30 جولائی 2026 - 13:19
ایران تاریخ سازی کی دہلیز پر؛ ٹرمپ کے پاس بس صرف 'ایک'  راستہ باقی ہے – 1

ٹرمپ کو دو شکستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا / ٹرمپ کو صہیونیوں نے ایسی جنگ میں پھنسایا ہے جس میں جیت ناممکن ہے /  ٹرمپ حتیٰ کہ ایک جنگ کا انتظام کرنے سے بھی قاصر و عاجز ہے، جنگ جیتنا تو دور کی بات ہے / ٹرمپ نے "اب تک کی کسی بھی چیز سے بڑا، زبردست حملہ" کرنے کی دھمکی دی اس کا فیصلہ حملے میں تبدیل نہ ہو سکا / پینٹاگون نے مئی سے جولائی تک تقریباً 160 ملین بیرل مصنوعات (تقطیر شدہ خام تیل اور جیٹ ایندھن) بیرون ملک بھیج کر خرچ کر دیں! / ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا: "ہم ان [ایرانیوں] سے بات چیت کر رہے ہیں۔" لیکن ایران نے ٹرمپ حکومت کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

پہلی قسط:

اہم نکات:

☼ ٹرمپ مجبور ہے کہ "جنگ میں شکست" یا پھر "اقتصاد اور انتخابات میں شکست"، میں سے ایک کا انتخاب کرے۔ مقبولیت میں کمی اور معاشی دباؤ کو دیکھتے ہوئے، ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ "باوقار مصالحت" (جیسے ویتنام جنگ کے خاتمے) کا راستہ چن لے گا؛ گوکہ اس کا مطلب شکست قبول کرنا اور جنگ سے نکلنا ہوگا۔ یہ فیصلہ، چاہے ٹرمپ کے لئے تلخ ہی کیوں نہ ہو، موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ ۔

☼ ٹرمپ کو صہیونیوں نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے، اور وہ کی اطاعت میں ایسی جنگ میں الجھ گیا ہے جس میں کبھی جیت کا کوئی امکان نہیں تھا اور نہیں ہے۔ اب فوجی آپشن ریزہ ریزہ ہو رہا ہے۔ ایرانیوں نے، ٹرمپ کی پے در پے دھوکہ دہی کے بعد، تمام سفارتی راستے بند کر دیئے ہیں۔ ٹرمپ جیت تو نہیں سکتا لیکن وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ اپنی لاپروائی پر مبنی اس جنگ کو ہار لے تو کیونکر ہار لے۔

☼ ٹرمپ حتیٰ کہ ایک جنگ کا انتظام کرنے سے بھی قاصر و عاجز ہے، جنگ جیتنا تو دور کی بات ہے۔ اس کا دشمن ان سے گفتگو کرنے سے بھی انکار کر رہا ہے۔ ہاں وہ [بھلا ظاہری طور پر ہی کیوں نہ ہو] صہیونی ریاست سے بھی الجھ گیا ہے۔ نیتن یاہو، واشنگٹن کے دورے سے پہلے، ٹرمپ کو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن ٹرمپ نے جمعہ کی رات اپنی پسپائی کے ذریعے نیتن یاہو کی اس سوچ پر سبقت لے لی۔

☼ گذشتہ ہفتے، ٹرمپ نے "اب تک کی کسی بھی چیز سے بڑا، زبردست حملہ" کرنے کی دھمکی دی تھی۔ لیکن ایک دن بعد، فوجی مشیروں کے ساتھ ملاقات کے بعد، اس کا فیصلہ کسی بھی حملے میں تبدیل نہیں ہؤا۔ امریکی فوج کا گولہ بارود (فضائی دفاعی نظام، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل) اور تیل کے ذخائر اختتام پذیر ہو رہے ہیں۔

☼ پینٹاگون نے مئی سے جولائی تک تقریباً 160 ملین بیرل مصنوعات (تقطیر شدہ خام تیل اور جیٹ ایندھن) بیرون ملک بھیج دیں تاکہ مغربی ایشیا میں اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکے۔ ذخائر کا یہ استعمال تیل کے امریکی اسٹراٹیجک ذخائر سے حالیہ نکالی گئی کل مقدار کے 90 فیصد کے برابر ہے۔ اسٹراٹیجک ذخائر اب تقریباً 300 ملین بیرل رہ گئے ہیں اور قاعدے کے مطابق ان  ذخائر کم از کم 250 ملین تک ہونا چاہئے۔ یعنی اگر 50 ملین مزید تیل نکالا جائے تو نصاب پورا ہوگا اور بحران کا آغاز ہوجائے گا۔

☼ ادھر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا: "ہم ان [ایرانیوں] سے بات چیت کر رہے ہیں۔" لیکن ایران نے ٹرمپ حکومت کے ساتھ کسی بھی مذاکرات کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانیوں کو ٹرمپ پر متعدد دھوکہ دہیوں کے بعد اعتماد نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں مذاکرات کے لئے ایک عمانی وفد تہران گیا ہے، لیکن ایران کہتا ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔ [عمانی وفد کا ایران-امریکہ مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے]۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: حامد حاجی حیدری، فیکلٹی ممبر، تہران یونیورسٹی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha