بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنی حکمرانی کے دور کے سب سے بڑے بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ یمن کی انصاراللہ نے سعودی سرزمین پر اپنے حملے شدید تر کر دیئے ہیں؛ جبکہ دوسری طرف سے ریاض کے اتحادی براہ راست جنگ میں داخل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔
انصاراللہ کی ڈرون اور میزائل حملوں کی مہم اب تک کم از کم 18 افراد کی ہلاکت کا باعث بنی ہے اور سعودی عرب کے مرکزی ہوائی اڈے کو بند کر دیا ہے۔
ان حملوں نے سعودیہ کی دفاعی صلاحیت کو دباؤ سے دوچار کر دیا ہے؛ سعودی عرب کی سینکڑوں پروازیں اب بھی معطل ہیں، اسکول آنلائن تعلیم کی طرف چلے گئے ہیں اور دارالحکومت کے مالی مرکز کی سرگرمیاں بھی بلا واسطہ اور آنلائن ہو رہی ہیں۔
یہ صورتحال، ریاض میں سب سے اہم بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اجلاس سے دو ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل، پیش آئی ہے۔
بن سلمان کو اب 2017 کے بعد سے اب تک، پہلی بار، اپنے اتحادیوں کی ـ سب سے زیادہ ـ ضرورت ہے، یعنی اس وقت جب انھوں نے عملی طور پر ملک کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔
لیکن یمن میں انصاراللہ کے اپنے ٹھکانوں سے سعودی عرب کی گہرائی تک جاری حملوں کی وجہ سے، ممکن ہے کہ ریاض کے پاس اس خطرے سے نمٹنے کے آپشنز محدود ہوں۔
کولمبیا یونیورسٹی میں عالمی توانائی پالیسی کے مرکز کی سینئر محقق کیرن ینگ نے اس بارے میں بلومبرگ نیوز نیٹ ورک کو بتایا: "سعودی ولی عہد بہت مشکل صورتحال میں ہیں۔ انہیں حملوں کا جواب دینا ہے، لیکن ساتھ ہی انہیں جلد از جلد اس صورتحال کو حل بھی کرنا ہے تاکہ وہ معیشت پر دوبارہ توجہ مرکوز کر سکیں۔"
پرانی جنگ کی طرف واپسی
بن سلمان نے 2015 میں سعودی عرب کو یمن کی انصاراللہ کے خلاف جنگ میں اتارا؛ یہ اقدام ان کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا جوّا سمجھا جاتا تھا۔
لیکن سعودی قیادت میں اتحاد انہیں انصار اللہ اقتدار سے ہٹانے میں ناکام ہؤا اور انصاراللہ اس وقت سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔
اب سعودی لڑاکا طیارے ایک بار پھر انصاراللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ریاض کے یمنی اجرتیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے جنہیں شدیدترین شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بہرحال، وہ تنازع ـ صنعاء ایئرپورٹ پر سعودی بمباری کے بعد بن سلمان کے اپنے ہاتھوں ـ دوبارہ زندہ ہو گیا ہے جس سے نکلنے کے لئے انھوں نے برسوں کوشش کی تھی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ