سکڑ گئی
سعودی عرب کے جنرل اتھارٹی برائے شماریات کی جانب سے اتوار کو جاری کیے گئے ابتدائی تخمینوں کے مطابق، رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں ملک کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 3.8 فیصد کم ہوئی۔ اس کے برعکس دوسری سہ ماہی میں سعودی معیشت 4.7 فیصد سکڑ گئی تھی۔
2023 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی معیشت کو مسلسل دو سہ ماہیوں میں سالانہ بنیاد پر مجموعی قومی پیداوار میں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تیل کے شعبے میں کمی، معیشت کے سکڑنے کی بڑی وجہ
رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں سعودی عرب کے تیل کے شعبے کی سرگرمیوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20.4 فیصد کمی ہوئی، جبکہ دوسری سہ ماہی میں یہ کمی 24.8 فیصد تھی۔
تیل کے شعبے میں سرگرمیوں کی اس کمی کے باعث سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو میں 4.7 فیصد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔
اسی طرح سعودی عرب کے سرکاری شعبے کی سرگرمیوں میں بھی 2.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ گزشتہ سہ ماہی میں اس شعبے نے 0.9 فیصد ترقی کی تھی۔
اس کے برعکس، سعودی عرب کے غیر تیل شعبے میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جو دوسری سہ ماہی میں ریکارڈ کیے گئے 0.8 فیصد اضافے سے زیادہ ہے۔ اس شعبے نے مجموعی قومی پیداوار میں 1.1 فیصد پوائنٹس کا مثبت کردار ادا کیا۔
یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی حکام تقریباً 1.4 ٹریلین ڈالر مالیت کی معیشت میں تبدیلی لانے اور تیل کی آمدنی پر انحصار کم کرنے کے لیے غیر تیل شعبوں کی ترقی پر توجہ دے رہے ہیں۔
سہ ماہی بنیاد پر اقتصادی ترقی میں بہتری
موسمی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 1.3 فیصد بڑھی۔ اس کے برعکس، دوسری سہ ماہی میں سعودی معیشت کو 4.8 فیصد سکڑاؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اسی عرصے میں تیل کے شعبے کی سرگرمیوں میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 5.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ غیر تیل شعبے میں بھی 0.6 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب سرکاری شعبے کی سرگرمیاں 1.2 فیصد کم ہوئیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں سعودی معیشت کی صورت حال بہتر ہوئی ہے، تاہم اس کی مجموعی پیداوار اب بھی گزشتہ سال کی اسی مدت کی سطح سے کم ہے۔
تیل کی منڈی اور سعودی برآمدی راستوں میں رکاوٹیں
سعودی عرب کی تیسری سہ ماہی کے اقتصادی اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی جنگ، جو تقریباً آٹھ ماہ قبل شروع ہوئی تھی، نے خطے میں تیل کی پیداوار اور تجارت کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔
ان حملوں کے اثرات سعودی عرب کی توانائی تنصیبات تک بھی پہنچے اور تیل کی ترسیل اور برآمدات کا عمل متاثر ہوا۔ یہ صورت حال آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹوں کے ساتھ پیش آئی۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کم کرنے کے لیے سعودی عرب نے تیل کی کھیپیں ایک پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنے کی کوشش کی۔ یہ پائپ لائن ملک کے مشرقی علاقوں کو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے۔
تاہم ستمبر میں اس پائپ لائن کی تنصیبات پر حملوں کے بعد اسے عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ بعد ازاں تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہوئی اور اس راستے سے برآمدات میں بھی اضافہ ہوا۔
بلومبرگ نے 28 ستمبر کو رپورٹ کیا تھا کہ اس پائپ لائن نے اپنی تقریباً نصف گنجائش کے ساتھ دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ بعد ازاں 2 اکتوبر کو خبر رساں ادارے نے بتایا کہ اس پائپ لائن سے تیل کی ترسیل اس کی مجموعی گنجائش کے 80 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اور جنگ کے دوران برآمد کیے جانے والے تیل کی مقدار بلند سطح تک پہنچ گئی ہے۔
بلومبرگ کی جانب سے گزشتہ بدھ کو جاری کیے گئے بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ توانائی تنصیبات پر حملوں کی لہر کے باوجود سعودی عرب کی تیل کی برآمدات جنگ کے دوران اپنی سطح کے قریب برقرار رہی ہیں۔
اکتوبر میں کشیدگی میں اضافہ؛ سعودی معیشت پر مزید دباؤ
جاری کیے گئے اقتصادی تخمینوں کا تعلق سعودی عرب اور یمن کی مسلح افواج کے درمیان اکتوبر میں کشیدگی کی حالیہ لہر سے پہلے کے عرصے سے ہے۔
اس دوران حملوں اور دھمکیوں کے باعث ریاض آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی پروازوں کا نظام متاثر ہوا، متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں اور بڑے اجتماعات و تقریبات ملتوی کرنا پڑیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے گزشتہ پیر کو رپورٹ کیا کہ ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 8 سے 25 اکتوبر کے درمیان شیڈول کی گئی 4,736 پروازوں میں سے 4,071 منسوخ کر دی گئیں۔
پروازوں کی منسوخی کا سلسلہ سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈوں تک بھی پھیل گیا۔
بحران کے باوجود تیل کے شعبے میں نسبتاً استحکام، دیگر شعبوں پر تشویش
تیل کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹوں کے باوجود خام برینٹ تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے زیادہ برقرار رہی۔ اس صورت حال نے سعودی عرب کے تیل کے شعبے کو نسبتاً مستحکم رکھنے میں مدد دی۔
تاہم سعودی معیشت کے دیگر شعبوں کی صورت حال کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں، کیونکہ جنگ کے اثرات نقل و حمل، تجارت، سیاحت اور کمپنیوں و سرمایہ کاروں کے اعتماد تک پھیل گئے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے گزشتہ اکتوبر میں کہا تھا کہ سعودی عرب کے مالی ذخائر اور تیل کی برآمد کے متبادل راستوں کی موجودگی جنگ کے اثرات کم کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ اس کے مطابق، خلیج فارس کے بعض دیگر عرب ممالک کے مقابلے میں سعودی عرب کو ان رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے بہتر پوزیشن حاصل ہے۔
اس ادارے نے مزید کہا کہ متبادل بنیادی ڈھانچے کے ذریعے تیل کی برآمدات کو تیزی سے منتقل کرنے کی سعودی عرب کی صلاحیت جنگ کے باعث پیدا ہونے والے اقتصادی جھٹکوں کی شدت کم کرنے والے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔
بجٹ خسارہ 4.9 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ، 2026 میں اقتصادی سکڑاؤ کی پیش گوئی
سعودی حکومت نے اپنے سابقہ تخمینوں میں 2026 کے لیے بجٹ خسارے کی پیش گوئی بڑھا کر مجموعی قومی پیداوار کے 4.9 فیصد تک کر دی تھی۔
اس کے علاوہ، پیش گوئی کی گئی تھی کہ رواں سال سعودی معیشت تقریباً 3.6 فیصد سکڑ جائے گی۔ یہ شرح تقریباً اتنی ہی ہے جتنی 2020 میں کورونا وبا کے عروج کے دوران سعودی معیشت میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
آپ کا تبصرہ