30 جولائی 2026 - 15:45
ایران تاریخ سازی کی دہلیز پر؛ ٹرمپ کے پاس بس صرف 'ایک'  راستہ باقی ہے – 2

ٹرمپ کو دو شکستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا / ٹرمپ کو صہیونیوں نے ایسی جنگ میں پھنسایا ہے جس میں جیت ناممکن ہے /  ٹرمپ حتیٰ کہ ایک جنگ کا انتظام کرنے سے بھی قاصر و عاجز ہے، جنگ جیتنا تو دور کی بات ہے / ٹرمپ نے "اب تک کی کسی بھی چیز سے بڑا، زبردست حملہ" کرنے کی دھمکی دی اس کا فیصلہ حملے میں تبدیل نہ ہو سکا / پینٹاگون نے مئی سے جولائی تک تقریباً 160 ملین بیرل مصنوعات (تقطیر شدہ خام تیل اور جیٹ ایندھن) بیرون ملک بھیج کر خرچ کر دیں! / ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا: "ہم ان [ایرانیوں] سے بات چیت کر رہے ہیں۔" لیکن ایران نے ٹرمپ حکومت کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

دوسری قسط:

▬ میں چند روز قبل، اپنے ایک سرمایہ کار دوست سے بات کر رہا تھا اور میں نے اس سے پوچھا کہ کیا مجھے حرارتی تیل (Heating Oil) فراہم کرنے والوں کے ساتھ میں سے کسی ایک قیمت قیمت مقرر کرنے کے والے کسی معاہدے میں داخل ہونا چاہئے۔ ہمارا یہ دوست عام طور پر اس قسم کے سوالات کے معقول جوابات دیتا ہے، لیکن اس بار، میں تقریباً فون پر ان کے کندھے اچکانے کی کیفیت محسوس کر سکتا تھا۔ پریشانی کے ملے جلے لہجے میں، بولا: "ٹرمپ اسے کس طرح ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس نے منڈیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ آگے کا راستہ کیا ہے؟ کسی کو بھی اس مخمصے سے اس کے نکلنے کا راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔"

لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ وہ ان صہیونیوں کی اطاعت میں ـ جنہوں نے اس کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے، ـ ایسی جنگ میں الجھ گیا ہے جس میں کبھی جیت کا کوئی امکان نہیں تھا اور نہیں ہے، اور ابھی اسی لمحے، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہؤا ہے۔

ٹرمپ نے ایرانیوں کے ساتھ اتنی دھوکہ دہیاں کی ہیں کہ اس نے خود ہی تمام سفارتی راستے بند کر دیئے ہیں۔ ٹرمپ یہ بھی نہیں جانتا اس کی لاپروائی کی اس جنگ کو ہارے تو کیونکر ہارے، جیتنا تو بہت دور کی بات ہے، میرے خیالم يں مختصر کہانی یہی ہے۔

▬ میں نے واشنگٹن کے سیاستدانوں کو بہت سے مشکل حالات میں دیکھا ہے؛ جن سے وہ عام طور پر اپنی ہی سازشوں اور غلط اندازوں کی وجہ سے دوچار ہوتے ہیں۔ لیکن میں نے شاذ و نادر ہی، اور شاید کبھی نہیں، کسی سیاستدان کو دیکھا ہے جو [درخت] کی کسی شاخ پر بیٹھا ہو اور خود اسے کاٹ رہا ہو [حالانکہ شاخ کاٹنے سے وہ خود نیچے گرے گا]۔ پورے گذشتہ ہفتے، ٹرمپ نے اس جنگ کو تیز کرنے کی اپنی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھا جس پر اسے نیتن یاہو نے گذشتہ فروری میں شروع کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

جولائی کے وسط میں نشر ہونے والے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں، اس نے کہا: "اگلے ہفتے، ان [ایرانیوں] کے لئے حالات واقعی خراب ہو جائیں گے۔" اور "اگلا ہفتہ" وہی ہفتہ تھا جو ہم نے گذار دیا [اور ایرانیوں کے لئے حالات ویسے کے ویسے رہے]۔

ٹرمپ نے اپنے معمول کے مطابق، لاپروائی اور بے فکری میں کہا: "ہم ان کے تمام پاور پلانٹس کو تباہ کر دیں گے۔ ان کے تمام پلوں کو تباہ کر دیں گے، جب تک کہ وہ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھیں گے اور مذاکرات شروع نہیں کریں گے!۔" لیکن گذشتہ جمعہ، جب کوئی بھی مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھا تھا، ٹرمپ نے آیکسیوس میں وائٹ ہاؤس کے صہیونی-اسرائیلی ترجمان، بارک راوید (Barak Ravid) کو بتایا: "میں ایک زبردست حملے پر غور کر رہا ہوں۔ اب تک کی کسی بھی چیز سے بڑا حملہ۔ میں فیصلے کے قریب پہنچ رہا ہوں۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: حامد حاجی حیدری، فیکلٹی ممبر، تہران یونیورسٹی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha