بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران فوج کے شعبۂ تعلیم و تربیت کے سربراہ، بریگیڈیئر جنرل محمد رضا علیان نژاد نے فارس نیوز ایجنسی کے سیاسی نمائندے کو بتایا کہ اگر پیشگی کاروائیوں (Anticipatory operations) کی ضرورت پیش آئی تو "افواج نے ضروری تربیت مکمل کر لی ہے اور یہ صلاحیت موجود ہے۔"
ایرانی مسلح افواج کو 40 روزہ مسلح جنگ کے دوران بھی دشمن پر پیشگی کارروائیاں کرنے کا تجربہ رہا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعے میں، جب امریکہ نے اردن میں اپنے فوجی دستوں اور سازوسامان منتقل کیا اور ایران کے خلاف کارروائی کے لیے تیاریاں مکمل کیں، تو ہماری مسلح افواج نے امریکی حملے کے آغاز سے پہلے ہی ان کے خلاف اقدام کر دیا۔
اس کارروائی میں، جو 29 جولائی 2026ع کو صبح سویرے انجام دی گئی، سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس نے اردن میں امریکی فوج کے ایک فضائی اڈے اور کمانڈ سینٹر کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
بریگیڈیئر جنرل محمد رضا علیان نژاد نے مزید کہا کہ "ہمارا دفاعی نظریہ ہے، لیکن فوجی دستوں کو نفوذ اور حملے کی تربیت تمام سطحوں پر اور مختلف آلات کے ساتھ، دی گئی ہے"؛ فضائیہ سے لے کر زمینی فوج اور بحریہ تک، جو کمانڈر کی ہدایت پر عمل درآمد کی اہلیت رکھتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ