بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی صدر، نے گذشتہ دو سالوں میں متعدد بار امریکی سرحدوں میں تبدیلی، دوسرے ممالک کی سرزمینوں پر قبضہ، یا اسٹراٹیجک علاقوں کو امریکی کنٹرول میں لینے کے منصوبے پیش کیے ہیں۔ اس کا تازہ ترین دعویٰ یہ تھا کہ "ایران کو شکست دینے" کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے گا، حالانکہ ماہرین اسے عملی اور قانونی طور پر ناممکن قرار دیتے ہیں اور عملی طور پر وہ ایسا کرنے سے عاجز رہا ہے اور رہے گا۔
گرین لینڈ: طویل ترین مگر ناکام کوشش
ٹرمپ نے پہلی بار 2019 میں ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنے کی تجویز دی، جسے غیر معمولی خیال کیا گیا۔ 2025 میں وائٹ ہاؤس واپسی پر اس نے اس پر زور دیا اور فوجی کارروائی سے انکار نہ کیا۔ 2026 میں مذاکرات ہوئے مگر گرین لینڈ ڈنمارک کی خودمختاری میں ہے اور کوئی منتقلی نہیں ہوئی۔ ماہرین کے مطابق اس کا کوئی قانونی راستہ نہیں ہے۔
کینیڈا کو 51ویں ریاست بنانے کا خواب
ٹرمپ نے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کا خیال بارہا اٹھایا، جسے اس نے "قدرتی" اور "بہترین" آپشن قرار دیا۔ مگر یہ کینیڈا کی حکومت اور عوام کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ہے، اور کینیڈا کے آئین اور سیاسی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی۔
پاناما کینال: "واپس لینے" کا غیر حقیقی دعویٰ
ٹرمپ نے پاناما کینال "واپس لینے" کی بات کی، حالانکہ 1977 کے معاہدے کے تحت 1999 میں یہ پاناما کو منتقل ہو چکی تھی۔ امریکہ کے پاس اب کوئی قانونی حق نہیں، اور اس اقدام کا مطلب پاناما کے خلاف طاقت کا استعمال ہوگا۔ بعد میں امریکی پالیسی تعاون اور رسائی بڑھانے پر مرکوز رہی مگر کوئی نمایاں کامیابی نہیں ملی۔
غزہ کو "مشرق وسطیٰ کا ریویریا" بنانے کا منصوبہ
فروری 2025 میں ٹرمپ نے غزہ پر امریکی کنٹرول، فلسطینیوں کی نقل مکانی، اور اسے سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کی تجویز دی۔ مگر اس کے لیے 20 لاکھ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی ضروری تھی، جسے مصر، عرب ممالک اور فلسطینی رہنماؤں نے مسترد کر دیا۔ لاگت 100 ارب ڈالر اور وقت 10-15 سال درکار تھا، اور کوئی ملک فلسطینیوں کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھا، اس لیے یہ منصوبہ عملی طور پر ناکام رہا۔
کیوبا پر قبضے کی خواہش
مارچ 2026 میں ٹرمپ نے کیوبا پر قبضے کا ذکر کیا، مگر امریکی فوجی کمانڈر نے واضح کیا کہ فوج کیوبا پر حملے کی تربیت حاصل نہیں کر رہی ہے اور اس کے لئے تیاری بھی نہیں ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق واشنگٹن فوجی کارروائی کے بجائے معاشی دباؤ کو ترجیح دے گا، کیونکہ ٹرمپ کو ایک اور جنگ کا خطرہ مول لینے کے بجائے تیز اور سستا راستہ زیادہ پسند ہے۔
آبنائے ہرمز پر تازہ دعویٰ
ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے گا، اور یہ کہ یہ آبنائے اس وقت بھی امریکی کنٹرول میں ہے، جو ایک سفید جھوٹ ہے۔ ادھر وائٹ ہاؤس سے خبریں باہر آئیں کہ ٹرمپ نے صرف ایک مذاق کیا تھا جبکہ ماہرین بھی اس کے اس قسم کے دعوؤں کو محض حامیوں کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس کا کوئی قانونی اور عملی راستہ نہیں ہے اور یہ آبنائے پوری طرح ایران کے کنٹرول میں ہے۔
نتیجہ خیز ناکامیاں
ان تمام توسیع پسندانہ دعوؤں کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ کی باتوں اور عملی حقیقت کے درمیان بڑا فرق اور فاصلہ ہے۔ ہر معاملے میں قانونی رکاوٹیں، بین الاقوامی مخالفت، اور عملدرآمد کی واضح حکمت عملی کا فقدان نیز فوجی صلاحیت کا فقدان، جیسے مسائل حائل ہیں۔ یہ دعوے زیادہ تر سیاسی بیانات، دباؤ ڈالنے کی تدابیر، یا حامیوں کو متاثر کرنے کے لئے خالی خولی نعرے ہیں، اور اب تک کوئی بھی ملک یا علاقہ عملاً امریکہ کا حصہ نہیں بنا۔ ٹرمپ کی ان خواہشات کا اصل حاصل صرف گفتگو اور مذاکرات تک محدود رہا ہے۔
ٹرمپ اپنے عزائم اپنے ساتھ قبر میں لے جائے گا، جس طرح کہ اس سے پہلے کے امریکی صدور بھی اپنے عزائم اپنے ساتھ قبر میں لے گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: اخسان احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ