اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں برطانیہ کی غیر قانونی اور مخالفانہ سرگرمیوں کے جواب میں ایران کی جانب سے جوابی اقدامات کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
بیان میں برطانوی حکومت کی ایران مخالف پالیسیوں اور اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین، بالخصوص قومی خودمختاری کے احترام اور دوسرے ممالک کے خلاف غیر قانونی اقدامات سے گریز کے اصولوں کے منافی ہیں۔ وزارت خارجہ نے ایران کی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی حکومت کی گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کے خلاف مخالفانہ کارروائیوں کے جواب میں یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کارروائیوں میں ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی مسلط کردہ جنگ میں برطانیہ کی شرکت بھی شامل ہے، جس کے لیے برطانوی دائرہ اختیار میں موجود فوجی اڈے اور فوجی و رسدی سہولیات فراہم کی گئیں۔
بیان میں برطانوی حکومت کے اس فیصلے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے تحت 13 جولائی 2026 کو پاسداران انقلاب اسلامی کو برطانیہ کے قانون اسٹیٹ تھریٹس ایکٹ 2026 کے تحت شامل کیا گیا تھا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے درج ذیل اقدامات کا اعلان کیا ہے:
1۔ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس مخالف گروہ قرار
بیان کے مطابق، یکم نومبر 2026 کو اس بیان کے اجرا کے وقت سے برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کو جاسوسی اور صیہونی حکومت و مخالف ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے قومی سلامتی اور مفادات کو نقصان پہنچانے کے جرم کی سزا سے متعلق قانون کے آرٹیکل 1 کی شق 2 کے تحت مخالف گروہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس قانون کی متعلقہ دفعات اس برطانوی ادارے پر بھی لاگو ہوں گی۔
2۔ برطانوی بحریہ اور فضائیہ دہشت گرد تنظیمیں قرار
ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ کی شاہی بحریہ اور شاہی فضائیہ کو امریکہ کی جانب سے پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے جواب میں جوابی کارروائی سے متعلق ایرانی قانون کے تحت دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور باہمی جوابی کارروائی کے اصول کے مطابق کیے گئے ہیں اور ان کے نتائج کی ذمہ داری برطانوی حکومت پر عائد ہوگی۔
آپ کا تبصرہ