بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بین الاقوامی تعلقات کے ممتاز نظریہ ساز اور شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جان میئر شیمر کا ماننا ہے کہ ایران میں سیاسی ارادے اور ثابت شدہ فوجی طاقت کے باہمی ربط نے ٹرمپ کو ایک دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے: "جنگ جاری رکھنا اور اس کے نتیجے میں بڑی تباہی، یا شکست قبول کرنا اور ایران کو بڑی رعایتیں دینا۔" وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ امریکی خارجہ پالیسی کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے جس کا سب سے چھوٹا نتیجہ علاقے میں واشنگٹن کے اڈوں، مقام اور وقار کا زوال ہے۔
دوسری اور آخری قسط:
بحری ناکہ بندی بھی ٹرمپ کو موجودہ تعطل سے نکال نہیں سکتی
میئر شیمر کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کی وسیع فضائی کارروائی پر واپس آنے اور اس کے نتیجے میں طویل جنگ میں الجھنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے واشنگٹن بحری ناکہ بندی کی طرف مڑ گیا ہے، لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ناکہ بندی، اگر واقعی ایران کو پیچھے ہٹنے اور امریکی مطالبات قبول کرنے پر مجبور کرتی ہے تو اسے طویل عرصے تک جاری رکھنا ہوگا، اور ایسا کرنا امریکی بحریہ کی موجودہ صلاحیت سے باہر ہے۔
ان کے مطابق، امریکی بحریہ شدید دباؤ اور تھکاوٹ کا شکار ہے اور طویل مدتی ناکہ بندی کے لئے تیار نہیں ہے۔ علاوہ ازیں، ناکہ بندی بنیادی طور پر جنگ ختم کرنے کا فوری ذریعہ نہیں ہے اور اس میں مہینوں یا سالوں کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
میئر شیمر نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ تصور کہ واشنگٹن ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکتا ہے، ایک غلط حساب اور گمراہ کن حکمت عملی ہے۔ امریکہ کی فوجی مشکلات اور رکاوٹیں، خاص طور پر گولہ بارود کا بحران اور آپریشنل صلاحیتوں کی فرسودگی، عملاً ٹرمپ کے ہاتھ باندھ چکی ہے اور توازن تبدیل کرنے کے لئے مؤثر فوجی کاروائیوں کو کم سے کم کر دیا ہے۔
ان کا خیال ہے کہ یہ صورت حال بالآخر امریکہ کو ایران کے زیادہ تر مطالبات قبول کرنے کی طرف دھکیل دے گی۔
ایران کا ردعمل سے فعال اقدام کی طرف منتقلی کا رویہ مکمل طور پر عیاں ہے
اس گفتگو کا سب سے اہم حصہ میئر شیمر کی ایران کے جنگی رویئے میں تبدیلی کے بارے میں وضاحت ہے۔
ان کا خیال ہے کہ ایران کی ردعمل پر مبنی اقدامات سے جارحانہ حکمت عملی کی طرف منتقلی، امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں پر فوجی دباؤ میں اضافے کے ساتھ، جنگ کے اگلے مرحلے کی شکل متعین کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق، ایران میں حکومت اب اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ "حملہ بہترین دفاع ہے"۔ اسی لئے تہران ممکنہ طور پر پہل کو پہلے سے زیادہ ہاتھ میں لینے، آبنائے ہرمز میں دباؤ بڑھانے، انصاراللہ کے ساتھ باب المندب میں نقل و حمل محدود کرنے کے لئے تعاون بڑھانے، امریکی مفادات سے منسلک تیل کی اہم تنصیبات اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے، اور علاقے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملوں کو ترجیح دینے کی کوشش کرے گا۔
ان کے نزدیک، اس طرح کے اقدامات عالمی معیشت پر دباؤ بڑھائیں گے اور امریکہ کی جنگ ختم کرنے کی رغبت کو تقویت دیں گے۔
ایران کی میزائل طاقت، علاقے میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کی بنیادی وجہ
میئر شیمر امریکہ اور خلیجی ممالک کے درمیان اعتماد اور سیکیورٹی تعلقات کا نقصان اس جنگ کے سنگین نتائج کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔ امریکی اڈے نہ صرف میزبان عرب ریاستوں کے لئے تسدید (Deterrence) اور سلامتی فراہم کرنے میں ناکام رہے بلکہ ان کے لئے قابلِ ذکر اقتصادی اور سیاسی نقصانات بھی لے کر آئے۔
میئر شیمر زور دیتے ہیں کہ اب مسئلہ علاقائی ریاستوں کا امریکی اڈوں کو دوبارہ قبول کرنے کا رجحان نہیں ہے، بلکہ خود واشنگٹن کو بھی ان اڈوں کی تعمیر نو کا کوئی خاص شوق نہیں ہے، کیونکہ ان کی تعمیر نو بہت مہنگی ہے اور اگر کوئی اور جنگ ہوئی تو ان کی تباہی یقینی ہے۔
میئر شیمر کے مطابق، ایران کی میزائل صلاحیتوں میں نمایاں بہتری، بشمول بیلسٹک اور کروز میزائل، جو درست، حرکت پذیر اور طاقتور وار ہیڈز سے لیس ہیں، نے خلیج فارس میں امریکی اڈوں کی واپسی کو بہت مہنگا اور سیکیورٹی کے لحاظ سے مشکل بنا دیا ہے۔ اسی لئے، اس جنگ نے علاقے میں امریکی فوجی موجودگی پر مکمل طور پر مہر لگا دی اور اسے علاقے کے سیکیورٹی ضامن کے مقام سے نیچے گرا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ